Friday , December 15 2017
Home / بچوں کا صفحہ / جھوٹی تعریف اور خوشامدی کا انجام

جھوٹی تعریف اور خوشامدی کا انجام

ایک بادشاہ بڑا رحم دل اور رعایا پرور تھاجو بھی اس کے پاس آتا وہ اسے ضرور کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرتا۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ بادشاہ کے سر میں غرور سمانے لگا اور وہ اپنی جھوٹی تعریف سن کر خوش ہونے لگا۔ جب یہ خبر عام ہوئی تو ایک دن بادشاہ کے محل میں ایک لالچی اور خوشامدی فقیر آیا اس فقیر نے بادشاہ کے محل میں جاکر بادشاہ کی جھوٹی تعریفیں کرتے ہوئے صدا لگانا شروع کی کہ ’’ ہمارا بادشاہ بڑا سخی ہے جو کوئی نہ دے پائے وہ راجا دے۔‘ بادشاہ کو یہ بات سن کر بڑی خوشی ہوئی۔
اس نے فقیر کو ایک پپیتا انعام میں دے کر اسے رخصت کیا۔ فقیر نے پپیتا لیا اور منہ لٹکائے واپس ہوگیا، اسے اس انعام سے ذرا بھی خوشی نہیں ہوئی۔پہلے فقیر کے جاتے ہی دوسرا فقیر محل میں داخل ہوا اور اس نے حق بات کی صدا لگانا شروع کی کہ ’’ جو اللہ دے وہ کوئی نہ دے پائے نہ ہی ہمارے بادشاہ ‘‘ فقیر کی یہ بات بادشاہ کو ناگوار گذڑی۔ لیکن چونکہ وہ عام رعایا میں سخی اور رحم دل مشہور تھا اس لئے محل میں آئے ہوئے فقیر کو خالی ہاتھ واپس لوٹانا اس نے مناسب نہ جانا، سو اس نے اس فقیر کو دو سونے کے سکے دیئے اور محل سے رخصت کردیا۔ دوسرا فقیر دو سونے کے سکے پاکر بہت خوش ہوا۔ اتفاق سے دونوں فقیروں کی بازار میں ملاقات ہوگئی۔ پہلا فقیر بہت زیادہ دکھی نظر آرہا تھا۔ دوسرے فقیر نے اس سے پوچھا ’’ دوست ! تم اتنے دکھی کیوں دکھائی دے رہے ہو۔‘‘ پہلے فقیر نے جواب دیا ’’ میں بادشاہ کے محل میں گیا تھا اور اس کی تعریف بھی کی اور اس نے انعام میں مجھے صرف ایک پپیتا دیا ہے جو میرے کسی کام کا نہیں۔‘‘ دوسرے فقیر نے کہا ’’ میں بھی بادشاہ کے محل میں گیا تھا اور میں نے ایک صحیح اور سچی بات کہی تھی، وہ سن کر بادشاہ نے مجھے دو سونے کے سکے انعام دیئے جنہیں پاکر مجھے بہت خوشی ہوئی۔‘‘ پہلے فقیر نے دوسرے فقیر سے کہا ’’ کیا تمہیں پپیتا پسند ہے؟ ‘‘ دوسرا فقیر جسے دولت سے محبت نہیں تھی اور نہ ہی وہ لالچی تھا کہنے لگا کہ ’’ ہاں ! مجھے پپیتا پسند ہے۔‘‘پہلا فقیر یہ سن کر کہتا ہے: ’’ تو تم یہ پپیتا خریدلو۔ ‘‘دوسرا فقیر دونوں سونے کے سکوں کے بدلے میں وہ پپیتا خرید لیتا ہے۔ پہلا فقیر سونے کے سکے پاکر بہت خوش ہوتا ہے اور وہاں سے چلا جاتا ہے۔ دوسرا فقیر جب اپنے گھر لوٹتا ہے اور پپیتا کاٹتا ہے تو اس میں سے ہیرے جواہرات نکلتے ہیں اور وہ سمجھ جاتا ہے کہ مجھے بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے کا انعام ملا ہے۔ جبکہ دوسرا لالچی اور خوشامدی فقیر چند ہی دن میں پورے پیسے اُڑا کر دوبارہ بادشاہ کے محل میں بھیک مانگنے جاتا ہے۔ جیسے ہی بادشاہ اس کو دیکھتا ہے تو پوچھتا ہے کہ ’’ اے فقیر میں نے تو تیری بات سن کر خوشی میں تجھے ہیرے جواہرات سے بھرا ہوا پپیتا انعام میں دیا تھا، کیا ہوا کہ تو پھر سے بھیک مانگنے لگا؟ ‘‘پہلے فقیر نے دوسرے فقیر سے ملنے اور دو سکوں کے بدلے میں پپیتا بیچنے کی بات بتائی۔ یہ سن کر بادشاہ کو بڑا تعجب ہوا، اس نے دوسرے فقیر کو محل میں طلب کیا اور پوچھا کہ ’’ پپیتا کاٹنے پر اس میں سے کیا نکلا ؟ ‘‘ اس نے سب کچھ سچ سچ بتادیا اور یہ بھی کہا کہ ’’ میں نے یہ پپیتا اس لئے پہلے فقیر کو واپس نہیں کیا کہ میں نے سن رکھا تھا کہ بادشاہوں کے سامنے حق بات کہنے پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو انعام سے نوازتا ہے۔ اس لئے میں سمجھ گیا کہ پپیتا کے ذریعہ مجھ کو اللہ تعالیٰ نے انعام عطا کیا ہے۔‘‘ یہ سن کر بادشاہ کی آنکھیں کھل گئیں اور وہ دوبارہ پہلے جیسا نرم دل اور تواضع والا بادشاہ بن گیااور لالچی فقیر کو اس نے جلاوطن کردیا ۔

TOPPOPULARRECENT