Saturday , December 15 2018

جوہانسبرگ میں ہندوستان کا ریکارڈ بہتر،ٹیم کامیابی کیلئے پرعزم

 

جوہانسبرگ۔22 جنوری(سیاست ڈاٹ کام) جنوبی افریقہ کے خلاف جاری ٹسٹ سیریز میں 2-0 کے خسارے سے دوچار ہندوستانی ٹیم کے پاس جوہانسبرگ میں کھیلے جانے والے تیسرے اور آخری ٹسٹ میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور سیریز سے کلین سوئپ سے بچنے کا آخری موقع ہے۔ابتدائی دونوں ٹسٹ میچوں میں ہندوستانی بولروں کی عمدہ بولنگ بھی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکی اور بیٹسمینوں کے غیر ذمے دارانہ کھیل کے سبب دونوں میچوں میں انہیں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔سیریز میں ناکامیوں سے دوچار ہندوستان کیلئے تیسرے ٹسٹ میچ سے قبل واحد مثبت پہلو وانڈررز اسٹیڈیم پر ٹیم کا ریکارڈ ہے جہاں اب تک دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے چار ٹسٹ میچوں میں سے ایک میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی اور باقی تینوں میچ ڈرا ہوئے۔ہندوستان نے 2006 میں راہول ڈراویڈ قیادت میں جوہانسبرگ میں کھیلے گئے ٹسٹ میچ میں جنوبی افریقہ کو شکست دے کر کامیابی اپنے نام کی تھی لیکن فتح سے قطع نظر یہ میچ کئی لحاظ سے دلچسپ تھا۔اس میچ کے دوران جنوبی افریقی فاسٹ بولر آندرے نیل اور ہندوستانی فاسٹ بولر کے درمیان ایک خطرناک مسابقت کا آغاز کیا جو جنوبی افریقہ بولر کو آج بھی یاد ہے۔آندرے نیل نے کہا کہ جب میں نے سری سنت کو بیٹنگ کیلئے آتے دیکھا تو میرے دماغ میں پہلا خیال یہی آیا کہ مجھے اس کے سر پر گیند مارنی ہے۔اس میچ میں سری سنت کی شاندار بولنگ کی بدولت ہی ہندوستان نے میزبان ٹیم کو شکست دی تھی جنہوں نے پہلی اننگز میں 40 رنز کے عوض پانچ وکٹیں لے کر اپنی ٹیم کو 165 رنز کی برتری دلائی جوکہ کامیبابی کی بنیاد ثابت ہوئی تھی۔آندرے نیل نے کہا کہ اس وقت ماحول بہت گرم تھا اور مجھے بالکل نہیں یاد کہ میں نے سری سنت سے کیا کہا تھا۔یہ معاملہ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب سری سنت نے نیل کو چھکا مار کر اس کا ہندوستانی روایتی ڈانس کے ساتھ بھرپور جشن منایا لیکن میچ کے اختتام پر دونوں حریف کھلاڑیوں نے مصافحہ کر کے معاملے کو رفع دفع کر دیا تھا۔ہندوستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان سیریز کا تیسرا اور آخری ٹسٹ میچ 24 جنوری کو جوہانسبرگ میں کھیلا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT