Saturday , June 23 2018
Home / دنیا / جھڑپوں میں 5کُردباغیوں کی ہلاکت

جھڑپوں میں 5کُردباغیوں کی ہلاکت

استنبول۔12اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) ممنوعہ کردستان ورکرس پارٹی کے 5باغی ہلاک کردیئے گئے اور ترک فوج کے ساتھ جھڑپوں میں دیگر 4زخمی ہوگئے اور کمزور امن کارروائی پر کاری ضرب لگی جو برسوں سے جاری شورش پسندی کے خاتمہ کیلئے کوشاں ہیں۔ فوج نے کل کہا کہ ترک فوج ضلع دیادین روانہ کردی گئی ہے جو ترکی کے جنوب مشرق کا زرعی علاقہ ہے کیونکہ محکمہ سراغ

استنبول۔12اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) ممنوعہ کردستان ورکرس پارٹی کے 5باغی ہلاک کردیئے گئے اور ترک فوج کے ساتھ جھڑپوں میں دیگر 4زخمی ہوگئے اور کمزور امن کارروائی پر کاری ضرب لگی جو برسوں سے جاری شورش پسندی کے خاتمہ کیلئے کوشاں ہیں۔ فوج نے کل کہا کہ ترک فوج ضلع دیادین روانہ کردی گئی ہے جو ترکی کے جنوب مشرق کا زرعی علاقہ ہے کیونکہ محکمہ سراغ رسانی نے اطلاع دی تھی کہ علحدگی پسند دہشت گرد تنظیموں کو فروغ دینے کیلئے ایک تہوار کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔ سرکاری طور پر ممنوعہ کُرد پارٹی کیلئے یہ ایک تقویت کا ذریعہ ثابت ہورہا تھا ۔ ترکی نے کردوں کی پارٹی کو دہشت گرد گروپس قرار دیا ہے ۔

امریکہ اور یوروپی یونین اور جہاں اس تنظیم کے عہدیدار مقیم ہیں اُن کے حقیقی نام استعمال نہیں کئے جاتے ۔ فائرنگ کے بعد فوج نے کہا کہ جنگجو ہیلی کاپٹرس اور جٹ طیارے ایک کمانڈو یونٹ کے ساتھ اس علاقہ کو روانہ کردیئے گئے ہیں تاکہ 24سے زیادہ عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ کرسکیں ۔ اپنی ویب سائیٹ پر شائع کردہ ایک بیان میں فوج نے توثیق کی ہے کہ 4ترک فوجی جھڑپوں میںزخمی ہوگئے ہیں ۔جب کہ پانچ دہشت گرد ہلاک کئے گئے ۔ ترک فوجیوں کے زخم جان لیوا نہیں ہے اور وہ خطرے میں نہیں ہیں لیکن چوتھے فوجی کا آپریشن کیا گیا ہے ۔

صدر ترکی رجب طیب اردغان نے کرد پارٹی پر الزام عائدکیا ہے کہ وہ ترکی کی امن کارروائی کو تباہ کردینا چاہتی ہے ‘ اس کی اہمیت کم کردینا چاہتی ہے ۔ مغربی ملک کے شہر سکاریا میں بحراسود کے کنارے وہ قوم سے خطاب کررہے تھے ۔ وزیراعظم ترکی احمت دعوت اُوگلو نے اپنے ٹوئیٹر پر تحریر کیا کہ فوج ضروری جوابی کارروائی کررہی ہے تاکہ اس مکارانہ حملہ کا جواب دیا جاسکے ۔ کُرد حامی خبررساں ادارہ دیحا کے بموجب فوج کے حملے سے ایک شہری ہلاک ہوگیا ۔ وہ سابق سیاستداں کیزمی بودک تھا ۔ بے چینی کی علامات ایک پریشان کن تشدد کی شکل میں ظاہر ہورہی ہے جب کہ حکومت چاہتی ہے کہ کردوں کی پارٹی کے ساتھ امن قائم ہوجائے ۔

TOPPOPULARRECENT