Thursday , September 20 2018
Home / جرائم و حادثات / جوّے کے اڈوں اور قمار بازوں سے پولیس کو رقم بٹورنے سے روکنے کے اقدامات

جوّے کے اڈوں اور قمار بازوں سے پولیس کو رقم بٹورنے سے روکنے کے اقدامات

اڈوں پر ویڈیو گرافی اور قمار بازوں کے دستخط لینے کا نیا طریقہ متعارف

اڈوں پر ویڈیو گرافی اور قمار بازوں کے دستخط لینے کا نیا طریقہ متعارف
حیدرآباد ۔ 23 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : سائبر آباد پولیس نے جوے کے اڈوں پر دھاوے کی ویڈیو گرافی اور قمار بازوں سے دستخط حاصل کرنے کے نئے طریقہ کار کو رائج کیا ہے ۔ قمار بازی کے ٹھکانوں پر دھاوے کے دوران پولیس کو الزامات سے محفوظ رکھنے اور گھر کے چوروں پر نظر رکھنے اس طریقہ کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے ۔ چونکہ قمار بازی کے ٹھکانوں پر دھاوے کے بعد ضبط شدہ رقم کو ہڑپ لینے اور کم رقم پیش کرنے کے پولیس پر الزامات پائے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ دھاوؤں کے دوران پولیس کارروائی سے بچنے کے لیے جان کو جوکھم میں ڈالنے کے اقدامات بھی ان دنوں منظر عام پر آئے ہیں ۔ یاد رہے کہ مادھا پور زون میں دو افراد نے بلندی سے چھلانگ لگادی تھی جس وقت پولیس نے قمار بازی کے ٹھکانے پر دھاوا کیا تھا جب کہ ایک اور ایسا واقعہ ہے جہاں قمار بازوں کی ٹھکانے پر دھاوے کے بعد دو پولیس ملازمین نے رقم ہڑپ لی تھی اور قمار بازوں کو دھمکایا جارہا تھا ۔ جیڈی میٹلہ پولیس عملہ کی اس حرکت پر برہم کمشنر نے دو ملازمین کو معطل بھی کردیا تھا ۔ تاہم اب پولیس کے کردار میں مزید سدھار اور الزامات کی تلافی کے لیے انوکھے اقدامات کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ اس طریقہ کار کے مطابق اب جب بھی پولیس قمار بازی کے اڈہ پر دھاوا کرے گی ۔ قمار بازوں سے ایک فارم پر دستخط بھی لیے جائیں گے ۔ سائبر آباد پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں نے ایک خصوصی فارمیٹ کے فارم کو بھی رائج کردیا ہے ۔ کارروائی کے بعد دھاوا کرنے والے پولیس ملازمین قمار بازوں کی تفصیلات کے بعد ضبط شدہ رقم کو بھی اس فارم میں درج کریں گے اور قمار بازوں کی اس پر دستخط لی جائے گی ۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کا ماننا ہے کہ اس طریقہ کار سے پولیس پر الزامات کی نہ صرف تلافی ہوگی بلکہ خود پولیس ملازمین بھی اپنی حرکتوں سے باز رہیں گے ۔ گذشتہ کچھ عرصہ سے سائبر آباد میں اسپیشل آپریشن ٹیم کی جانب سے قمار بازی کے ٹھکانوں پر دھاوے اور کارروائی تیز کردی گئی ہے ۔ تاہم ان کارروائیوں کے بعد ضبط شدہ رقم کی تفصیلات کے تعلق سے ایک بے چینی پائی جاتی ہے اور کئی پولیس اسٹیشن حدود میں مقامی پولیس کی کارروائیاں صرف روایتی ثابت ہورہی ہیں ۔ کسی اعلیٰ عہدیدار تک شکایت پہونچنے اور دباؤ کی صورت میں کارروائی ، دیگر صورت معمول کی دوڑ میں کارروائی نہیں کی جاتی اور مسئلہ کو دیکھا ان دیکھا کردیا جاتا ہے ۔ تاہم اب اس نئے طریقہ کار سے قمار بازوں کی حرکتوں اور ان کی پشت پناہی کے الزامات کو روکنے کی اعلیٰ عہدیدار فکر کررہے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ سال قمار بازی کے ٹھکانوں پر کارروائی کے 179 واقعات میں ایک کروڑ 34 لاکھ روپئے رقم ضبط کرلی گئی اور اس سال تاحال 50 کارروائیوں میں 30 لاکھ روپئے ضبط کرلیے گئے ۔ امکان ہے کہ بہت جلد اس نئے طریقہ پر عمل آوری کا آغاز کردیا جائے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT