Sunday , October 21 2018
Home / اضلاع کی خبریں / جگتیال کے مسلم شادی خانہ کی تعمیر ہنوز ادھوری

جگتیال کے مسلم شادی خانہ کی تعمیر ہنوز ادھوری

جگتیال ۔ 27 ۔ نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مسلم شادی خانہ کمیونٹی ہال جگتیال کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ صحیح پلاننگ نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں روپیوں کے خرچ کے باوجود شادی خانہ ویرانی کا شکار ہے ۔ 1993 ء میں منظور کردہ مسلم شادی خانہ اور کمیونٹی ہال میں آج تک کوئی بڑی شادی یا مسلمانوں کے کاز کے استعمال کے قابل نہ بناء اس کو سیاسی رنگ دیتے ہو

جگتیال ۔ 27 ۔ نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مسلم شادی خانہ کمیونٹی ہال جگتیال کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ صحیح پلاننگ نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں روپیوں کے خرچ کے باوجود شادی خانہ ویرانی کا شکار ہے ۔ 1993 ء میں منظور کردہ مسلم شادی خانہ اور کمیونٹی ہال میں آج تک کوئی بڑی شادی یا مسلمانوں کے کاز کے استعمال کے قابل نہ بناء اس کو سیاسی رنگ دیتے ہوئے اپنی مرضی کے مطابق تعمیر کرتے ہوئے لاکھوں روپئے برباد کردیئے گئے ۔ تقریباً 70 لاکھ روپئے اس پر خرچ ہوئے یہاں پر مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے لیکن افسوس کہ کسی تنظیم نے اس کی ترقی یا اس کی نگرانی کی ذمہ داری نہیں لی جس کی وجہ سے یہ ویران اور خستہ حالت کا شکار ہوگیا جہاں پر کوئی شادی کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ یہاں کے رکن اسمبلی ٹی جیون ریڈی 6 مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے ان کی کامیابی میں ہمیشہ مسلمانوں کا اہم رول ہوتا ہے اور انہیں اقلیتوں کا ہمدرد سمجھا جاتا ہے لیکن مسلمانوں کی سب سے اہم ضرورت شادی خانہ کئی سالوں سے تعمیراتی کاموں کا شکار ہے اور کوئی ذمہ دار کمیٹی آگے نہیں آرہی ہے ۔ رکن اسمبلی کی خاموشی معنی خیز ہے ۔ حالیہ انتخابات سے قبل رکن اسمبلی جگتیال یل رمنا نے ایم ایل اے اور بلدیہ کے جنرل فنڈ سے تقریباً 22 لاکھ روپئے منظور کروائے جس کے ذریعہ ٹین شیڈس ڈالے ۔ 2009 میں رکن اسمبلی ٹی جیون ریڈی نے حکومت سے 10 لاکھ روپیوں سے ایک آر سی سی ہال تعمیر کروایا ۔ 1993 ء میں منظور کردہ کمیونٹی ہال شادی خانہ کا سنگ بنیاد 1997 ء ریاستی وزیر محمد فریدالدین کے ہاتھوں رکھا گیا تھا اور 2014 میں اس کا افتتاح بھی محمد فرید الدین کے ہاتھوں عمل میں آیا آج یہ عمارت بوسیدہ اور خستہ حالت میں ہے ہر کوئی اپنی مرضی سے تعمیرات کروانے سے عمارت علحدہ علحدہ ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے تقریب کرنے والوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لاکھوں روپیوں کے خرچ کے باوجود اس شادی خانے میںغریب بھی شادی کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ 2004 ء اور 2009 ء میں رکن پارلیمنٹ کریم نگر کی حیثیت سے کے چندرشیکھر راو تھے اس وقت انہوں نے جگتیال کے شادی خانہ کا دورہ کرتے ہوئے جگتیال میں ایک شاندار فنکشن ہال سدی پیٹ میں تعمیر کردہ تمام سہولتوں سے آراستہ شادی خانہ کے مماثل تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وعدہ وفا نہ ہوسکا اب جبکہ وہ ریاستی چیف منسٹر ہیں جگتیال کے مسلمانوں کو امید ہے کہ جگتیال میں تمام سہولتوں سے آراستہ شادی خانہ کی تعمیر کرتے ہوئے اپنا وعدہ پورہ کرینگے ۔ حالیہ دنوں شادی خانہ میں بیت الخلا کی تعمیر کیلئے پنچایت راج کی جانب سے 50 ہزار روپئے کی منظوری عمل میں لائی گئی ہے جدید طریقوں کے بجائے سپٹیک ٹینک کے پرانے زمانے کے بنائے جارہے ہیں اور وہ بھی ایک مشرق میں دوسرا مغرب میں کس پلاننگ سے بنائے جارہے ہیں کوئی پوچھنے یا نگرانی کرنے والے نہیں ہے ذمہ داران کمیٹی کو آگے آنے کی ضرورت ہے یا پھر ذمہ دار کمیٹی کسی کو اس کا ذمہ دار بناکر اس کو ملت کے آمدنی کا ذریعہ بنانے کیلئے اقدامات کرنے کی اہم ضرورت ہے تاکہ غریب محتاجوں ، بیواؤں کی بیت المال کے ذریعہ مدد میں یہ آمدنی ایک بڑا ذریعہ بن سکے ۔

TOPPOPULARRECENT