Tuesday , July 17 2018
Home / شہر کی خبریں / جون تک اقامتی اسکولس میں اساتذہ کے تقررات

جون تک اقامتی اسکولس میں اساتذہ کے تقررات

اردو میڈیم کے اساتذہ بھی شامل ، اسمبلی میں وزیر تعلیم کڈیم سری ہری کا بیان
حیدرآباد ۔ 28 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے بتایا کہ آئندہ تعلیمی سال کے آغاز جون تک اقامتی اسکولس میں 8,434 ٹیچرس کے جائیدادوں پر تقررات کردئیے جائیں گے ۔ اس کے علاوہ سرکاری اسکولس کے مزید 8 ہزار ٹیچرس کا تقرر کیا جارہا ہے ۔ جس میں اردو میڈیم اسکولس کے بھی ٹیچرس شامل ہیں ۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران اقامتی اسکولس پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے اقامتی اسکولس کو ملک کی منفرد اسکیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تین سال قبل حکومت نے ایس سی ایس ٹی طلبہ کے لیے اقامتی اسکولس کا قیام عمل میں لایا تھا بعد میں بی سی اور اقلیتی طلبہ کے لیے بھی اقامتی اسکولس قائم کئے گئے ہیں ۔ سارے تلنگانہ میں ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتی طلبہ کے لیے جملہ 503 اقامتی اسکولس قائم کئے گئے جو مختلف سوسائٹیز کے تحت چلائے جارہے ہیں ۔ جاریہ سال کے بجٹ میں ان اقامتی اسکولس کے لیے 2.20 ہزار کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے ۔ فی طالب علم پر سالانہ ایک لاکھ روپئے خرچ کرتے ہوئے انہیں کارپوریٹ طرز کی تعلیم فراہم کی جارہی ہے ۔ ان اسکولس میں 2744 تدریسی عملے کا تقرر کیا گیا ہے ۔ ان اقامتی اسکولس میں 8434 ٹیچرس کا تقرر کرنے کے لیے تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کے تحت اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اور امتحانات کا بھی انعقاد کیا گیا ہے ۔ چند زمروں میں ٹیچرس کا بھی تقرر ہوگیا ۔ ماباقی پرچوں کی جانچ جاری ہے ۔ آئندہ تعلیمی سال کے آغاز جون تک تمام جائیدادوں پر تقررات کا عمل مکمل ہوجائے گا۔ اردو ٹیچرس کے تقررات سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کڈیم سری ہری نے بتایا کہ سرکاری اسکولس میں بھی 8 ہزار سے زائد ٹیچرس کے تقررات کیے جارہے ہیں جس میں اردو میڈیم اسکولس کے ٹیچرس بھی شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں صرف 290 اقامتی اسکولس قائم کئے گئے تھے تاہم تین سال کے دوران تلنگانہ حکومت نے 500 سے زائد اقامتی اسکولس قائم کئے ہیں اس سے حکومت کی تعلیمی دلچسپی کا اندازہ ہوتا ہے ۔ اقامتی جونیر و ڈگری کالجس بھی قائم کئے جارہے ہیں ۔ کے جی تا پی جی مفت تعلیم فراہم کرنے کی جانب حکومت ثابت قدمی سے آگے بڑھ رہی ہے ۔ رکن اسمبلی انجیا نے اقامتی اسکولس میں داخلوں کے لیے ضلع کے بجائے منڈل کو یونٹ بنانے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ مقامی طلبہ کو زیادہ سے داخلے کے مواقع حاصل ہوسکے جو کہ ایک اچھی تجویز ہے ۔ جس پر وہ چیف منسٹر کے سی آر سے مشاورت کرتے ہوئے قطعی فیصلہ کریں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT