Wednesday , November 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / ’’جو ہے راہِ عمل میں گامزن محبوبِ فطرت ہے‘‘

’’جو ہے راہِ عمل میں گامزن محبوبِ فطرت ہے‘‘

رسول کبریاﷺ کو خالق کائنات نے سارے جہانوں کیلئے رحمت، تمام نوع بشر کیلئے ہدایت اور مومنین کیلئے رافت ، فرمانبرداروں کیلئے ترغیبات دینے والا اور نافرمانوں کیلئے ترہیبات سنانے والا بناکر اس دنیا میں مبعوث فرمایا۔ چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی کا معاشرہ بے شمار بیماریوں، خرابیوں، کمزوریوں اور بے شمار امراض باطنی کے سبب متعفن ہوچکا تھا لوگ اپنی ذاتی منفعت و استراحت کیلئے سب کچھ کر گذرتے تھے۔قرآن مجید آمد مصطفی ﷺ سے پہلے عرب کے انحطاط پذیر سماج کی تصویر کشی کرتے ہوئے فرمایا ترجمہ:’’اگرچہ وہ اس سے پہلے یقینا کھلی گمراہی میں تھے‘‘ (سورۃ اٰل عمران آیت ۱۶۴) ۔

یہاں قابل غور امر یہ ہے کہ قرآن حکیم نے صرف ’گمراہی‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ زمانہ جاہلیت کی کیفیت کو ’کھلی گمراہی‘ سے تعبیر کیا چونکہ عرب کا مشرک اور جاہلیت زدہ معاشرہ متعدد قسم کی ضلالتوں کا شکار تھا۔ قرآن مجید نے جزیرۃ العرب کے حالات کو اجمالاً بیان کرنے سے پہلے بعثت مرشد انسانیت ﷺ کا ذکر کیا ہے جس سے یہ بات بھی اشارۃً ثابت ہوجاتی ہے کہ میلادِ مصطفیﷺ کا اہم مقصد اور اصلی ہدف اخلاقی و انسانی ملکات کی تربیت کرنا ہے اور انسان کو عقائدی انحرافات، غیر انسانی طرزِ عبادات، قبائیلی عصبیت، مضطرت حالات، تحقیرِ عورت اور عملی بے راہ روی کے دلدل سے نکال کر شاہراہِ عمل پر گامزن کرتے ہوئے اس کے کردار کو نکھارنا ہے۔ جس کیلئے سرور عالم ﷺ نے قول سے زیادہ عمل کو ترجیح دی ۔ یہ کردار سرکار دو عالم ﷺ کی رعنائیوں اور دلربائیوں کا ہی فیضان تھا کہ اخس الدرجات کی حامل عرب قوم ذلت کی پسماندگی سے نکال کر 63 سال کے قلیل عرصے میں گروہی و قبائیلی عصبیتوںکے چنگل سے نکل کر عزت کی بلندیوں پر فائز ہوکر افضل الامم بن گئی۔ آمد مصطفی ﷺ کے بعد تاریخ انسانیت میں ہمہ گیر انقلاب آیا اور انسان کے فکر و خیال میں مکمل تبدیلی واقع ہوئی۔چنانچہ ایام جاہلیت میں صنف نازک کے ساتھ انتہائی ظالمانہ اور جابرانہ سلوک روا رکھا جاتا تھا،لڑکی کی پیدائش پر نہ صرف رنج و غم کا اظہار کیا جاتا بلکہ اس کو زندہ درگور کردیا جاتا۔ دین اسلام نے لڑکیوں کو ذلت و نکبت کے تحت الثری سے نکال کر رفعت و عظمت کے بام ثریا پر بٹھا دیا۔ جب غلامانِ مصطفیﷺ نے رحمت عالم ﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ اپنی ازواج مطہرات اور دختران عالی وقار کے ساتھ انتہائی قدرت و منزلت اور عزت افزائی کے ساتھ پیش آتے ہیں تو لڑکیوں اور عورتوں کے متعلق ان کے نظریات میں انقلاب آگیا۔ جس کا اظہار اس حدیث پاک سے ہوتا ہے جس میں آقائے نامدار رسول عربیﷺ نے لڑکیوں کے ساتھ بطور خاص حسن سلوک کرنے کی تعلیم عنایت فرمارہے ہیں۔ حضرت سیدنا عقبہ بن عامر جہنیؓ سے مروی ہے حضورﷺ نے فرمایا ’’جس شخص کی تین لڑکیاں ہوں اور وہ ان کو خوش دلی سے برداشت کرے اور اپنے مال سے ان کو کھلائے، پلائے اور پہنائے تو وہ لڑکیاں اس شخص کے لیے دوزخ سے بچانے کا ذریعہ بنیں گی‘‘ (ابن ماجہ، مسند احمد)۔

یعنی لڑکیوں کی حسن پرورش اور ان کے ساتھ حسن سلوک اجر عظیم، ثواب جزیل، دخول جنت اور عذاب جہنم سے محفوظ رہنے کا سبب ہے۔ حضورﷺ اکرم کی لسان نبوت سے جب صحابہ کرام نے یہ بشارتیں سنیں تو ایک صحابیؓ کھڑے ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺاگر کسی کے دو لڑکیاں ہوں تو کیا اس کے حق میں بھی یہی نوید ہے؟ آپﷺ نے فرمایا ہاں؟ اب اندازہ کیجیے کہ جس معاشرے کے لوگ لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے اسی معاشرے کے لوگ آج لڑکیوں کی تمنا کررہے ہیں۔ یہ ہے مصطفی ﷺ کے کردار کی خوبی اور عظمت جس کی مدح سرائی خود رب کائنات فرمارہا ہے اور ساری انسانیت کیلئے سیرت مصطفی ﷺ کو اسوۃ حسنہ قرار دیا ہے۔

رب ذو الجلال ارشاد فرماتا ہے : ’’بیشک تمہاری رہنمائی کے لئے اللہ کے رسول (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے‘‘ (سورۃ الاحزاب )یعنی اگر تم بھی اس اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوجائوگے تو تمہاری زندگی میں زیبائی اور نکھار پیدا ہوجائے گا۔ رسول خداﷺ کے اسوہ حسنہ نے وہ عظیم انقلاب برپا کیا کہ درندہ صفت انسان فرشتہ سیرت بن گیا ۔یہ کردار مصطفیﷺ کا ہی فیضان تھا کہ میخانہ وحدت کے مستانے ، جزیرہ نمائے عرب کے متلاشیان حق کی بڑی آبادی آپﷺ کی حین حیات ہی اسلام قبول کرلیا تھا اور اسوہ حسنہ میں قرآنی تعلیمات کی عملی تصویر دیکھ کر اس کو اپنے سینہ سے لگالیا چونکہ صحابہ کرام کا یہ غیر متزلزل عقیدہ تھا کہ رب کائنات کی رضا و خوشنودی کردار مصطفیﷺ کی اطاعت و پیروی کے بغیرممکن نہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ تاریخ انسانیت اس بات کی شاہد ہے کہ فاتح اقوام ہمیشہ قوم و ملت کے مفادات کو خاطر میں لائے بغیر اپنے اغراض و مقاصد کی تکمیل کیلئے  انسانی اقدار کو پامال کرتے ہیں ، لوٹ مار کرتے ہیں، مفتوحہ ملک کو تباہ و تاراج کرتے ہیں،وہاں کے باشندگان کو قید و بند کی زندگی گزارنے پر مجبور کرتے ہیں، شکست خوردہ قوم کا معاشی و سیاسی استحصال کرتے ہیں یہ سب اس لیے کرتے ہیں چونکہ ان کے پاس کوئی کردار نہیں ہوتا۔ اب آیئے تعلیمات اسلامی کا مشاہدہ فرمایئے رب کائنات اپنے حبیب مکرمﷺ کے وساطت سے سارے مسلمانوں کو حکم دے رہا ہے کہ ترجمہ ’’جب اللہ کی مدد آ پہنچے اور فتح (نصیب ہوجائے) اور آپ دیکھ لیں لوگوں کو کہ وہ داخل ہورہے ہیں اللہ کے دین میں فوج در فوج تو (اس وقت) اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے اس کی تسبیح بیان کیجیے اور (اپنی امت کے لئے) اس سے مغفرت طلب کیجیے بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے‘‘ (سورۃ النصر آیات ۱۔۳)
