Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / جہاد فی سبیل اللہ اور شہادت اسلام کے عملی امور میں منفرد اہمیت کے حامل

جہاد فی سبیل اللہ اور شہادت اسلام کے عملی امور میں منفرد اہمیت کے حامل

ر2روزہ خطبات شہادت کے پہلے اجلاس سے ممتاز اسکالرز کا خطاب
حیدرآباد ۔ 17 ۔ نومبر : ( پریس نوٹ ) : ایثار و قربانی کا جذبہ خصائص انسانی کا اعلی ترین وصف ہے اور اسلام کا طرہ امتیاز بھی ۔ صبر ، احسان ، صدقہ ، خیرات ، قربانی ، ایثار ، جہاد فی سبیل اللہ یہ وہ اعمال صالحہ ہیں جنہیں بجا طور پر مذہب اسلام کی اساس اور دین محمدی کا اثاثہ کہا جاسکتا ہے ۔ بالخصوص جہاد فی سبیل اللہ اور شہادت کا معاملہ اسلام کے جملہ عملی امور میں منفرد اور گراں مایہ اہمیت کا حامل ہے ۔ ادارہ الانصار اور بزم صدیقین کے زیر اہتمام ، خواجہ شوق ہال اردو مسکن میں زیرسرپرستی مفتی محمد عظیم الدین صدرنشین دارالافتاء جامعہ نظامیہ منعقدہ دو روزہ سمینار ’خطبات شہادت ‘ کے پہلے اجلاس میں اپنے تحقیقی مقالے پیش کرتے ہوئے ممتاز اسلامی اسکالرز نے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ قاری غلام احمد نیازی نے قرات ، قاری محمد ارشد علی صدیقی نے نعت اور مولوی بشارت علی اختر و سید عمران مصطفی نے مناقب کے نذرانے پیش کئے ۔ قاضی اسد ثنائی صدر ادارہ الانصار و کوآرڈینٹر سمینار نے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور مہمانوں کا تعارف کرایا ۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مصطفی شریف ڈائرکٹر دائرۃ المعارف نے صدارت کی ۔ مولانا سید ہاشم عارف بادشاہ قادری نامزد سجادہ نشین بارگاہ سرکار لاابالی و اسسٹنٹ پروفیسر عثمانیہ کالج کرنول نے ’ فلسفہ شہادت ‘ پر بڑا پر مغز مقالہ پیش کیا ۔ آپ نے شہادت کی معنویت ، شہادت کی اصطلاحات اور شہادت کے انواع پر سادہ بیانی کے ساتھ عالمانہ انداز میں روشنی ڈالی ۔ دوسرا مقالہ نامور اسلامی اسکالر علامہ ڈاکٹر ظہیر احمد باقوی راہی فدائی سابق صدر شعبہ عربی اسٹڈیز آف ہائر لرننگ ، بنگلور نے ’ سید الشہداء حضرت امیر حمزہؓ پر ایک تحقیقی نظر ‘ کے زیر عنوان پیش کیا ۔ اس مقالے میں مولانا نے تاریخ اسلام کے حوالے سے غزوہ احد کے شہید اعظم حضرت امیر حمزہؓ کی حیات مبارکہ ، ان کی دلیری ، جانبازی ، جرات و شجاعت اور غیرت وحمیت والے اوصاف کے علاوہ حضرت امیر حمزہؓ کی شہادت پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ تیسرا مقالہ حضرت سیدنا عمر بن خطابؓ کی شہادت کے موضوع پر ترجمان قادریت علامہ حافظ سید رضوان پاشاہ قادری ( صدر دی قرآن اکیڈیمی ) نے پیش کیا ۔ مولانا نے اپنے مقالہ میں خلیفتہ الرسول حضرت عمر بن خطاب فاروق اعظم ؓ کی زندگی کا ہر پہلو روشن رکھنے کی کامیاب کوشش کی ۔ انہوں نے فاروق اعظم ؓ کا نام و لقب اسلام سے پہلے آپ کے معمولات ، قبولیت اسلام ، آپ کی دلیرانہ اور انوکھی ہجرت ، آپ کے مشورے پر اذان کا آغاز ، آپ کی خلافت اور شہادت کے علاوہ آپ کے فضائل و کمالات قرآن و حدیث کی روشنی میں بڑے محققانہ انداز میں پیش کئے ۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مصطفی شریف نے اپنے صدارتی خطاب میں سمینار میں پیش کردہ تینوں مقالات کا بڑے خوبصورت اور دلنشیں انداز میں محاکمہ کیا ۔ مولانا سید اشرف حسینی تیغ برہنہ ، مولانا عرفان اللہ شاہ نوری ، مولانا حافظ خالد بن سعید بانجاح قادری اور جناب عبدالوہاب ایڈوکیٹ نے بحیثیت مہمانان خصوصی شرکت کی ۔ جناب محمد فاروق علی صدیقی صدر بزم صدیقین و کنوینر سمینار کے شکریے پر سمینار کا پہلا اور کامیاب اجلاس اختتام کو پہنچا ۔ باذوق خواتین و حضرات کی کثیر تعداد نے سمینار میں شرکت کی ۔۔

TOPPOPULARRECENT