Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / جھوٹی شان و شوکت کی نمائش کیلئے مقابلہ آرائی سے مسلم معاشرہ کو نقصان

جھوٹی شان و شوکت کی نمائش کیلئے مقابلہ آرائی سے مسلم معاشرہ کو نقصان

دوبدو پروگرام کی عالم گیر سطح پر مقبولیت، 4500 رشتے طے کرانے کا ریکارڈ، جناب زاہد علی خان کا خطاب، سادگی سے شادی بیاہ کے اہتمام کا مشورہ

دوبدو پروگرام کی عالم گیر سطح پر مقبولیت، 4500 رشتے طے کرانے کا ریکارڈ، جناب زاہد علی خان کا خطاب، سادگی سے شادی بیاہ کے اہتمام کا مشورہ

حیدرآباد ۔ 10؍ اگسٹ(دکن نیوز) جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے آج مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی معیشت کو تباہی و بربادی سے بچانے کے لئے شادی بیاہ کی تقاریب میں اسراف اور فضول خرچی کو ترک کر دیں ‘ وہ آج ادارہ سیاست و میناریٹیز ڈیولپمنٹ فورم کے زیر اہتمام محبوب حسین جگر ہال میں منعقدہ پرہجوم دوبدو ملاقات پروگرام کے جلسہ کو مخاطب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ مسلم دشمن طاقتیں چاہتی ہیں کہ مسلمان معاشی طور پر کمزور ہوجائیں اگر ہم اس طرح اپنی شادیوں میں اسراف کرتے رہیں تو پھر مسلم دشمن قوتوں کو تقویت ملے گی۔ انہوں نے والدین و سرپرستوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیوں میں اہم تین پہلوں کو پیش نظر رکھیں جن میں گھوڑے جوڑے کی رقم کو یکسر ترک کر دینا‘ جہیز و لین دین پر اصرار نہ کرنا اور بڑے و مہینگے شادی خانوں میں تقاریب کے اہتمام سے گریز کرنا شامل ہے ۔ جناب زاہد علی خان نے کہا کہ ہماری شادیاں محض دوسروں پر اپنی دولت کا رعب جمانے کے لئے ہوگئی ہیں ۔ لاکھوں روپئے صرف اسٹیج کی سجاوٹ اور دیگر غیر ضروری اُمور پر خرچ کی جا رہی ہیں جس سے پورا مسلم سماج متاثر ہو رہا ہے ۔ متوسط و غریب طبقے کے لوگ سخت پریشان ہیں اور امیر و غیریب مسلمان کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے ۔ اس لئے انہوں نے شادی کے روز کے کھانے کو ترک کرنے کے لئے ایک تحریک کا آغاز کیا ہے جس میں اُن کے ساتھ ساتھ ایم ڈی ایف کے کئی رکن بھی شامل ہیں ۔ اس تحریک کے ثمر آور نتائج برآمد ہو رہے ہیں ۔ جناب زاہد علی خان نے کہا کہ غیر مسلم طبقات کی شادیاں سادگی کے ساتھ منائی جاتی ہیں جن میں ہندو ‘ سکھ اور عیسائی بھی شامل ہیں ۔ یہ طبقات جھوٹی شان و شوکت اور نام نہاد عزت سے گریز کرتے ہیں جبکہ اس کے برعکس ہماری شادیاں ہمارے مذاق کا موجب بن گئی ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بعض مسلمان اس قدر چاپ لوسی اختیار کر رہے ہیں کہ دعوت ناموں پر اپنے نام و نمود کے لئے سیاسی قائدین کا نام ’’زیرسرپرستی‘‘ کی حیثیت سے شائع کر رہے ہیں تاکہ اپنے رشتہ دار ‘ دوست احباب پر اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا سکہ جما سکیں ۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ عرصہ میں اسطرح کے دعوت نامے خود ان کے زیر نظر رہے ہیں جس کاانہیں بڑا افسوس ہے ۔ جناب زاہد علی خان کہا کہ ادارہ سیاست اور ایم ڈی ایف کی جانب سے گذشتہ پانچ برسوں کے درمیان 4500 سے زائد شادیاں طئے کروائی گئی اور یہ کام رضائے الہی کے حصول اور جذبہ خدمت کے تحت انجام دیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دوبدو پروگرام کی مقبولیت عالمگیر سطح تک پہنچ گئی ہے ۔ چنانچہ 345 ملکوں کے 3500 شہروں میں مقیم 18 لاکھ ستر ہزار سیاست کے قارئین جن میں سے بیشتر حیدرآبادیوں نے دوبدو ملاقات پروگرام سے استفادہ کر نے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔
جناب زاہد علی خان نے لڑکیوں کی تعلیم کو مسلم سماج کے لئے فال نیک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اسلام کی سربلندی کی ضمانت حاصل ہوگی اور معاشرہ میں پیدا برائیوں کو دور کیا جاسکے گا ۔ انہوں نے مسلم لڑکوں کو مشورہ دیا کہ وہ تعلیم کے حصول کے لئے سخت جدوجہد و محنت کریں اور اپنا مقام آپ پیدا کریں ۔ جناب عابد صدیقی صدر ایم ڈی ایف نے ابتداء میں خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ خاندانی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لئے غیر اسلامی رسومات کو ترک کرنا ہوگا اسی طرح ہم شادی بیاہ کے معاملات میں سدھار پیدا کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم والدین کی سونچ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔ رشتوں کے انتخاب میں صرف خوبصورتی اوردولت کو معیار بنانے سے ازدواجی زندگی کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ اس اندازفکر میں تبدیلی لانا ناگزیر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دوبدو پروگرام کے باعث تجارتی بنیادوں پر ادارہ پیامات چلانے والوں کے استحصال سے مسلمانوں کو بچایا سکا ہے ۔ انہوںنے اُمید ظاہر کی کہ والدین کے تعاون سے ہم نکاح کو آسان بنانے اور اسراف سے بچنے کے اپنے ارادوں میں کامیاب ہوں گے۔ محمد خواجہ معین الدین جنرل سکریٹری فورم نے جلسہ کی کارروائی چلائی اورشکریہ ادا کیا ۔ اس موقع پر مسرس اقبال احمد خان‘ ڈاکٹر ایس اے مجید ‘ڈاکٹر ایوب حیدری‘ ایم اے قدیر ‘ خدیجہ سلطانہ‘ احمد صدیقی مکیش موجود تھے ۔ جناب سید باشاہ‘ شاہد حسین ‘ زاہد فاروقی‘ حبیب حسین حیات‘ عرشیہ عامرہ‘ رفعیہ سلطانہ ‘محمد نصراللہ خان نے کونسلنگ کی نگرانی کی ۔ پروگرام کے سلسلہ میں رجسٹریشن کاونٹرس قائم کئے گئے تھے جس کی نگرانی ضیاء الرشید ‘ صالح بن عبداللہ باحاذق ‘ سید اصغر حسین‘ محمد احمد اور دوسروں نے کی ۔ جلسہ کی کارروائی کا آغاز قاری محمد امام الدین نے قراء ت کلام پاک سے کیا ۔ محمد خواجہ معین الدین نے بارگاہ رسالت مآبؐ میں ہدیہ نعت شریف پیش کیا ۔ دوبدو پروگرام میں آج لڑکیوں کے 400 اور لڑکوں کے 104 پیامات کا رجسٹریشن کیا گیا ۔ اطلاعات کے بموجب والدین و سرپرستوں نے اُصولی طور پر 27 رشتے طئے کئے جن میں انجنیئرنگ گریجویشن کی تعداد زیاد رہی ۔ صبح ہی سے دفتر سیاست (عابڈز) پر والدین کا بے پناہ ہجوم دکھائی دیا ۔ دفتر کے باہر دور دور تک کاروں‘ موٹر سائیکلوں کی پارکنگ دیکھی گئی ۔ شخصی کونسلنگ کے علاوہ کمپیوٹر پر بھی لڑکوں لڑکیوں کے والدین نے پیامات و فوٹوز کا مشاہدہ کیا ۔ لڑکے و لڑکیوں والوں کو بائیوڈاٹا س اور فوٹوز کا باہمی تبادلہ کرتے ہوئے دیکھا گیا ۔ ایک اندازہ کے مطابق آج کے خصوصی دوبدو پروگرام میں تقریباً 4000 والدین و سرپرستوں نے شرکت کی ۔ کئی والدین و سرپرستوں نے مختلف تجاویز بھی پیش کئے ۔

TOPPOPULARRECENT