Saturday , December 16 2017
Home / مضامین / جھارکھنڈ میں تحفظ گاؤ ۔ مظلوم ، امتیاز ہوئے شہید

جھارکھنڈ میں تحفظ گاؤ ۔ مظلوم ، امتیاز ہوئے شہید

محمد ریاض احمد
ہندوستان میں فرقہ پرست ، گائے جیسی جانور کے تحفظ کے نام پر انسانوں کو قتل کرنے لگے ہیں۔ مرکز میں جب سے نام نہاد قوم پرستوں نے اقتدار سنبھالا ہے ملک میں ہر طرف تباہی و بربادی کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ فرقہ پرستوں کے حوصلے اس قدر بلند ہوگئے ہیں کہ وہ دن دہاڑے ہجوم کی شکل میں یہ بہانے بناتے ہوئے حملہ کررہے ہیں کہ اس گھر میں گائے کا گوشت کھایا جارہا ہے، فلاں گھر میں گائے ذبیحہ کی گئی ہے۔ فرقہ پرست اس معاملہ میں دارالحکومت دہلی کے سرکاری گیسٹ ہاوزس اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسی یونیورسٹی کے میس کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کررہے ہیں جبکہ ہمارے وزیر اعظم نریندرمودی ہنوز خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ان کی زبان کھولتی ہے تو صرف اپنی اور اپنی حکومت کی تعریف و ستائش میں یا پھر صوفی کانفرنس کے نام پر ہندوستانی مسلمانوں میں انتشار بیدا کرنے کے لئے بلائی گئی کانفرنس میں وہ مجبوراً دین اسلام کی تعریف کرکے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کو بے وقوف بنایا ہے۔ ایسا نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ مودی نے صوفی کانفرنس میں اسلام کے بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ دل سے اس کے متعرف نہیں ہیںبلکہ انہوں نے ایک طرح اپنے آپ کو اور صوفیوں کے اپنے ہمنوا گروپ کو بیوقوف بنایاہے، جبکہ حقیقی اللہ والے صوفی حضرات اس طرح کی کانفرنسوں اور انسانیت کو نقصان پہنچانے والے فرقہ پرستوں سے خود کو در رکھتے ہیں ، ان کی جبینیں صرف اپنے رب کے دربار میں ہی جھکتی ہیں وہ کسی راجہ مہاراجہ، نواب ، شہزادہ یا پھر کسی صدر ووزیر اعظم اور سیاستدانوں کی پرواہ نہیں کرتے ان کے دلوں میں صرف انسانیت کا جذبہ ہوتا ہے۔ بلالحاظ مذہب و ملت رنگ و نسل اور علاقہ ہر انسان سے وہ پیار کرتے ہیں۔ نفرتوں کے لئے ان کے دلوں میں کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ وہ توڑنے والی نہیں بلکہ جوڑنے والی چیزوں کو پسند کرتے ہیں۔ بہرحال ہم بات کررہے تھے وزیر اعظم نریندر مودی کی انہوں نے انٹرنیشنل صوفی کانفرنس میں بہت بڑی بڑی باتیں کیں۔ قوالیوں اور صوفیانہ کلام سے محظوظ بھی ہوئے، میڈیا میں یہاں تک لکھا گیا کہ قوالیاں سن کر وہ جھوم اٹھے۔ ان کی انگلیاں حرکت کرنے لگیں یہ تو اچھا ہوا کہ وہ قوالیوں سے حد سے زیادہ محظوظ نہیں ہوئے ورنہ بعض ایسے بھی ہیں جو یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کرتے کہ مودی وجد میں آگئے تھے‘‘ جہاں تک ہمارے وزیراعظم نریندر مودی جی کا سوال ہے وہ زندگی بھر وجد میں نہیں آسکتے ہاں طیش میں آسکتے ہیں۔ سماجی جہد کار آج بھی گجرات فسادات 2002ء کو جن میں ہزاروں نہتے مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اسے مودی جی کے طیش کا نتیجہ ہی قرار دیتے ہیں جیسا کہ سطور بالا میں ہم نے لکھا ہے کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر پرتشدد ہجوم کے حملوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔

حال ہی میں جھارکھنڈ میں دو مسلم نوجوانوں کو مویشیوں کے بازار میں صرف اس لئے قتل کرکے ان کی نعشیں درخت سے لٹکا دی گئیں کیونکہ وہ اس بازار میں اپنے بیل فروخت کرنے کے لئے پہنچے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ 35 سالہ مظلوم انصاری اور 13 سالہ امتیاز خان کے فرقہ پرست درندوں کے ہاتھوں بہیمانہ قتل کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں کوتاہی نہ برتنے والی پولیس آپسی مخاصمت کا نتیجہ ثابت کرنے میں مصروف ہوگئی ہے۔ جھارکھنڈ کے لاتیہار ضلع میں بالو ماتھ تھانہ کے موضع جھابر میں دو مسلم  نوجوانوں کے بیدردانہ قتل کے واقعہ نے گزشتہ سال دادری میں پیش آچکے اخلاق احمد کے قتل کی یادیں تازہ کردیں ہیں۔ عین بقرعید کے موقع  پر دادری میں فرقہ پرست شیطانوں نے ذبیحہ گاؤ کا بہانہ بناتے ہوئے ہجوم کی شکل میں اخلاق کے گھر پر حملہ کرتے ہوئے انہیں اور ان کے بیٹے کو بے تحاشہ انداز میں مارپیٹ کی تھی اس واقعہ میں اخلاق نے تو جام شہادت نوش کیا لیکن ان کے فرزند شدید زخمی ہوگئے۔اخلاق کے گھر میں پائے گئے گوشت کے فارنسک لیباریٹری میں کئے گئے تجربات سے یہ ثابت ہوگیا کہ وہ گوشت گائے کا نہیں بلکہ بکرے کا تھا۔ اصل وجہ گائے کے گوشت کے بہانے اخلاق اور ان کے فرزند کو قتل کرنا تھا، کیونکہ ایک مسلمان کا قتل کسی کو بھی راتوں رات ہندوتوا کا لیڈر بنادیتا ہے۔ ہندوستان میں ایسا لگتا ہے کہ غریب مسلمانوں کی فریادیں سننے والا کوئی نہیں ہے جو مسلم سیاسی قائدین ہیں وہ اپنے مفادات کے حصول میں ہی بند ہیں جب بھی ان کے اپنے شخصی مفادات کو نقصان پہنچتا ہے وہ اس خول سے نکل کر مسلمانوں کے ساتھ نانصافی کا رونا روتے ہیں اور پھر مفادات کی تکمیل کے ساتھ ہی اپنے خول میں بند ہو جاتے ہیں جہاں انہیں مسلمانوں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں اور نہ ہی کسی مسلمان کا بیدردانہ قتل انہیں دکھائی دیتا ہے۔ بہرحال اقتدار پر مودی جی کے فائز ہونے کے ساتھ ہی فرقہ پرست درندوں کے حوصلے کافی بلند ہوگئے ہیں وہ مسلمانوں،عیسائیوں پر حملے کرتے ہوئے اپنے آقاؤں اور سرپرستوں کے منظور نظر بننے کے خواہاں ہیں۔ دادری سے لے کر جھارکھنڈ میں پیش آیا دلوں کو دہلانے والا یہ تازہ واقعہ بھی ان کی درندگی کا ایک سلسلہ دکھائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر دادری میں ذبیحہ گاؤ کے نام پر اخلاق کو شہید کیا گیا ان کے فرزند کو شدید مارا پیٹا گیا۔ کیرالا ہاوس کے باورچی خانہ پر صرف اس افواہ پر چھاپہ مارا گیا کہ وہاں بیف سربراہ کیا جارہا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے میس پر بھی چھاپہ مار کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ دنیا میں بطور خاص مسلمانوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لئے قائم کردہ اس یونیورسٹی کے میس میں گائے کا گوشت سربراہ کیا جارہا یہ۔ راجستھان کی میواڑ یونیورسٹی میں بھی کشمیری طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے لئے ایک جھوٹی کہانی گھڑی گئی کہ یہ کشمیری طلبہ گائے کا گوشت کھا رہے ہیں۔ جارکھنڈ کے واقعہ پر راجیہ سبھا میں کانگریسی رکن غلام نبی آزاد نے آواز اٹھاکر فرقہ پرست حکومت کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی ہے کہ وہ بلا لحاظ مذہب عوام کے تمام طبقات کی ترقی و بہبود کے لئے کام کرے انہیں مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے بھیانک جرم کا ارتکاب نہ کرے ہوسکتا ہے کہ اس طرح کی حرکتوں سے فرقہ پرستوں کو عارضی فواعد حاصل ہوں لیکن ہمارے وطن عزیز جنت نشاں ہندوستان کو ناقابل تصور نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگر مسلمانوں کے خلاف پرتشدد ہجوم کے حملوں کا سلسلہ یوں ہی جاری رہے تو آنے والے دن ملک کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہم اپنے بیرونی دشمنوں کا رونا روتے ہیں، ہمیشہ ان کی سازشوں کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں لیکن ملک میں فرقہ پرست درندوں کی شکل میں داخلی دشمن اقلیتوں پر حملہ کرکے امن و امان کو جو نقصان پہنچا رہا ہے اس عظیم ملک کی بنیادوں کو ہلانے کی جو کوشش کررہا ہے اسے نظرانداز کردیتے ہیں آج ہمیں بیرونی دشمنوں سے نہیں بلکہ ان فرقہ پرست طاقتوں سے شدید خطرات لاحق ہیں جو مذہب زنام اور علاقہ کے کام پر عوام کو تقسیم کررہی ہیں۔ جانوروں کے بہانے انسانوں کو کاٹ رہی ہیں۔ بے قصور انسانوں کی نعشیں درختوں سے لٹکا رہی ہیں۔ دلت بچوں کو زندہ جلارہی ہیں، تحفظات کے نام پر احتجاج کے دوران حواتین کی عصمت ریزی جیسے سنگین جرم کا ارتکاب کررہی ہیں، دستور سے کھلواڑ کرتے ہوئے ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو تباہ و برباد کررہی ہیں۔ جھارکھنڈ میں مظلوم انصاری اور کمسن امتیاز خان کا قتل ملک میں فرقہ پرستی کو ہوا دینے کے سوا کچھ نہیں۔ اگر کوئی مسلمان کاشتکاری میں استعمال ہونے والے جانور فروخت کے لئے لے جاتا ہے تو کیا وہ جرم اور گناہ ہے؟ 35 سالہ مظلوم انصاری کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ چار بچوں کے باپ تھے، فرقہ پرست درندوں نے ایک نوجوان کو موت کی نیند سلاتے ہوئے اس شہید کے گھر والوں کو ایک طرح سے تباہ کردیا۔ کمسن بچوں کے مستقبل کو اجاڑ دیا ہے۔ مظلوم انصاری کے بھائی افضل انصاری کے مطابق ان کے بھائی کے چار چھوٹے چھوٹے بچے۔ ہیں درندوں نے ان کا قتل کرکے ان بچوں کی دنیا تاریک کردی ہے۔ انہیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ ارکان خاندان مکمل طور پر بدحواس ہوچکے ہیں انہیں کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کریں تو کیا کریں۔ انصاف کے لئے جائیں تو کہاں جائیں۔

ویسے بھی قاتلوں سے انصاف کی توقع ہرگز نہیں کی جاسکتی۔ افضل انصاری نے اپنے بھائی اور پڑوسی لڑکے امتیاز خان کے قتل کے لئے مقامی گاؤ رکھشا سمیتی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے، لیکن پولیس کو قتل کا یہ واقعہ آپسی مخاصمت کا نتیجہ لگتا ہے۔ ڈکیتوں کی کارستانی دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ ہندوستانی میڈیا نے ظلم و جبر اور ناانصافی کے اس بدترین واقعہ کو شاید جان بوجھ کر زیادہ اہمیت نہیں دی، لیکن انہیں اندازہ نہیں ہے کہ مظلوموں کا خون بولنے گلتا ہے تو اقتدار پر بیٹھی طاقتوں کو بھی حرکت میں آنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان پر ایسی ہیبت طاری کر دیتا ہے کہ وہ جھنجھلاہٹ و گھبراہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کا ذہنی و قلبی سکون تباہ و برباد ہو جاتا ہے، بظاہر وہ ہشاش وبشاش نظر آتے ہیں لیکن تنہائی میں ان کے گناہ اور جرائم ان کے ضمیر کو بار بار مجروح کرتے رہتے ہیں اور ضمیر پر جو زخم لگتے ہیں ان کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کو دکھائی نہیں دیتے، لیکن ظالم کو ہمیشہ تڑپاتے رہتے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی تنظیم کوئی سیاسی جماعت اور کوئی لیڈر یہ سمجھتا ہے کہ وہ اقلیتوں پر حملے کرکے یا انہیں شہید کراتے ہوئے اقتدار کا سکون حاصل کرسکتا ہے تو یہ اس کی سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ اسے جان لینا چاہئے کہ مسلمان1.25 ارب آبادی کے حامل اس ملک میں 14 فیصد سے زیادہ ہیں اور ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے ساتھ ناانصافی، حق تلفی نہیں کی جاسکتی اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر سارے ملک کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑسکتا ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ اقلیتوں کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس نعرہ لگانے سے ملک کی ترقی نہیں ہوتی ملک میں سرمایہ کاری کے بہا ومیں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ سب کے ساتھ انصاف اور سب کے حقوق کے تحفظ کے ذریعہ ہی ملک کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔ اگر یہ بات حکومت اور ہمارے سیاسی قائدین جان لیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہندوستان کو سپر پاور بننے سے نہیں روک سکتی۔
[email protected]

 

ابو کہاں ہیں ؟ مظلوم انصاری کے بچوں کا سوال ؟

جھارکھنڈ کے موضع جھابر میں دو غریب مسلمانوں کو فرقہ پرستوں کے ہاتھوں شہید کئے جانے کے بعد سے اس گاؤں اور اطراف و اکناف کے علاقوں میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ نوجوان مظلوم انصاری کے پانچ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جبکہ ان کی بیوہ سائرہ بی بی کی عمر بھی بہت کم ہے ۔ نواڈہ میں یہ خاندان مٹی کے ایک کچے مکان میں مقیم ہے ۔ غربت کے باوجود مظلوم انصاری اپنی بیوی بچوں اور دیگر افراد خاندان کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گذار رہے تھے ۔ ان کا قصور یہی تھا کہ وہ مسلمان تھے اور اپنے بیل قریبی گاؤں میں منعقدہ مویشی میلہ میں فروخت کیلئے لے جارہے تھے ۔ 18 مارچ کو یہ اندوہناک واقعہ پیش آیا ۔ سیاست نے اس واقعہ کی مسلسل تفصیلات حاصل کی ہیں ۔ مظلوم انصاری شہید کے بچے ہنوز اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ ان کے ابو اس دنیا میں نہیں رہے ۔ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے انھیں چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جاملے ہیں ۔ سائرہ بی بی شدت غم کے مارے بات کرنے سے بھی قاصر ہے ۔ بچے بار بار ابو ابو کی صدائیں لگاتے ہوئے رورہے ہیں ۔ وہ یہ دیکھ کر بھی حیران ہیں کہ آخر لوگوں کی اتنی کثیر تعداد ان کے گھر کیوں پہنچ رہی ہے ۔ مظلوم انصاری کے بھائی افضل انصاری بار بار روتے ہوئے اپنے بھائی اور کمسن لڑکے امتیاز خان کے ساتھ پیش آئے المناک واقعہ کے بارے میں بتاتے ہوئے ایسے چپ ہوجاتے ہیں کہ انھیں جھنجھوڑنا پڑتا ہے کہ اب خاموشی توڑو کچھ بولو ۔ آج شہید مظلوم انصاری کی بیوہ اور بچے ہر کسی کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں ۔ سی پی آئی ایم کی سینئر لیڈر برندا کرت نے خود مظلوم انصاری کے گھر پہنچ کر ان کی بیوہ، بچوں اور بھائی افضل انصاری سے ملاقات کرتے ہوئے سخت الفاظ میں اس بدترین واقعہ کی مذمت کی ۔ سی پی آئی (ایم) پولٹ بیورو کی اس خاتون رکن نے فرقہ پرستوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انھیں ایسے وحشیوں سے تعبیر کیا جو انسانوں کو نوچ کر کھارہے ہیں ۔ برندا کرت نے سائرہ بی بی اور ان کے بچوں سے ملاقات کے بعد کہا کہ ان کی پارٹی اس واقعہ کی سی بی آئی تحقیقات ، مظلوم انصاری اور امتیاز خان کے خاندانوں میں سے ایک ایک فرد کو سرکاری نوکری اور دونوں خاندانوں کو فی کس 50 لاکھ روپئے معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کرتی ہے ۔ برندا کرت کے اس دورہ میں ان کے ہمراہ ممتاز سماجی جہدکار تنویر احمد بھی شامل تھے جنھوں نے ہمیں پل پل کی خبر دی ہے ۔ برندا کرت نے ایک وفد کے ہمراہ گورنر ڈروپدی مرمو اور چیف منسٹر رگھوبرداس سے بھی ملاقات کی جبکہ سابق چیف منسٹر بابو لال مرانڈی ، ہیمنٹ سورین ، کانگریس کے ریاستی صدر سکھ دیو بھگت اور کئی سیاسی قائدین نے مظلوم انصاری کی بیوہ اور بھائی سے ملاقات کرکے انھیں ممکنہ تعاون کا تیقن دیا ۔ قائد اپوزیشن ہیمنت سورین نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت ریاست میں آر ایس ایس ایجنڈہ کو لاگو کررہی ہے لیکن ان کی پارٹی حکمران جماعت کو ایسا کرنے نہیں دے گی ۔ وہ مظلوم انصاری کی لڑائی لڑے گی ۔ دوسری طرف مظلوم انصاری کے خاندان نے جہاں خاطیوں کے خلاف 302 کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا وہیں اخلاق احمد کے خاندان کی طرح انھیں بھی 35 لاکھ روپئے معاوضہ اور ایک فرد خاندان کو سرکاری ملازمت دینے کی مانگ کی مظلوم انصاری کے خاندان نے ریاستی حکومت کی جانب سے دی گئی ایک لاکھ روپئے کی امداد بھی ٹھکرادی ۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان نے مظلوم انصاری اور کمسن لڑکے امتیاز خان کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اس خاندان کی ممکنہ مدد کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے اس واقعہ کو ہندوستانی تاریخ کے بدترین واقعات میں سے ایک قرار دیا ۔ مظلوم انصاری کی بیوہ کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اس طرح ہیں ۔
NAME :  SAIRA BIBI  W/o MD MAJLUM ANSARI
ACCOUNT NO. 35654067075, STATE BANK OF INDIA
BRANCH CODE – 14728,   IFSC – SBINOO14728
BLOCK – HERHANJ,  JHARKAND.

TOPPOPULARRECENT