Friday , October 19 2018
Home / مضامین / جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے وزیراعظم کے بے بنیاد الزامات

جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے وزیراعظم کے بے بنیاد الزامات

غضنفر علی خاں
یہ تو نہیں کہا جاسکتا وثوق سے کہ گجرات کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور بی جے پی میں سے کونسی پارٹی چناؤ جیتے گی۔ اس لئے انتخابی مہم بہت سخت رہی۔ سخت سے زیادہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ دونوں پارٹیوں نے بھڑاس نکالنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا۔ ترش و تلخ باتیں زیادہ رہیں کام کی باتیں بہت کم ہوئیں بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ عنقا رہیں۔ بہرحال انتخابی مہم اپنی تلخ کلامی اور بدگوئی، الزام تراشی کے لئے ملک کی انتخابی تاریخ میں ایک خاص مقام رکھے گی۔ کانگریس تو اپوزیشن کی حیثیت سے چناؤ لڑرہی تھی لیکن بی جے پی حکمراں پارٹی کی حیثیت سے میدان میں تھی۔ مرکز میں اُسی کی حکومت ہے۔ گجرات کی ریاستی حکومت گزشتہ 22 سال سے بھارتیہ جنتا پارٹی کا راج ہے جو دن بدن ’’نراج‘‘ یا انارکی میں بدلتا جارہا ہے۔ حکمراں پارٹی نے اپنے ذرائع اور وسائل خوب استعمال کئے۔ روپیہ پیسہ پانی کی طرح بی جے پی نے بہایا۔ الیکٹرانک میڈیا پر تو عملاً اس کا قبضہ تھا۔ بعض چیانلس نے بی جے پی کے لئے حق نمک ادا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ان ساری باتوں میں وزیراعظم کا رول کلیدی رہا۔ انھوں نے مہم چلانے کی ساری ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ کئی ریالیوں سے خطاب کیا۔ کسی مرحلہ پر بھی پارٹی کے دوسرے کسی لیڈر کی مجال نہ تھی کہ وہ منہ کھولتا ’’تو ہی کوزہ ، کوزہ گر و گلِ کوزہ‘‘ (تو ہی کوزہ ہے تو ہی کوزہ بنانے والا ہے اور تو ہی وہ مٹی جس سے کوزہ بنایا جاتا ہے‘‘۔ وزیراعظم نے اس مہم کے دوران سب سب کچھ کہہ دیا جو انھیں نہیں کہنا چاہئے تھا اور وہ سب کچھ بڑی ہوشیاری سے چھپائے جو انھیں عوام کو بتانا چاہئے تھا۔ بی جے پی کے تنظیمی مزاج کو دیکھتے ہوئے یہ قطعی تعجب کی بات بھی نہیں ہے۔ جواب میں کانگریس کے منتخبہ صدر راہول گاندھی نے ریاستی حکومت اور حکمراں پارٹی پر سوالات کی بوچھاڑ کردی۔ وزیراعظم مودی ان کے (راہول گاندھی) کے سوالات سے بدحواس ہوگئے۔ انھیں نوشتہ دیوار نظر آنے لگا۔ خود اپنی آبائی ریاست میں پارٹی کا بُرا حال دیکھ کر راہول گاندھی کے تیکھے سوالات سے پریشان ہوکر مودی جی نے کانگریس پارٹی پر بیحد بے بنیاد الزامات عائد کرنے شروع کردیئے۔

خود ان کی اپنی پارٹی کے رکن پارلیمان شتروگھن سنہا نے مجبور ہوکر وزیراعظم سے کہاکہ وہ ہر روز ایک نئی کہانی گھڑنے اور ملک کی معتبر شخصیتوں پر الزام عائد کرنے کے بجائے گجرات کے عوام سے کئے گئے وعدوں کا ذکر کریں۔ شتروگھن سنہا نے یہ بھی کہاکہ مودی جی فرقہ پرستی کا زہر گھولنے کے بجائے گجرات سماج کی یکتائی اور میل ملاپ کی فضاء کو بنائے رکھیں۔ گزشتہ ہفتے کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر ایئر نے اپنے گھر پر پاکستان کے سابق وزیر خارجہ محمود قصوری کی نئی تصنیف کے ضمن میں ایک دعوت دی تھی۔ وزیراعظم نے بلا سوچے سمجھے ایئر اور کانگریس پارٹی پر الزام عائد کیاکہ اپوزیشن کانگریس گجرات اسمبلی چناؤ میں پاکستان کی مداخلت کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

بھلا گجرات کے انتخابات سے پاکستان کا کیا تعلق ہوسکتا ہے ایسا کوئی تصور بھی سوائے بی جے پی اور وزیراعظم کے کسی اور کے ذہن میں نہیں آسکتا۔ پاکستان کی کیا مجال کہ وہ ہماری ایک ریاست کے انتخابات میں دخل اندازی کرے۔ اس دعوت میں اور اہم لوگوں کے علاوہ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اور سابق نائب صدرجمہوریہ حامد انصاری، ہندوستانی فوج کے سابق سربراہ، کئی سابقہ سفیر وغیرہ مدعو تھے۔ تو کیا ان تمام قابل احترام شخصیتوں نے مودی جی کے خلاف سازش کی تھی۔ مودی جی کیا اپ کے خیال میں اگر پاکستان کو دخل دینے کے ایئر صاحب نے کوشش کی تھی تو ہماری انٹلی جنس ایجنسیاں ہماری وزارت خارجہ کے سربراہ سشما سوراج، ہماری صحافت اور ہمارا وہ سارا الیکٹرانک میڈیا جو آپ کے گن گاتا تھا اتنی بڑی سازش (وہ بھی وزیراعظم کے خلاف) سے ناواقف تھا۔ اس ڈنر میں شریک سابق سفیر ، فوج کے عہدیداروں کے علاوہ خود سابق وزیراعظم ڈاکٹر سنگھ نے بھی اس کی تردید کی۔ اب سارا ملک یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ وزیراعظم کے الزامات کی روشنی میں ہماری خفیہ ایجنسیاں اور ہمارے ملک کا میڈیا باخبر نہیں ہے؟

بات یہاں ختم نہیں ہوئی بلکہ عالم بدحواسی میں وزیراعظم نے یہ بھی کہہ دیا کہ ’’ایئر صاحب نے ان کو ختم کرنے کے لئے‘‘ سپاری دی تھی جہاں ہمارے ملک کے وزیراعظم کے خلاف اتنی گھناؤنی سازش ہوئی ہو اور ہم سب ہندوستانی باشندہ، ہماری وزارت داخلہ کی مشنری اس سے بے خبر تھی اور طرفہ تماشہ یہ کہ سوائے وزیراعظم کے کوئی اس بے بنیاد سازش سے واقف ہی نہیں تھا، کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں تھی۔ وزیراعظم کے ’’انتر یامی‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔ کیا انھیں کوئی غیر معمولی اور غیر مرئی شکتی یا طاقت حاصل ہے جس کے ذریعہ انھیں سازش کا پتہ چل گیا۔ جن لوگوں نے اس ڈنر میں شرکت کی تھی خود انھوں نے قومی ٹی وی چیانلس پر مباحثہ میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ ’’ڈنر میں گجرات انتخابات کا تذکرہ تک نہیں ہوا۔ شرکاء کے اس برملا اظہار خیال اور حق گوئی کے باوجود وزیراعظم کا یہ کہنا کہ ڈنر میں پاکستان کی گجرات چناؤ میں دخل اندازی کرنے کی سازش کی گئی تھی، سراسر من گھڑت، لغو اور بے معنی الزام ہے۔ خود ملک کے عوام اس کو قبول کرنے تیار نہیں ہیں۔ بی جے پی کی سیاسی رفیق شیوسینا نے اپنے ترجمان ’’سامنا‘‘ کے اداریہ میں لکھا ہے کہ وزیراعظم کو اس قسم کی بات زیب نہیں دیتی۔ شیوسینا تو قابل اعتماد Trusted Party ہے، ملک کی اور سیاسی پارٹی مثلاً کمیونسٹ پارٹیوں، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر شرد یادو نے بھی وزیراعظم کی اسطرح کی الزام تراشی کی سخت مذمت کی۔ اصل بات یہ ہے کہ گجرات کی انتخابی مہم میں نومنتخب صدر کانگریس راہول گاندھی کی مقبولیت کو دیکھ کر بی جے پی اور خود وزیراعظم ہوش کھو بیٹھے اور جو کچھ نوک زبان پر آیا کہہ دیا حالانکہ یہ ضروری نہیں کہ چناؤ میں کانگریس کامیاب ہو۔

TOPPOPULARRECENT