Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / جگن موہن ریڈی ریاست آندھرا پردیش کے وائی ایس آر سی پی کے فلور لیڈر

جگن موہن ریڈی ریاست آندھرا پردیش کے وائی ایس آر سی پی کے فلور لیڈر

سونیا گاندھی سے ٹکرانے کے بعد چندرا بابو نائیڈو کا سامنا کرنا آسان، پارٹی قائدین کا تاثر

سونیا گاندھی سے ٹکرانے کے بعد چندرا بابو نائیڈو کا سامنا کرنا آسان، پارٹی قائدین کا تاثر
حیدرآباد /21 مئی (سیاست نیوز) وائی ایس آر کانگریس لیجسلیٹر پارٹی نے جگن موہن ریڈی کو اتفاق رائے سے فلور لیڈر منتخب کرلیا۔ آج ایڈوپالا پایا (ضلع کڑپہ) میں وائی ایس آر سی پی لیجسلیچر پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا، ارکان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے جگن نے کہا کہ وہ اصول پسند قائد ہیں اور عوام کو دھوکہ دے کر اقتدار حاصل کرنے کے قائل نہیں ہیں۔ اصولی اور نظریاتی اختلافات پر وہ اپنی ماں کے ساتھ کانگریس سے علحدہ ہوئے اور اپنے والد راج شیکھر ریڈی کے کاموں کو پورا کرنے کے لئے پارٹی تشکیل دی۔ اس وقت انھیں کئی لوگوں نے مشورہ دیا تھا کہ پہاڑ جیسی سونیا گاندھی سے ٹکرانا بہتر نہیں ہے، جن کی ملک پر حکمرانی ہے، مگر ہم نے اس کی پروا کئے بغیر عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے اور راج شیکھر ریڈی کے سنہرے دور کے احیاء کے لئے جدوجہد شروع کی۔ انھوں نے کہا کہ چار سال تک میں نے سازشوں کا سامنا کیا، سی بی آئی کا سیاسی مفادات کے لئے استعمال کیا گیا اور مجھے 16 ماہ تک جیل میں قید کرکے وائی ایس آر کانگریس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، تاہم کسی رکن اسمبلی نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ 2 ارکان پارلیمنٹ اور 20 ارکان اسمبلی برے وقت میں بھی پارٹی کے ساتھ تھے۔

انھوں نے کہا کہ چار سال تک عوامی مسائل پر جدوجہد کے بعد اقتدار حاصل ہونے کی امید تھی، لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ انھوں نے کہا کہ وائی ایس آر کانگریس کی جیت ہار میں صرف 5 لاکھ ووٹوں کا فرق ہے، اس کے باوجود پارٹی کو 9 لوک سبھا اور 67 اسمبلی نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو ریاست کی تقسیم کے بعد سرکاری خزانہ پر نظر ڈالے بغیر کبھی پورے نہ ہونے والے وعدے عوام سے کئے ہیں، جب کہ انھیں بھی اس طرح کے وعدوں کے لئے زور دیا گیا، تاہم ہم نے جھوٹے وعدوں سے انکار کردیا، کیونکہ سیاست میں سچائی، اصول پسندی اور عوامی اعتماد ان کے نزدیک کافی اہمیت رکھتے ہیں۔ وہ اقتدار کے لالچ میں عوام کو گمراہ کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ جگن موہن ریڈی نے نریندر مودی سے ملاقات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد آندھرا پردیش کی ترقی کے لئے انھوں نے مودی سے ملاقات کی اور ان سے صرف تلنگانہ بل کی خامیوں پر بات چیت کی، لیکن ہماری ملاقات کو بھی سیاسی مسئلہ بنا دیا گیا۔ قبل ازیں انھوں نے راج شیکھر ریڈی کی سمادھی پر پھول پیش کئے۔

TOPPOPULARRECENT