Wednesday , January 24 2018
Home / کھیل کی خبریں / جوکووچ فرنچ اوپن کے بدقسمت کھلاڑیوں کی فہرست سے باہر آنے کیلئے پرعزم

جوکووچ فرنچ اوپن کے بدقسمت کھلاڑیوں کی فہرست سے باہر آنے کیلئے پرعزم

پیرس ۔9 جون ۔(سیاست ڈاٹ کام) گزشتہ چار برسوں کے دوران تین فائنلس کھیلنے کے باوجود کیرئیر میں پہلا فرنچ اوپن خطاب حاصل کرنے میں ناکام ہونے والے عالمی نمبر ایک سربیائی ٹینس اسٹار نواک جوکووچ اُن کھلاڑیوں کی فہرست میں موجود ہیں جو اپنے دور میں بہترین کھلاڑی تصور کئے جانے کے علاوہ سبکدوشی کے بعد انھیں عظیم کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل کی

پیرس ۔9 جون ۔(سیاست ڈاٹ کام) گزشتہ چار برسوں کے دوران تین فائنلس کھیلنے کے باوجود کیرئیر میں پہلا فرنچ اوپن خطاب حاصل کرنے میں ناکام ہونے والے عالمی نمبر ایک سربیائی ٹینس اسٹار نواک جوکووچ اُن کھلاڑیوں کی فہرست میں موجود ہیں جو اپنے دور میں بہترین کھلاڑی تصور کئے جانے کے علاوہ سبکدوشی کے بعد انھیں عظیم کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے تاہم فرنچ اوپن خطاب کے اعتبار سے انھیں بدقسمت کھلاڑی قرار دیا جاتا ہے ۔ اس فہرست میں 14 گرانڈ سلام خطابات حاصل کرنے والے سابق عالمی نمبر ایک امریکی ٹینس اسٹار پٹ سمپراس جنھوں نے 7 ومبلڈنس ، 5 یو ایس اوپن اور 2 آسٹریلین اوپن خطابات حاصل کئے ہیں تاہم وہ فرنچ اوپن حاصل نہیں کرپائے ۔ سمپراس 13 مرتبہ فرنچ اوپن خطاب حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم ہر مرتبہ وہ ناکام رہے جبکہ 1996 ء میں وہ سیمی فائنل تک ہی رسائی حاصل کرپائے جبکہ 2002 ء میں جب وہ 30 برس کی عمر میں آخری مرتبہ فرنچ اوپن میں شرکت کی تب انھیں پہلے ہی راؤنڈ میں شکست برداشت کرنی پڑی ۔

اس فہرست میں دوسرے کھلاڑی اسٹیفن ایڈبرگ شامل ہیں جنھوں نے دو مرتبہ آسٹریلین اوپن اور ایک مرتبہ ومبلڈن و یو ایس اوپن خطاب حاصل کیا تاہم کلے کورٹ پر وہ خطاب حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ ایڈبرگ کا فرنچ اوپن میں بہترین مظاہرہ 1989 ء میں رہا جہاں انھیں فائنل میں نوجوان کھلاڑی مائیکل چانگ کے خلاف شکست برداشت کرنی پڑی ۔ سمپراس کی طرح ہی ایڈبرگ بھی 13 مرتبہ فرنچ اوپن میں شرکت کی تاہم وہ خطاب حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے ۔ جوکووچ جنھیں اتوار کو سوئٹزرلینڈ کے اسٹانسلس واورنکا کے خلاف فائنل میں پہلا سٹ جیتنے کے باوجود چار سٹوں کے مقابلے میں ناکامی برداشت کرنی پڑی ان کے کوچ بورس بیکر بھی فرنچ اوپن کے معاملے میں بدقسمت کھلاڑی ہیں جنھوں نے اپنے کیرئیر میں تین ومبلڈن ، دو آسٹریلین اور ایک یو ایس اوپن حاصل کیا لیکن 1987 ء ، 1989ء اور 1991 ء میں تین سیمی فائنلس کھیلنے کے باوجود بورس کو فرنچ اوپن خطاب حاصل نہیں ہوا ۔ ان کے علاوہ جان مائیک اینروی بھی پیرس میں ناکام کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہیں حالانکہ انھوں نے چار یو ایس اوپن اور تین ومبلڈن خطاب بھی حاصل کئے ہیں ۔ 1984ء میں انھیں آئیون لینڈل کیخلاف فائنل میں شکست ہوئی تھی ۔ جوکووچ جنھوں نے فرنچ اوپن 2015 ء کے کوارٹر فائنل میں نڈال کو شکست دیکر خطاب کیلئے اپنی دعویداری کو مزید مضبوط کرلیا تھا تاہم وہ ہنوز فرنچ اوپن کے بدقسمت کھلاڑیوں کی فہرست میں موجود ہیں۔

TOPPOPULARRECENT