Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / جہاں نما گورنمنٹ ہیلت سنٹر ایک نرس کے رحم و کرم پر

جہاں نما گورنمنٹ ہیلت سنٹر ایک نرس کے رحم و کرم پر

حیدرآباد ۔ 15 ۔ اپریل : کسی بھی شہر کے ترقی یافتہ ہونے کے لیے یہاں کے شعبہ تعلیم اور شعبہ صحت کا مستحکم ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے جب کہ تاریخی شہر حیدرآباد کے غریب عوام کی یہ بدقسمتی ہے کہ شہر حیدرآباد میں تعلیم اور شعبہ صحت کو تجارت میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ حیدرآباد میں خانگی طور پر اعلیٰ معیار اور ملٹی اسپیشالیٹز سے لیس بہترین دواخان

حیدرآباد ۔ 15 ۔ اپریل : کسی بھی شہر کے ترقی یافتہ ہونے کے لیے یہاں کے شعبہ تعلیم اور شعبہ صحت کا مستحکم ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے جب کہ تاریخی شہر حیدرآباد کے غریب عوام کی یہ بدقسمتی ہے کہ شہر حیدرآباد میں تعلیم اور شعبہ صحت کو تجارت میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ حیدرآباد میں خانگی طور پر اعلیٰ معیار اور ملٹی اسپیشالیٹز سے لیس بہترین دواخانے اور تعلیمی مراکز تو موجود ہیں لیکن غریب عوام کو بنیادی حقوق تعلیم اور صحت کے حصول سے بھی محروم ہونا پڑرہا ہے ۔ سرکاری ہیلت سنٹرس جو غریب عوام کے لیے محلے میں بیماریوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے نعمت سے کم نہیں ہوتے لیکن شہر کے ہیلت سنٹرس کی کارکردگی اور شعبہ صحت کے عملہ کی مجرمانہ غفلت کبھی بھی کسی معصوم کو موت کی نیند سلاسکتی ہے ۔ راقم الحروف نے جب جہاں نما گورنمنٹ ہیلت سنٹر کو دیکھا تو ایک بہتر عمارت میں یہ ہیلت سنٹر اپنی خدمات انجام تو دے رہا ہے جہاں روزانہ 200 مریض علاج کے لیے آتے ہیں چونکہ یہ ہیلت سنٹر مکمل مسلم آبادی کے لیے مختص ہے لہذا یہاں پہنچنے والے تمام مریض مسلمان ہی ہیں لیکن اس سنٹر کا المیہ یہ ہے کہ یہ سنٹر صرف ایک نرس کے رحم و کرم پر چل رہا ہے ۔ اس ہیلت سنٹر کی کرتا دھرتا نرس جئے اماں سے جب راقم الحروف نے ہیلت سنٹر کی تفصیلات حاصل کرنی چاہیں تو جے اماں نے کہا کہ یہاں ڈاکٹر موجود ہیں جو کہ ہفتے میں تین مرتبہ یہاں مریضوں کی تشخیص کرنے کے لیے آتے ہیں چونکہ یہ ڈاکٹر صاحب جہاں نما کے علاوہ بنڈلہ گوڑہ ہیلت سنٹر کے بھی انچارج ہیں لہذا انہیں دونوں سنٹرس کی ذمہ داری نبھانی پڑتی ہے تو وہ یہاں تین دن اپنی دستیابی کو یقینی بناتے ہیں ۔

تعطیلات کی وجہ سے وہ یہاں دکھائی نہیں دیتے ۔ علاج کے لیے یہاں پہنچنے چند مریضوں سے جب تبادلہ خیال کیا گیا تو محمد انور نے کہا کہ وہ یہاں بی پی چیک کروانے آئے تھے لیکن یہاں کا چار افراد پر مشتمل عملہ بی پی چیک کرنے کے قابل بھی نہیں ہے ایک اور مریض عمران خان کھانسی بخار کے علاج کے لیے یہاں پہنچے لیکن نرس میز پر رکھی دوائیں انہیں دے دیں اور تقریبا ہر مریض اور ہر مرض کے لیے یہی گولیاں اور ادویات دئیے جاتے ہیں ۔ فہمیدہ سلطانہ جو کہ اس ہیلت سنٹر کی پڑوسی ہی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہیلت سنٹر میں انہوں نے کبھی ڈاکٹر کو نہیں دیکھا ہے بلکہ یہاں موجود نرس ہی اس سنٹر کی انچارج ہیں جو ہر مریض اور ہر مرض کو میز پر موجود چند دوائیں دے دیتی ہیں ۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی ادویات کی پچھلے دروازے سے بلیک مارکیٹنگ بھی ہوتی ہے ۔ سرکاری ہیلت سنٹر غریب عوام کے لیے وہ واحد مرکز ہوتاہے جہاں وہ کم خرچ میں صحت کی امید کے ساتھ پہنچتے ہیں لیکن شہر کے بیشتر ہیلت سنٹرس کی عمارتیں تو بہتر ہیں جس کے باوجود ان میں ڈاکٹرس موجود نہیں اور نرسوں کے ذریعے مریضوں کا علاج ’ ہرمرض کے لیے مشترکہ ادویات ‘ کے فارمولا پر کیا جارہا ہے اور نرس کی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسے بی پی بھی چیک کرنی نہیں آتی ۔ حکومت ، شعبہ صحت اور مقامی نمائندے آخر کب اس حساس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے اقدامات کریں گے کیا انہیں کسی غریب کے مرنے کا انتظار ہے جس کے بعد ہی وہ ان سنٹرس کے لیے درکار ڈاکٹرس اور قابل عملے کا تقرر کریں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT