Thursday , July 19 2018
Home / Top Stories / جھوٹی خبروں اور حوالوں کی فیکٹری۔ خطرناک رحجان ۔ الٹ نیوز کا انکشاف

جھوٹی خبروں اور حوالوں کی فیکٹری۔ خطرناک رحجان ۔ الٹ نیوز کا انکشاف

Alt News Courtest

الٹ نیوزنے ایک ایسے جھوٹ کی فیکٹری کا بھانڈا پھوڑا ہے جو جھوٹے حوالوں کی فیکٹری ہے۔پہلے یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب پرکاش راج ‘ سوارا بھاسکر اور فرحان اخترکے نام سے ایک جھوٹا حوالہ سوشیل میڈیاپر وائیرل ہوا۔ ان کے نام سے پھیلائے جارہے اس جھوٹے بیان کے متعلق تینوں اداکاروں نے کہاکہ انہوں نے کبھی اس طرح کے بیان دئے ہی نہیں ہیں۔الٹ نیوز کی مزید جانچ پڑتال میں اس طرح کے مزید حوالے بھی سامنے ائے۔

ادکارؤں‘ مصنفین‘ سماجی کارکن ‘ سیاست دانوں کے نام سے بہت سے جھوٹی کوڈس پھیلائے جارہے ہیں‘ جس کا مقصد مذہب کی بنیاد پر سماج میں نفرت کو فروغ دینا ہے ۔ اسی طرح کے کچھ کوڈس پر ہم یہاں نظر ڈالیں گے۔

ڈر اور خوف کاماحول پید ا کرنے کے لئے مندرجہ ذیل پیغامات کو واٹس ایپ کے ذریعہ ملک کے اس کونے سے دوسرے کونے تک پہنچایاجارہا ہے۔

آپ کو اس پر یقین ہوگا یا نہیں یہ اور بات ہے ۔ مگر دوبارہ سونچیں ۔ یہ بھڑکاو پیغام کیوں اور کس طرح پھیل رہے ہیں۔

ای ابوبکر پی ایف ائی کیرالا ’’ بنگلہ دیش‘ پاکستان ‘ کشمیر ‘ آسام ‘ کیرالا اور ہندوستان کے دیگر حصوں میں ہم مسلمانوں نے ہندؤوں سے ان کی 70فیصد اراضی چھین لی ہے ۔ اب بھی ہند و یہ ہی سونچ رہے ہیں کہ چودہ سوسالوں میں ہم نے انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچایا ہے‘‘

عبداللہ زبیر ‘ ہندوستان’’تمام ہندؤں ‘ بدھسٹوں‘ سکھو ں او رعیسائیوں سے کہہ دو ‘ ہم اپناجہاد جاری رکھیں گے‘ تمہاری روداری اور سکیولرزم ہماری سونچ نہیں بدل سکتا۔ قرآن کے مطابق جو کوئی مسلمان نہیں ہے اس کوجینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے‘‘۔

فیاض سعید‘ وکیل’’ سرکاری زمین پر مسجد بناؤ‘ کھلی اراضی میں دفن کر اور اس کو قبرستان بنادو‘ ریلوے پلیٹ فارم پر مزار یا درگارہ قائم کردوں‘ لینڈ جہاد سے سارے دنیا پر کی زمین پر مسلمانوں کا حق ہوجائے گا‘‘

اسلام کے ساتھ چھیڑچھاڑ کے طور اسی طرح کے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف گمراہ کن کوڈس بھی پھیلائے جارہے ہیں۔

میناکماری’’میرے شوہر کما ل امروہی نے مجھے طلاق دیدیا۔ دوبارہ شادی کے لئے انہوں نے مجھے امان اللہ خان( زینت امان کے والد) کے ساتھ جبرا حلالہ کروایا ۔ یہ کیسا مذہب ہے اسلام جس میں شوہر خود اپنے دوست کے ذریعہ اپنی بیوی کی عزت لٹواتا ہے‘‘۔

اویسی ’’مسلمانوں کے پاس قوت ہے اور اس لئے وہ دس بچے پیدا کرتے ہیں۔ بے روزگاری ‘ دہشت گردی ‘ سلم بستیاں‘ پانی کی قلت وغیرہ جیسے مسائل پربڑھتی آبادی کی وجہہ سے پیدا ہوتے ہیں تویہ مسلمانوں کا نہیں بلکہ حکومت کا مسئلہ ہے۔

عامر خان’ ’ میں ہندو مذہب کے جہیز ‘ ذات پات وغیرہ کے رواج پر تنقید کی ہے ۔

مگر میں مسلمانوں چار بیویوں‘ دس بارہ بچو ں اور مدرسوں میں بچوں کو دہشت گردی کی تعلیمات دینے کی بات کہہ کر ناراض نہیں کرسکتا ‘ ان کی ناراضگی مول نہیں لے سکتا‘‘۔

ہم نے اروندتی رائے کے حوالے سے اس قسم کے کئی فرضی کوڈس بھی دیکھیں ہیں۔ اندازہ کیجئے کے ان فرضی کوڈس کے جال میں اب تک کتنے لوگ پھنس گئے ہوں گے۔

مندرجہ بالا مثالیں صرف چند ایک ہی ہیں جو اس بات کا ثبوت دینے کے لئے کافی ہیں کہ مذکورہ پیغام کے ذریعہ کس طرح کی نفرت کا ماحول پید اکرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

نفرت اورجھوٹ کی فیکٹری کے اشیاء مارکٹ میں فروخت کرنے والوں فی الحال روہنگی پناہ گزینوں ‘ ایک نشست میں تین طلاق جیسے موضوعات کو نشانہ بناکر سوالیہ نشان لگایا ہے اور لوگوں سے پوچھا ہے کہ اس پر آ پ کی کیارائے ہے۔اب وقت آگیاہے کہ سوشیل میڈیا کے پلیٹ فارم کو اس قسم کی جھوٹی خبروں ‘ حوالوں سے پاک بنانے کی منظم شروعات کی جائے ۔ اور مذکورہ جھوٹ کی فیکٹری کو بند کیاجائے

 

TOPPOPULARRECENT