Monday , December 18 2017
Home / مضامین / جو مرد کرنہ پائے وہی کام کردیا

جو مرد کرنہ پائے وہی کام کردیا

ممتا اور جیہ للیتا …ویمن آف دی میچ
اسمبلی نتائج …مودی لہر نہیں
کیرالا اور آسام …کانگریس کی نااہلی کا نتیجہ

رشیدالدین
پانچ ریاستوںکے انتخابی نتائج سے یہ ثابت ہوگیاکہ صلاحیت ، اہلیت اور کارکردگی کا کوئی بدل نہیں ہوسکتا۔ رائے دہندوں نے ان خوبیوں کی حامل قیادتوں کے سر پر اقتدار کا تاج دوبارہ رکھا اور ان صلاحیتوں سے محروم افراد کو اقتدار سے بیدخل کردیا۔ جو افراد عوام سے دور ہوگئے اور جو پارٹیاں رائے دہندوں کی نبض کو سمجھنے سے قاصر رہیں، عوام نے بھی انہیں بھلادیا۔ مغربی بنگال ، کیرالا ، ٹاملناڈو ، آسام اور پڈوچیری کے نتائج کا تجزیہ یہ ثابت کرتا ہے کہ جہاں بھی قیادت مضبوط رہی ، وہاں کسی کی لہر نہیں چلی، جس کی مثال ممتا بنرجی اور جیہ للیتا ہیں اور جہاں قیادت کمزور رہی ، وہاں حکومتوں کا زوال ہوگیا۔ کانگریس پارٹی 3 میں سے صرف ایک چھوٹی ریاست پڈوچیری میں کسی طرح اقتدار کو بچا سکی جبکہ آسام اور کیرالا میں اسے اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا۔ بی جے پی اور بائیں بازو کو ایک ایک ریاست کا فائدہ ہوا۔ آسام اور کیرالا کی شکست بی جے پی اور لیفٹ کی مقبولیت یا کارناموں کا نتیجہ نہیں بلکہ کانگریس کے کرتوت اور اعمال کا نتیجہ ہے ۔ دونوں ریاستوں میں کانگریس حکومتوں کا جو حال تھا ، وہاں نتائج تو یہی آنے تھے۔ انتخابی نتائج کے ساتھ ہی سرکاری اور بی جے پی نواز قومی میڈیا پر صرف آسام چھایا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ آسام میں بی جے پی کے اقتدار کو کچھ اس طرح پیش کیا گیا ، جیسے ایک ریاست نہیں بلکہ لوک سبھا چناؤ میں دوبارہ اکثریت حاصل ہوگئی ہو۔ کانگریس کی نااہلی اور مقامی قیادت کی ناکامی کے سبب بی جے پی کی کامیابی محض اتفاق ہے لیکن اسے نریندر مودی اور امیت شاہ کے کارناموں کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ اگر کچھ دیر کیلئے مان لیا جائے تو پھر ٹاملناڈو اور مغربی بنگال میں بدترین مظاہرہ کیلئے کون ذمہ دار ہوں گے ؟ اس کا فیصلہ بھی بی جے پی اور اس کے قریبی میڈیا کو کرنا چاہئے ۔ آسام میں بی جے پی کے اقتدار کی آڑ میں قومی میڈیا حقیقی معنوں میں کامیاب شخصیتوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش میں ہے۔ میدان سیاست کی دو شیرنیوں نے جس شان سے اقتدار میں واپسی کی ، اس کی مثال حالیہ عرصہ میں نہیں ملتی۔ دونوں خواتین نے نریندر مودی اور امیت شاہ کے سیلاب کو اپنی ریاستوں میں داخل ہونے سے روک دیا۔ ٹاملناڈو اور بنگال میں مودی کا جادو اور امیت شاہ کی حکمت عملی بے اثر ثابت ہوئی ۔ مودی اور شاہ نے دونوں ریاستوں میں زبردست مہم چلائی تھی اور ’’دیدی‘‘ اور ’’اماں‘‘ کے خلاف سنگین الزامات عائد کئے تھے ۔ جیہ للیتا نے تو ٹاملناڈو کی تاریخ میں 27 سال بعد دوبارہ کسی پارٹی کے اقتدار کا ریکارڈ قائم کیا جبکہ وہاں ہر پانچ سال میں اقتدار کی تبدیلی کی روایت دیکھی گئی ہے۔ جیہ للیتا نے مرد آہن کی طرح مخالفین کا سامنا کرتے ہوئے تمام اگزٹ پول کو غلط ثابت کردیا۔ دیگر ریاستوں کے اگزٹ پول درست ثابت ہوئے جبکہ جیہ للیتا نے بیک وقت ڈی ایم کے کانگریس اتحاد اور بی جے پی کے ساتھ اگزٹ پول کو بھی شکست دی۔ ایک طرف روایتی حریف ڈی ایم کے نے کانگریس کے ساتھ اتحاد کرلیا تو دوسری طرف جنوبی ہند میں قدم جمانے اور جیہ للیتا کو کمزور کرنے کیلئے مودی اور امیت شاہ نے مورچہ سنبھالا تھا لیکن عوام سے قربت اور ان کے اچھے برے کا خیال رکھنے والی چیف منسٹر کی حیثیت سے جیہ للیتا نے دلوں میں جگہ بنائی اور تمام میڈیا گھرانوں کے اندازوں کو غلط ثابت کردیا۔ دوسری طرف مغربی بنگال میں 30 برس سے زائد تک حکمرانی کرنے والی کمیونسٹ جماعتیں تیسرے مقام تک پہنچ گئیں۔ کانگریس اور لیفٹ کا اتحاد ممتا بنرجی کا کچھ بھی بنگاڑ نہیں سکا۔

دونوں خواتین محض اپنے کام کی بنیاد پر مسلسل دوسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ خواتین ہوتے ہوئے اس طرح کا مقابلہ کرنا یقیناً عوام کی تائید کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ ممتا اور جیہ نے کامیابی کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ سرمایہ دار گھرانوں کے میڈیا ہاؤزس ہمیشہ دونوں کے مخالف رہے ہیں۔ انتخابی نتائج میں بی جے پی کیلئے کوئی خاص خوشی کا موقع نہیں ہے۔ دوسری ریاستوں کی شکست اور خاص طور پر ممتا اور جیہ کو ہرانے میں ناکامی کی خفت اور بوکھلاہٹ کو چھپانے کیلئے آسام کی اتفاقی کامیابی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے اور بی جے پی حلقوں میں بناوٹی جشن کا ماحول پیدا کیا گیا ۔ بنگال اور ٹاملناڈو کی شکست پر پردہ ڈالنے آسام کا ڈھول پیٹا جارہا ہے ۔ قومی پرنٹ میڈیا کی سرخیاں کچھ اس طرح تھیں جیسے بی جے پی نے آسام نہیں ملک جیت لیا ہو۔ وزیراعظم نریندر مودی کو اس کا احساس ہے ، شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے ٹوئیٹ کر کے ممتا اور جیہ کو مبارکباد دی اور آسام کے متوقع چیف منسٹر امیدوار کو بھول گئے۔ دراصل بی جے پی دونوں خواتین سے خوفزدہ ہے کیونکہ وہ ملک بھر میں بی جے پی کے سیلاب اور نریندر مودی کے جادو کو روکنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ دونوں خواتین قومی سطح پر سیاست میں کبھی بھی الٹ پھیر کرسکتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ دونوں کا قد قومی سطح پر بلند ہوچکا ہو۔ ممکن ہو کہ یہ نتائج 2019 ء میں سیکولر علاقائی جماعتوں کے وفاق کی شکل اختیار کریں۔ یوں بھی جیہ للیتا سابق میں اٹل بہاری واجپائی حکومت کو گرانے میں کلیدی رول ادا کرچکی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ خواتین سے نمٹنے کا فن وہی جانتے ہیں ، جنہوں نے گھر بسایا ہو۔ اٹل بہاری واجپائی چونکہ غیر شادی شدہ ہیں ، لہذا وہ جیہ للیتا پر کنٹرول نہ کرسکے۔ اب موجودہ وزیراعظم نریندر مودی غیر شادی شدہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کیلئے دو خواتین پر کنٹرول کرنا شاید ہی ممکن ہوسکے۔ یہ دونوں عام خواتین نہیں جو قابو میں آجائیں بلکہ حسن اتفاق یہ ہے کہ دونوں بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ بی جے پی دونوں کو اپنے لئے خطرہ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ دو غیر شادی شدہ چیف منسٹرس سے غیر شادی شدہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے وزیراعظم خوفزدہ ہیں۔ اگرچہ ان کی بیوی کے بارے میں وقتاً فوقتاً میڈیا میں خبریں آتی ہیں لیکن مودی کو اس سے انکار ہے۔ اپنی ماں کو ایک دن کیلئے اپنی قیامگاہ میں رکھ کر دنیا بھر میں تشہیر کی جبکہ وہ اپنے چھوٹے بیٹے کے پاس رہتی ہیں۔ ماں اور بیوی سے دور نریندر مودی کو دو عورتوں نے سیاسی شکست دیدی۔ دونوں خواتین سابق میں بی جے پی اتحاد میں شامل رہ چکی ہیں۔

