Wednesday , December 19 2018

جگنیش میوانی اور عمر خالدکیخلاف مقدمہ، طلباء پر پولیس کی زیادتی

دلتوں پر حملوں کے خلاف احتجاج، کانفرنس کی اجازت دینے سے پولیس کا انکار، ایف آئی آر درج
ممبئی 4 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) پولیس نے یہاں ایک چوٹی کانفرنس کے انعقاد کی اجازت دینے سے انکار کردیا اور کانفرنس سے خطاب کرنے والے دلت لیڈر جگنیش میوانی اور جے این یو اسٹوڈنٹ لیڈر عمر خالد پر مقدمہ درج کیا۔ یہ دونوں یہاں ایک کانفرنس سے خطاب کرنے والے تھے۔ ان کے علاوہ پولیس نے طلباء کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے اس کانفرنس کے مقام پر جمع طلباء کو بھی حراست میں لے لیا۔ ایک ہال کے باہر یہ طلباء جمع ہوئے تھے۔ پولیس عہدیدار نے کہاکہ ممبئی کے مضافاتی علاقہ والے پرل میں بھیداس ہال کے باہر طلباء اور کارکنوں کی بڑی تعداد جمع تھی لیکن پولیس نے ان طلباء کی تعداد کا اندازہ نہیں کیا ہے۔ جن طلباء کو حراست میں لیا گیا ان میں چھترا بھارتی تنظیم کے صدر دتہ واگھے بھی شامل ہیں جو اس کانفرنس کے آرگنائزر تھے۔ دیگر آرگنائزرس میں ایم ایل سی کپیل پاٹل، الہ آباد یونیورسٹی اسٹوڈنٹ لیڈر پردیپ نروال کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ گرفتار اسٹوڈنٹ لیڈر نے پولیس کی کارروائی کو ’’ڈکٹیٹرشپ‘‘ قرار دیا اور کہاکہ وہ اپنی لڑائی پارلیمنٹ تک لے جائیں گے۔ یہ گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب پولیس نے یہاں ’’آل انڈیا اسٹوڈنٹ سمٹ 2018‘‘ کے انعقاد کی اجازت دینے سے انکار کیا جو آج یہاں منعقد ہونے والی تھی۔ اس کانفرنس سے خطاب کرنے کے لئے گجرات کے نومنتخب رکن اسمبلی جگنیش میوانی اور عمر خالد کو مدعو کیا گیا تھا۔ پولیس نے ریاست میں کل احتجاج اور بند کے پیش نظر اس کانفرنس کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار نے کہاکہ پونے میں بھیما کورے گاؤں پر 200 سال قبل لڑی گئی جنگ کی سالگرہ منانے کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ واگھے نے قبل ازیں کہا تھا کہ پولیس نے اس پروگرام کی اجازت نہیں دی تھی۔ ہال کے اندر پولیس کی بھاری جمعیت موجود تھی اور طلباء کو ہال کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تمام حراست میں لئے گئے طلباء کو جوہو پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ اپنی گرفتاری سے قبل اسٹوڈنٹ لیڈر رچا سنگھ نے بھیداس ہال کے باہر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ اس کانفرنس کے خلاف پولیس کی کارروائی ایک ڈکٹیٹرشپ ہے اور یہ ایمرجنسی جیسی صورتحال ہے۔ ہم اس لڑائی کو پارلیمنٹ تک لے جائیں گے۔

پولیس نے بھیداس آڈیٹوریم کے اطراف رکاوٹیں کھڑی کردی تھی اور اس مقام پر سخت سکیورٹی انتظامات کئے تھے۔ اس سے مربوط واقعہ میں پونے پولیس نے جگنیش موانی اور عمر خالد کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کردیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے مبینہ طور پر 31 ڈسمبر کو پونے میں ایک جلسہ عام میں اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔ میوانی اور عمر خالد پونے میں بتائی ور واڑہ مقام پر بھیجا گوے گاؤں کی جنگ کی 200 ویں برسی کی یاد میں ایک جلسہ منعقد کیا تھا جس میں ان دونوں نے شرکت کی تھی۔ پونے میں تشدد اس وقت بھڑک اُٹھا جب دلت گروپس یہاں اس 200 سالہ برسی منارہے تھے۔ تشدد کے دوران پولیس نے کارروائی کی۔ دلت نوجوان کی موت کے بعد یہ تشدد مزید پورے مہاراشٹرا میں پھیل گیا اور احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ کل دلتوں کے مختلف گروپس کی جانب سے احتجاج کی اپیل کی گئی تھی۔ تشدد کے دوران 30 پولیس ملازمین زخمی ہوئے تھے۔ اب پولیس ملازم زیادہ تر احتجاجیوں کی سنگباری میں زخمی ہوئے ہیں۔ مہاراشٹرا بند کے دوران پولیس نے جملہ 16 ایف آئی آر درج کروائے اور 300 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ تشدد میں مہاراشٹرا اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی 200 بسوں کو نقصان پہونچا۔ مہاراشٹر میں ممبئی ،پونے سمیت متعدد شہروں میں پھوٹ پڑنے والے تشددکے بعد پولیس نے گجرات کے دلت ایم ایل اے جگنیش میوانی اور جے این یو عمر خالد کے خلاف شرانگیزی اور تشدد بھڑکانے کا مقدمہ دائر کیا ہے ۔پونے کے وشرام باغ پولیس اسٹیشن میں دونوں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات153اے ، 505اور117 کے تحت کیس درج کیا ہے ۔اس درمیان پولیس جگنیش اورخالد کے ممبئی میں ہونے والے اجلاس کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔اس کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے ۔واضح رہیکہ نئے سال موقع پر بھیما کورے گاؤں میں 200سال قبل فرنگیوں اور پیشوا کے درمیان جنگ میں انگریزی فوج کو فتح حاصل ہوئی تھی، جس میں دلتوں کی اکثریت تھی اور ہرسال دلت بڑی تعداد میں جیت کی یادگار پر جمع ہوتے ہیں، دوسری صدی کی وجہ سے تقریباً تین لاکھ دلت جمع ہوگئے اور مراٹھا فرقہ تصادم کے سبب ایک دلت ہلاک ہوگیا اور پونے ، ممبئی سمیت ریاست کے دس سے زیادہ شہروں میں تشدد پھوٹ پڑا۔جس کے نتیجہ میں اربوں کی املاک کو نقصان پہنچا ہے ۔مہاراشٹر کی فڑنویس حکومت نے ہائی کورٹ کے سٹینگ جج سے انکوائری کا حکم دیا ہے جبکہ بعد کے تشدد کی تحقیق بھی کرانے کی مانگ بڑھ گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT