Thursday , December 14 2017
Home / اضلاع کی خبریں / جگتیال اقامتی مدارس میں رجسٹریشن کے دعوے کھوکھلے

جگتیال اقامتی مدارس میں رجسٹریشن کے دعوے کھوکھلے

5 مدارس میں 1360 طلبہ کے منجملہ صرف 1090 ہی زیر تعلیم، غیر اقلیتی طلبہ کی تعداد زیادہ

جگتیال18؍اکٹوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاستی حکومت چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے میناریٹیز بالخصوص مسلمانوںکی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے مقصدسے مفت معیاری تعلیم کی فراہمی کیلئے گذشتہ سال 71 مدارس کا قیام اور اس سال مزید اضافہ کرتے ہوئے 206 انگلش میڈیم اقلیتی اقامتی مدارس کا قیام عمل میں لایاگیا۔جو قابل ستائش اقدام ہے۔ مدارس میں 75%فیصد کوٹہ مینارٹیز کیلئے اور 25%فیصد نان مینارٹیز کیلئے مختص کیا گیا افسوس اس بات کا ہے جن اقلیتوں کیلئے مدارس کا قیام عمل میں لایا گیا اس سے اقلیتیں استفادہ کرنے سے قاصر ہیں،جبکہ غیر اقلیتی طلبہ مکمل استفادہ کررہے ہیں، ضلع جگتیال میں گذشتہ سال د و مدارس ایک جگتیال شہر میں گرلزاور کورٹلہ میں بوائز اسکول کا قیام عمل میں لایاگیاتھا۔ اس سال ان مدارس کو اپ گریڈ کرتے ہوئے آنٹھویں جماعت کا اضافہ کیا گیا ،اور مزید تین نئے مدارس جگتیال اور مٹ پلی ، مستقر پر بوائز اسکول اور دھرم پوری میں گرلز اسکول کا قیام عمل میںلایا گیا۔اپ گریڈ مدارس میں 80کے حساب سے 160طلبا ء اور نئے مدارس میں 240کے حساب سے 720طلباء کے داخلے درکار تھے۔ یعنی جملہ 880نئے داخلے کی ضرورت تھی،حکومت کی جانب سے اقلیتی اقامتی اسکولس میں داخلوںکو یقینی بنانے کیلئیء اسکول سوسائٹی سکریٹری شفیع اللہ اور اے کے خان مشیر خاص کی نگرانی میں بڑے پیمانے پر تشہیر کا آغاز ماہ فروری میں ضلعی سطحوںپر کیا گیا ۔جو ماہ مئی میں اختتام پر پہنچی ، طلباء کے آن لائین رجسٹریشن کیلئے ضلعی اقلیتی بہبود آفیسر س کو دباو ڈالا گیا ایسے میں جگتیال میناریٹی آفیسر رامچندرریڈی اور سپرنٹنڈنٹ محمد محمود علی افسر کے علاوہ دیگر عملہ اور اُردو اکیڈیمی کے ملازمین اور اقلیتی اقامتی مدارس ٹیم کی جانب سے صبح شام محنت کرتے ہوئے ضلع کے مختلف منڈلس اور دیہاتوں کا دورہ کرتے ہوئے طلباء اور اولیا ء طلباء کو راغب کیا۔ مدارس میں داخلوںکیلئے 5ہزار آن لائین درخواستوںکو رجسٹریشن کرواتے ہوئے ریا ست میںسرفہرست رہے ،جب کہ یہاںپرصرف 900داخلوںکی ضرورت تھی ،سکریٹری شفیع اللہ نے آن لائین رجسٹریشن کی ہر روز رپورٹ حاصل کرتے ہوئے جائزہ لیتے رہے،اور بہترین کارکردگی پراقلیتی بہبود جگتیال اافسرا ن کی ستائش کرتے ہوئے دوسرے مقامات کو انکی مثال دی گئی ، حیرت اس بات کی ہے پانچ ہزار درخواستیں آن لائین کی گئی جب کہ پانچ مدارس میں 1360طلباء کہ ہی گنجائش تھی جس میں نئے مدارس میں 720اور اپگریڈ مدارس میں 160جملہ 880طلباء کے داخلوںکوقرعہ اندازی کے ذریعہ کیا گیا ، جس سے کئی مستحق اور خواہش مند طلباء کومایوسی کا شکار ہونا پڑا اور اولیاء طلباء ناراضگی اور برہمی کا مظاہرہ کئے تھے۔جگتیال گرلز اسکول کی اس سال دوسرے مقام پر تبدیلی جہاںپر 320طلبا ء میں کھانا کھانے کیلئے 120ٹیبل ہی دستیاب ہیں جس کی وجہہ سے طلباء نیچے بیٹھ کر کھانے پر مجبور ہیں اور سی سی کیمرے بھی ابھی تک نصب نہں کئے گئے اور سونے کیلئے بیڈس کی کمی ہے اور دھرم پوری مدرسہ کااسکول آغاز سے عین ایک یوم قبل عمارت کا دھرم پوری سے دونتا پور مضافاتی گنجان علاقہ میں سرکاری عمارت کستور با گاندھی اسکول میں منتقل کیا گیا جس کی وجہ سے وہاںپرخوف کا ماحول ہے طالبات وہاں رہنے کیلئے تیار نہیں ہیں، اسی طرح کورٹلہ عمارت میں پانی کا مسئلہ اسکول انتظامیہ اور مالک مکان کے درمیان تنازعہ شکار ہو چکا ہے ۔ اسی طرح جگتیال مٹ پلی مدارس میںبھی بنیادی مسائل اور سہولیات کی فراہمی میںتساہلی مٹ پلی مدرسہ میں 15یوم قبل ہی فیانس کی تنصیب عمل میں آئی ،جب کہ حکومت نے اسکولس میں تمام انتظامات کیلئے کنٹراکٹرس کو فنڈس جاری کئے گئے۔ سہولیات کی فراہمی میںتاخیر کیوں؟ جگتیال محکمہ اقلیتی بہبود انچارج آفیسراور عارضی ملازمین کے رحم و کرم پر چل رہا ہے اورنئے اضلاع کے قیام سے ضلعی انتظامیہ عوام کے قریب ہونے کی بات کی گئی اس میں صر ف میناریٹی سے تعلق رکھنے والے محکمہ اقلیتی بہبود اور وقف بورڈ کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ جبکہ بار ہا اخبارات کے ذریعہ توجہ دلوائی جارہی ہے۔ جگتیال سے 50کیلو میٹر کے فاصلہ پر میناریٹی کارپویشن چیرمین رہتے ہیں ،مدارس کی کارکردگی کا جائزہ لینے نہ ہی و ہ اورنہ ہی اعلیٰ افسران نے جگتیال کا رخ کیا۔

TOPPOPULARRECENT