آسام کی کامیابی مودی کا کرشمہ یا بی جے پی حکومت کی دو سالہ کارکردگی کا نتیجہ نہیں ہے ۔ نظریات کی کامیابی یا مرکز کے حق میں عوام نے ووٹ نہیں دیا۔ اگر ایسا ہوتا تو دیگر چار ریاستوں میں بھی نتائج آسام کی طرح ہوتے ہیں۔ بہار میں حال ہی میں بدترین شکست کیوں ہوئی۔ اس لئے کہ وہاں نتیش اور لالو کی قیادت مضبوط تھی لہذا ایک لاکھ 25 ہزار کروڑ کا پیاکیج بھی مودی کو خوشی نہیں دے سکا۔ مرکز کی دو سالہ کارکردگی سے عوام مطمئن ہوتے تو گجرات میں بی جے پی کی حالت بری نہ ہوتی۔ وزیراعظم کی ریاست میں حالیہ پنچایت انتخابات میں بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال سے پریشان نریندر مودی اپنی ریاست کے چیف منسٹر کو بدلنے کی تیاری میں ہیں تاکہ آئندہ سال ہونے والے انتخابات میں نئے چہرے کو پیش کیا جائے۔ آسام اور کیرالا میں کانگریس پارٹی کی اقتدار سے محرومی مقامی حکومتوں کی عوام سے دوری اور بدعنوانیوں اور کرپشن کا نتیجہ ہے۔ جب حکومتوں کو عوام کی فکر نہ ہو تو شکست اور زوال ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ آسام کے نتیجہ کی بنیاد پر بی جے پی آئندہ سال اترپردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کامیابی کا خواب دیکھ رہی ہے۔ وہ محض خوابوں کی دنیا میں ہے۔ اترپردیش میں ترون گوگوئی یا اومن چانڈی نہیں جنہیں شکست دی جاسکے بلکہ وہاں تجربہ کار سیاست داں ملائم سنگھ یادو اور ان کے چالاک فرزند و سپہ سالار اکھلیش یادو ہیں۔ کرپشن اور بدعنوانیوں نے آسام اور کیرالا میں کانگریس کی کشتی کو غرق کردیا۔ 2014 ء میں مرکز سے اقتدار کے خاتمہ کے بعد کانگریس پارٹی نے ریاستوں کو بچانے کی کوئی فکر نہیں کی۔

آسام میں ترون گوگوئی دو برسوں میں فلاحی اور ترقیاتی کاموں کے ذریعہ عوام کا دل جیت سکتے تھے۔ جس طرح ممتا اور جیہ نے جیتا۔ گوگوئی کو 15 سالہ اقتدار کا غرور لے ڈوبا۔ اسی طرح کیرالا میں چیف منسٹر کے خلاف کرپشن کے الزامات کے ساتھ ہی پارٹی کو چاہئے تھا کہ قیادت تبدیل کرتی۔ بدعنوان چیف منسٹر کی برقراری سے عوام نے بائیں بازو کو موقع دیا ہے ۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ دو سرحدی ریاستوں کشمیر اور آسام میں بی جے پی کی حکومت ہے ۔ یہ سرحدیں پاکستان اور بنگلہ دیش سے ملتی ہیں۔ دونوں ریاستوں میں بی جے پی کی انتخابی مہم اور حکمت عملی کی تیاری کے انچارج رام مادھو تھے، جو آر ایس ایس کے ترجمان کے بعد اب بی جے پی میں شامل ہیں۔ حالیہ انتخابات کے بعد کانگریس پارٹی 8 ریاستوں سے سمٹ کر 6 تک محدود ہوچکی ہے۔ بڑی ریاستوں میں صرف کرناٹک پر کانگریس کا اقتدار ہے اور باقی پانچ چھوٹی ریاستیں ہماچل پردیش ، اتراکھنڈ ، میگھالیہ ، میزورم اور منی پور ہیں۔ کانگریس پارٹی کی موجودہ ابتر صورتحال کے پیش نظر اندرونی حلقوں میں راہول گاندھی یا پرینکا کو اترپردیش میں چیف منسٹر کے امیدوار کے طور پر پیش کرنے کیلئے دباؤ بنایا جارہا ہے۔ راہول گاندھی کی مہم کیرالا اور آسام کو نہیں بچاسکی۔ لہذا اترپردیش میں ان کا اثر دکھائی دینا مشکل ہے۔ صرف پرینکا ہی کانگریس پارٹی کو بچاسکتی ہیں اور پارٹی کے تشہیری مشیروں نے بھی پرینکا کو میدان میں لانے کی صلاح دی ہے۔ کیرالا اور مغربی بنگال میں بی جے پی کے ووٹ بینک میں اضافہ کو میڈیا بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے ۔ تجزیہ نگاروں نے اسمبلی نشستوں کی بنیاد پر جو اعداد و شمار تیار کئے ہیں ، ان کے مطابق پانچ ریاستوں کی جملہ 822 نشستوں پر انتخابات ہوئے تھے جن میں کانگریس کو 139 اور بی جے پی کو صرف 65 نشستیں حاصل ہوئیں۔ 60 نشستیں آسام میں حاصل ہوئیں جن میں تقریباً 40 امیدوار سابق کانگریسی ارکان اسمبلی ہیں۔ بی جے پی نے ٹاملناڈو اور پانڈیچری میں کھاتہ بھی نہیں کھولا۔ لہذا ان نتائج کو کس طرح بی جے پی کی کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے۔ لکھنو کے شاعر حیدر علوی نے نتائج پر کیا خوب تبصرہ کیا ہے  ؎
جو مرد کر نہ پائے وہی کام کردیا
مودی کا خواب توڑ کے ناکام کردیا

TOPPOPULARRECENT