Tuesday , June 19 2018
Home / دنیا / جہاد ی جان کی تلاش :امریکی و برطانوی ایجنسی شدت سے سرگرداں

جہاد ی جان کی تلاش :امریکی و برطانوی ایجنسی شدت سے سرگرداں

لندن 15 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی اور برطانوی خفیہ ایجنسیاں جہادی جان کیلئے کافی پریشان ہیں وہ چاہتی ہیں کہ جلد سے جلد آئی ایس آئی ایس کے اس خطرناک جنگجو کو زندہ یا مردہ پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچائیں۔ دولت اسلامیہ عراق و شام کے جنگجو نے عراق میں امریکی فضائی حملوں کا بدلہ لینے اپنے یرغمال امریکی و برطانوی یرغمالیوں کو موت کی نیند سلانا شروع کردیا ہے ۔ اب تک امریکی صحافی جیمس فولی، برطانوی صحافی و امدادی کارکن اسٹیون ساٹلاف اور برطانوی امدادی کارکن ڈیوڈ ہئینس کے قلم کردیئے گئے اور ان تینوں کے گلوں پر چھری چلانے والا ایک ہی شخص ہے جسے سی آئی اے اور برطانوی خفیہ ایجنسیوں M15 کے علاوہ M16 برطانوی شہری قرار دے رہے ہیں۔ داعش نے ان تینوں بیرونی یرغمالیوں کو موت کی نیند سلانے کے دوران جو ویڈیو گرافی کی ہے برطانوی اور امریکی خفیہ ایجنسیوں کے ماہرین ان ویڈیوز کا بغور جائزہ لے رہے ہیں ۔ انکے خیال میںجان نے ایک امریکی اور دو برطانوی شہریوں کے گلے کاٹے ہیں ۔ اس نے ویڈیو میں امریکہ برطانیہ اور ان کے حلیفوں کو جو انتباہ دیا ہے اس کا جائزہ لینے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی انگریزی لندن کے شہری بولتے ہیں اور جہادی جان کا لہجہ خالص لندنی ہے اس کے انداز بیان، الفاظ کے انتخاب اور لب و لہجہ ایک برطانوی شہری کا ہی ہوسکتا ہے ۔ جنوبی میڈیا میں شائع رپورٹس میں بتایا گیا ہیکہ داعشی جنگجو امریکی و برطانوی انٹلی جنس ایجنسیوں کو دھوکہ دے سکتے ہیں اسلئے کہ جو شخص یرغمالیوں کو قتل کررہا ہے اس نے اپنے سر اور چہرے بلکہ سارے جسم کو سیاہ لباس و کپڑے سے چھپا رکھا ہے صرف اس کی آنکھیں نظر آرہی ہیں۔ ہوسکتا ہیکہ ویڈیو میں پیام کسی اور کی آواز میں ریکارڈکرایا گیا ہو اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہی کہ امریکی و برطانوی شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والا جنگجو برطانوی شہری ہی ہے ۔ ویسے بھی کم از کم 500 سفید فام برطانوی شہری داعش کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق سی آئی اے M16 اور M15 جیسی ایجنسیاں جہادی جان کی شناخت کرچکی ہیں اور اس کے اطراف اپنا گھیرا تنگ کرتی جارہی ہیں لیکن داعش کے چنگل سے کئی ملین یوروز تاوان ادا کرکے رہا کرائے گئے فرانسیسی شہریوں کا کہنا ہیکہ یرغمالیوں کیلئے داعش نے تین برطانوی شہریوں کو ذمہ داری سونپی ہے جن کے فرضی نام جان ،پال اور رینگو ہیں ان تینوں میں جان یا جہادی جان ہوشیار ،تعلیمیافتہ اور سنگدل ہے وہ یرغمالیوں کو ایک مقام پر نہیں رکھتا بلکہ بعض مرتبہ تو دس دس مقامات تبدیل کئے جاتے ہیں۔ انکے پاس عصری آلات حربی ہیں ایسے میں M15,M16 اور سی آئی اے ایجنسیوںاور فورسس کیلئے انکے خلاف کارروائی آسان مشن نہیں ہے ۔ داعش کے چنگل سے آزاد یرغمالیوں کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ یوروپی حکومتوں نے تاوان ادا کرکے یرغمالی آزاد کرالئے جبکہ امریکہ و برطانیہ تاوان سے انکار کرکے اپنے شہریوں کی ہلاکت کا باعث بن رہے ہیں۔ دلچسپی کی بات یہ ہیکہ امریکی صحافی جان فولی کے عوض داعش جنگجوں نے امریکی جیل میں محروس پاکستانی خاتون سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا کرنے کی شرط رکھی تھی۔ اب دیکھنا ہیکہ جہادی جان کب تک امریکی و برطانوی ایجنسیوں کو چکمہ دیتارہے گا کیونکہ ان دونوں حکومتوں کا صبر کا پیمانے لبریزہوچکا ہے ایسے میں وہ کرو یا مرو کے تحت کارروائی کرینگے کیونکہ ایک اور برطانوی کارکن ایلن ہننگ کو قتل گاہ کی طرف بڑھایا جارہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT