Thursday , September 20 2018
Home / Top Stories / جگن کو بی جے پی سے دور رکھنے نائیڈو کی سیاسی چال

جگن کو بی جے پی سے دور رکھنے نائیڈو کی سیاسی چال

مودی حکومت سے تلگودیشم وزرا کے استعفے
این ڈی اے سے بھی دوری کا امکان ‘خصوصی موقف پر سیاست گرم ‘2019 میں بی جے پی کو نقصان کا اندیشہ
آندھراپردیش میں تکونی سیاسی عاشقی

حیدرآباد /9 مارچ ( سیاست نیوز ) چیف منسٹر آندھر پردیش مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے آندھراپردیش کو خصوصی موقف نہ دینے پر بطور احتجاج بلاخر اپنے دو کابینی وزراء کو مستعفی کروالیا ۔ تلگودیشم کے اشوک گجپتی راجو وزیر شہری ہوابازی اور وائی ایس چودھری مملکتی وزیر سائنس و ٹکنالوجی کی ذمہ داری نبھارہے تھے ۔ تلگودیشم کو بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے کی ایک اہم حلیف سمجھا جاتا ہے لیکن مودی اور خاص طور پر ارون جیٹلی سے چندرا بابو نائیڈو کی ناراضگی نے این ڈی اے میں ایک ایسے وقت دراڑیں پیدا کر رہی ہیں جب مودی اور امیت شاہ 2019 پارلیمانی انتخابات کیلئے حکمت عملی تیار کر رہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ این ڈی اے کی صفوں میں انتشار کا آغاز ہوچکا ہے ۔ اتحاد میں دراڑیں پیدا کرنے کی سب سے پہلے شروعات بی جے پی کی اہم حلیف شیو سینا نے کی جو مہاراشٹرا میں مخلوط حکومت کا حصہ ہے ۔ موجودہ آثار و قرائین سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیوسینا کسی بھی وقت مہاراشٹرا حکومت سے علحدگی اختیار کرسکتی ہے ۔ حالیہ عرصہ میں صدر شیوسینا ادھو ٹھاکرے و رکن پارلیمنٹ سنجے راوت ، وزیر اعظم نریندر مودی ‘ حکومت کی پالیسیو ںکو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔ شیو سینا نے تو 2019 لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی سے اتحاد کے بغیر مقابلہ کا اعلان بھی کیا ہے ۔ شیوسینا ، بی جے پی سے بہت دور ہوگئی ہے ۔ پنجاب اسمبلی انتخابات میں ناکامی کے بعد اس کی ایک اور حلیف شرومنی اکالی دل بھی بی جے پی سے ناراض ہے ۔ اس نے 2019 کے ہریانہ اسمبلی انتخابات میں تنہا مقابلہ کا اعلان کردیا ہے ۔ بہار میں سابق چیف منسٹر جتن رام مانجھی کی ہندوستان عوامی مورچہ سیکولر نے بھی این ڈی اے سے اتحاد ختم کردیا ۔ جموں کشمیر میں محبوبہ مفتی کے ساتھ بی جے پی کے اختلافات بڑھ گئے ہیں ۔ این ڈی اے کے علاقائی حلقوں میں پھیلی بے چینی اور ناراضگی سے بی جے پی کو 2019 انتخابات میں خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔ جہاں تک چندرا بابو نائیڈو کی ناراضگی اور مرکزی کابینہ سے دو نمائندوں کو مستعفی کرانے کا معاملہ ہے اس سے نہ صرف آندھراپردیش میں بلکہ ملک کے دوسرے حصوں میں بی جے پی حلیف جماعتوں پراثر پڑسکتا ہے ۔ چندرا بابو نائیڈو کیلئے آندھراپردیش کو خصوصی موقف دلانا اس لئے بھی اہم ہے کہ آندھرا پردیش میں اس مسئلہ پر وائی ایس کانگریس سربراہ جگن موہن ریڈی نے انہیں پریشان کر رکھا ہے ۔ جگن موہن ریڈی ، چندرا بابو نائیڈو پر اس وجہ سے تنقید کر رہے ہیں کہ بابو نے ریاست کو خصوصی موقف دلانے کے بجائے خصوصی پیاکیج پر اکتفا کیا ہے ۔ چندرا بابو نائیڈؤ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ایک شاطر سیاستداں ہیں وہ وہی کرتے ہیں جو ان کے مفاد میں ہوتا ہے ۔ اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے وہ خسر و برادر نسبتی یہاں تک کہ وزیر اعظم مودی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے ۔ انہوں نے مرکزی کابینہ سے تلگودیشم وزراء کو مستعفی کرواتے ہوئے ایک تیر سے دو نہیں بلکہ کئی شکار کئے ہیں ۔ ایک تو انہوں نے تلگودیشم کو مظلوم اور مودی حکومت کو ظالم کی حیثیت سے پیش کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔ دوسرے اس اقدام کے ذریعہ وہ مستقبل میں بی جے پی وائی ایس آر سی کی امکانی مفاہمت کے دورازے بھی بند کرچکے ہیں ۔ اگر جگن موہن ریڈی بی جے پی سے قربت اختیار کرتے ہیں تو بابو عوام کو یہ بتائیں گے کہ ریاست کو خصوصی موقف نہ دینے پر انہوں نے اپنے دو مرکزی وزراء کو مستعفی کروایا ۔ مرکزی حکومت سے دوری اختیار کی لیکن جگن آندھراپردیش کو خصوصی موقف سے انکار کرنے والی بی جے پی کی تائید کر رہے ہیں ۔ ایسے میں تلگو دیشم کو یہ پختہ یقین ہوگیا تپگ جے جگن اور بی جے پی کے درمیان خفیہ مفاہمت ہوگئی ہے ۔ دوسری طرف بی جے پی کو بھی اندازہ ہے کہ چندرا بابو نائیڈو ملک بھر میں خوشگوار سیاسی تعلقات رکھتے ہیں۔ جگن نے چندرا بابو نائیڈو کو پریشان کرنے اعلان کیا تاکہ وہ ریاست کو خصوصی موقف دینے کے مسئلہ پر پارلیمنٹ میں مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرینگے ۔ اس سے قبل کہ جگن تحریک عدم اعتماد پیش کرتے چندرا بابو نائیڈو نے مرکزی کابینہ سے اپنے دو وزراء کو مستعفی کروالیا ۔ دوسری طرف چندرا بابو کابینہ میں بی جے پی کے دو وزراء کے سرینواس راؤ اور پی مانکیا راؤ مستعفی ہوگئے ۔ اے پی اسمبلی میں بی جے پی کے چار ارکان ہیں جن کی کامیابی ٹی ڈی پی موہون منت ہے ۔ بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ آندھراپردیش میں اس تکونی سیاسی عاشقی میں کس کا فائدہ ہوتا ہے ۔ جگن کا یا چندرا بابو نائیڈو کا ، جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے اس کو آندھرامیں خاص فائدہ ہونے کا امکان نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT