Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / جگن موہن کی بدعنوانیاں سی بی آئی سے ایف بی آئی تک رسائی

جگن موہن کی بدعنوانیاں سی بی آئی سے ایف بی آئی تک رسائی

ملک کا وقار مجروح، سومی ریڈی چندرا موہن ریڈی کا الزام

ملک کا وقار مجروح، سومی ریڈی چندرا موہن ریڈی کا الزام

حیدرآباد 11 اپریل (سیاست نیوز) جگن موہن ریڈی کی بدعنوانیاں سی بی آئی سے ایف بی آئی تک رسائی حاصل کرچکی ہیں۔ تلگودیشم رکن پولیٹ بیورو سابق ریاستی وزیر مسٹر سومی ریڈی چندر موہن ریڈی نے آج ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ اُنھوں نے بتایا کہ سیما آندھرا میں جگن موہن ریڈی اپنا وقار کھو چکے ہیں جس کی اہم وجہ اُن کی بدعنوانیاں و بے قاعدگیاں ہیں جو اُنھوں نے اپنے والد کے اقتدار کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے انجام دی تھیں۔ چندر موہن ریڈی نے بتایا کہ سیما آندھرا میں تلگودیشم پارٹی کا کسی سیاسی جماعت سے مقابلہ نہیں ہے چونکہ عوام یہ اچھی طرح جان چکے ہیں کہ اُنھیں نقصان پہنچانے والی طاقتیں کون ہیں اور کون سیما آندھرا عوام کی ترقی کے لئے قابل عمل منصوبہ رکھتے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ ریاست آندھراپردیش کی تقسیم کے مسئلہ پر تلگودیشم پارٹی کا موقف دونوں ریاستوں کے عوام کے لئے قابل قبول رہا اور دونوں علاقوں میں تلگودیشم پارٹی کو عوامی مقبولیت حاصل ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ تلگودیشم پارٹی کی جانب سے کبھی اقتدار کے حصول کے لئے جدوجہد نہیں کی بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لئے جدوجہد کے ذریعہ حکومتوں کو مجبور کیا گیا۔ چندر موہن ریڈی نے کانگریس کو بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کی پشت پناہی کرنے والی سیاسی جماعت قرار دیتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے دور اقتدار میں ہوئی بدعنوانیوں کی تحقیقات اب بین الاقوامی سطح پر ہورہی ہیں اور ایف بی آئی کی جانب سے کانگریسی رکن پارلیمنٹ کے وی پی رامچندر راؤ کے خلاف بدعنوانیوں کے معاملہ میں چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ آندھراپردیش میں ہوئے بدعنوانیوں کے معاملات کی ایف بی آئی کی جانب سے تحقیقات سے ملک کا وقار مجروح ہوا ہے۔ سی بی آئی تحقیقات کئی معاملات میں اب بھی جاری ہے لیکن اُس کی سست رفتاری سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملزمین کو کسی کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ایسی صورت میں جب ایف بی آئی کی جانب سے چارج شیٹ داخل کی جاتی ہے تو عوام کو اِس بات کا اچھی طرح سے اندازہ ہوجائے گاکہ تلگودیشم پارٹی کی جانب سے سابق میں لگائے گئے الزامات میں صداقت ہے۔

TOPPOPULARRECENT