طاقت سے جسم فتح کیے جاسکتے ہیں لیکن کردار میں قلوب و اذہان کو مسخر کرنے کی تاثیر ہے۔ فتح مکہ کے وقت ساری انسانیت نے محولہ بالا آیات کا عملی نمونہ آقائے نامدار رسول عربیﷺ کے کردار میں دیکھا جب رئوف رحیم نبی کریم ﷺنے ان لوگوں کو رحمت و حکمت سے لبریز کلمات میں عفو عام کا مژدہ سنایا جو آپﷺ کی بارگاہ میں بڑی ہرزہ سرائی کرتے تھے اور آپﷺ کو شاعر، کذاب، ساحر اور مجنون (نعوذ باللہ من ذلک) کہا کرتے تھے۔تاریخ انسانی میں ایسی کوئی دوسری ہستی نہیں ملتی جس کا کردار اس قدر اعلی و ارفع ، افضل و اکمل ہو۔ لیکن صد حیف آج انسان کی تمام تر توجہات علمی تحقیقات، سائنسی ترقیات، ٹیکنالوجی کے نت نئے استعمالات، معاشی خوشحالی، عالی شان گھر، بینک بیلنس، اعلی عہدہ، اثر و رسوخ بڑھانے وغیرہ تک مرکوز ہوکر رہ گئے ہیں۔ کردار کی اہمیت و افادیت کو ہم تقریباً فراموش کرچکے ہیں۔ آج ہمارے پاس سب کچھ ہے سوائے کردار کے ۔کردار کے مسخ ہونے کا ہی خمیازہ ہے کہ آخرت میں پیش آنے والے نفسا نفسی کا معاملہ دنیا میں بھی آہستہ آہستہ رائج ہوتا جارہا ہے۔ مخالفین اسلام دین اسلام کے تصور اعتقادات، عبادات، معاملات، آخرت الغرض اسلام کی تمام انسانیت نواز تعلیمات کا انکار کیا لیکن کبھی کسی کی اتنی جرات نہیں ہوئی کہ رحمت عالمﷺ کے کردار کی مخالفت کرسکے۔ بلکہ اغیار بھی ببانگ دہل آقائے نامدار کی پارسائی اور امانت و دیانت کو دل سے تسلیم کرتے تھے۔ لیکن آج یہ عالم ہے سائنسی ترقیات کے دور میں سلیم الفطرت انسان اسلامی خوبیوں کا اعتراف تو ضرور کررہا ہے لیکن وہ مسلمان کے کردار سے متنفر ہے۔ چونکہ آج کا مسلمان عمل سے زیادہ قول کو ترجیح دینے لگا ہے اور رب کائنات گفتار بغیر عمل کو سخت ناپسند فرماتا ہے چونکہ زبان دل کی ترجمان ہوتی ہے اگر ان دونوں کے راستے جدا ہوجاتے ہیں تو کفر کی بدترین قسم نفاق کی نشانی ہے اور منافقین جہنم کا بدترین اور پست ترین طبقہ ہے۔ انسان کو اسفل سافلین کی پستیوں سے نکال کر اعلی علیین کی رفعتوں پر صرف اور صرف وہی کردار پہنچاسکتا ہے جس کی تعلیم تاجدار کائنات نے دی ہے۔ شاعر مشرق سر ڈاکٹر علامہ اقبالؒ نے کہا   ؎
یہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہے
جو ہے راہِ عمل میں گامزن محبوبِ فطرت ہے
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بطفیل نعلین پاک مصطفی ﷺ ہمیں تعلیمات اسلامی اور اسوہ حسنہ کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین طہ و یسین۔

TOPPOPULARRECENT