Monday , September 24 2018
Home / دنیا / جہادی تحریک کے تدارک کیلئے نیا عالمی نظام درکار : ایم جے اکبر

جہادی تحریک کے تدارک کیلئے نیا عالمی نظام درکار : ایم جے اکبر

ٹورانٹو ، 25 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مسلم دنیا کو ’’جدیدیت ‘‘ پر مبنی کوئی نیا بین الاقوامی نظام تشکیل دینا چاہئے تاکہ اسلامک اسٹیٹ کی شروع کردہ انتہاپسندی کی اچا نک لہر سے خود کو بچاکر محفوظ رکھا جاسکے ، ایک سینئر بی جے پی لیڈر نے یہ بات کہی ۔ بی جے پی ترجمان ایم جے اکبر نے کل یہاں کہا کہ جب تک مسلم دنیا عالمی حکمت عملی ترتیب دیکر عصری

ٹورانٹو ، 25 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مسلم دنیا کو ’’جدیدیت ‘‘ پر مبنی کوئی نیا بین الاقوامی نظام تشکیل دینا چاہئے تاکہ اسلامک اسٹیٹ کی شروع کردہ انتہاپسندی کی اچا نک لہر سے خود کو بچاکر محفوظ رکھا جاسکے ، ایک سینئر بی جے پی لیڈر نے یہ بات کہی ۔ بی جے پی ترجمان ایم جے اکبر نے کل یہاں کہا کہ جب تک مسلم دنیا عالمی حکمت عملی ترتیب دیکر عصری نظام نہیں بنائے گی جس میں چار ناقابل نظرثانی بنیادی عناصر ہوں جو جمہوریت ، عقیدے کی آزادی ، جنس کی مساوات اور معاشی مساوات ہیں ۔ اس کے بعد ہی جہادی تحریک کو روکا جاسکے گا ۔ بصورت دیگر وہ مسلم برادریوں کو تباہ کردے گی ۔ وہ کل یہاں ہندوستانی قونصل خانہ کی میزبانی میں ایک استقبالیہ سے مخاطب تھے ۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی نظریہ میں جہاد کی بنیادی ضرورت یہی ہے کہ یہ متعلقہ مملکت کی جانب سے ہی اعلان کی جاسکتی ہے۔ اس تقریب میں مختلف کمیونٹی قائدین ، سیاستدانوں اور جنوب ایشیائی ممالک بشمول پاکستان کے سفارتکاروں کی بڑی تعداد شریک تھی ۔ آئی ایس آئی ایس یا آئی ایس نے عراق اور شام میں کئی حصوں پر قبضہ کر رکھا ہے ۔

آئی ایس القاعدہ سے علحدہ شدہ گروپ ہے جس نے خود کو اس تنظیم سے لاتعلق کرلیا ہے اور اس کی جارحیت اور سفاکانہ توسیع پسندی پر تنقید بھی کی ہے ۔ اکبر جو چھٹی انٹرنیشنل سکیورٹی فورم میٹنگ بمقام ہیلی فیاکس میں شرکت کیلئے کینیڈا آئے ہیں ، انھوں نے کہا کہ پاکستان مابعد سامراجی دور میں اولین اسلامی مملکت بنا اور یہ عجیب بات ہے کہ دہشت گردوں کیلئے پناہ گاہ کا مقام بھی بن گیا ہے جس کو ختم کرنا ضروری ہے تاکہ امن و امان قائم کیا جاسکے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور شمالی افریقہ کے درمیان کا خطہ بھونچال کی زد میں ہے جہاں کی کئی حکومتیں اپنی بقاء کیلئے جدوجہد میں مصروف ہے اور انھیں شدت پسندوں اور علحدگی پسندوں کی مزاحمت کا سامنا ہے۔ اکبر نے کہا کہ آج جمہوریت اور مذہبی آزادی کے دو کلیدی محاذوں پر کامیابی کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔ جنگیں نہ صرف جغرافیائی خطہ کیلئے لڑی جارہی ہیں بلکہ سماجی تبدیلی کیلئے بھی لڑائیاں ہورہی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ مسلم دنیا میں کامیابی اور شکست کے درمیان فرق ایسا ہی ہے جیسے مستحکم عالمی نظام اور اس کے برعکس کے درمیان ہوسکتا ہے ۔ کٹرپسندوں کی وجہ سے امن غارت ہورہا ہے اور مفادات حاصلہ کی تکمیل کیلئے وہ امن پسند اکثریت کا ماحول بگاڑنے کا سبب بن رہے ہیں ۔ اس توسیع پسندانہ ذہنیت کو ختم کرنا ہوگا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT