جہادیوں کی بھرتی ، القاعدہ کا دہشت گرد شعبہ قائم

نئی دہلی 7 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام )دہش گرد تنظیم القاعدہ نے جس نے حال ہی میں دہشت گرد سرگرمیوں کیلئے ہندوستان میں اپنی شاخ قیادت الجہاد قائم کرنے کا اعلان کیا تھاحال ہی میں جہادیوں کی بھرتی کیلئے یہ شعبہ قائم کردیا ہے ۔ مرکزی محکمہ سراغ رسانی کی خبر کے بموجب پاکستان میںمقیم دہشت گردوں کے ساتھ بات چیت سے انکشاف ہوا کہ القاعدہ کے دہشت گ

نئی دہلی 7 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام )دہش گرد تنظیم القاعدہ نے جس نے حال ہی میں دہشت گرد سرگرمیوں کیلئے ہندوستان میں اپنی شاخ قیادت الجہاد قائم کرنے کا اعلان کیا تھاحال ہی میں جہادیوں کی بھرتی کیلئے یہ شعبہ قائم کردیا ہے ۔ مرکزی محکمہ سراغ رسانی کی خبر کے بموجب پاکستان میںمقیم دہشت گردوں کے ساتھ بات چیت سے انکشاف ہوا کہ القاعدہ کے دہشت گردوں کو یو پی کی ذمہ داری دی گئی ہے اور وہ یہاں آزادانہ طور پر سرگرم ہیں۔ یہ پریشان کن انکشافات سراغ رسانی محکموں کے اس تخمینہ کو اور مستحکم کرتے ہیں کہ انڈین مجاہدین کے خلاف کارروائی کے بعد پاکستانی آئی ایس آئی اور القاعدہ انڈین مجاہدین سے آگے دیکھ رہے تھے تا کہ دہشت گرد کارروائیاں جاری رکھی جاسکے ۔ انڈین مجاہدین کے کئی خوابیدہ شعبے القاعدہ کے نئے شعبہ میں ضم ہوچکے ہیں۔ عہدیداروں کے بموجب بنگلہ دیش میں القاعدہ کا شعبہ روہنگیا مسلمانوں پر مشتمل ہیں اور اسے ذمہ داری دی گئی ہے کہ ہندوستان میں اہم تنصیبات بشمول ٹرینوں کو نشانہ بنانے میں حکمت عملی کی تیاری کے ذریعہ ہندوستان میں موجود دہشت گردوں کی مدد کریں۔ نیپال کے راستے حوالہ کے ذریعہ دبئی سے ان کو مالیہ فراہم کیا جارہا ہے ۔ تحریک طالبان پاکستان بھی ہندوستانی کارکنوں کی مدد کررہی ہے ۔ شبہ ہے کہ اس گروپ کو پاکستانی جماعت الدعوہ سے مالیہ حاصل ہورہا ہے ۔ دبئی میں انور عرف نور، منیری اور خان القاعدہ کیلئے مالیہ فراہم کرنے کا کام کررہے ہیں۔ بنگلہ دیش اور نیپال القاعدہ کارکنوں کے ٹھکانوں کی حیثیت سے ابھر رہے ہیں۔ انڈین مجاہدین کارکن بڑا ساجد، عفیف اور سلطان جنہوں نے القاعدہ سے انحراف کیا ہے اپنے بیان میں اس کا انکشاف کیا ۔ ایک اور کارکن نے جو مغربی بنگال میں کراچی سے آنے والے کارکنوں کا مددگار تھا سرکاری عہدیداروں سے کہا کہ القاعدہ کو ہندوستان میں دہشت گرد شعبوں کیلئے بھرتی میں سخت مشکلات پیش آرہی ہیں۔ پاکستان اور افغانستان سے ہندوستان کو روانہ کئے جانے والے دہشت گردوں کے بارے میں ہندوستانی سراغ رساں محکموں کو اطلاعات حاصل ہورہی ہے جس کی وجہ سے ان کا راستہ روکا جارہا ہے اور سراغ رسانی محکموں افغان مجاہدین کو ان کے حلیہ سے بہ آسانی پہچان سکتے ہیں۔ وہ اپنے عقائد میں کٹر ہوتے ہیں اور اپنے روایتی لباس کے علاوہ دوسرا لباس استعمال کرنے تیار نہیں ہوتے ۔ تاہم انہیں کشمیر میں فدائین حملوں کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ نواز شریف پر آئی ایس آئی اور فوج کا سخت دباو ہے کہ ہندوستان کے خلاف سخت موقف اختیار کریں اور ایسے مسائل اٹھائیں جو پاکستان میں عسکریت پسندوں کی تنظیم کیلئے مدد گار ہوں ۔

TOPPOPULARRECENT