Monday , June 18 2018
Home / مذہبی صفحہ / جہیز اور لین دین کی شناعت

جہیز اور لین دین کی شناعت

مولانا مفتی حافظ سید صادق محی الدین فہیم ؔ

مولانا مفتی حافظ سید صادق محی الدین فہیم ؔ

اسلام میں یہ رشتۂ نکاح سنت ہے، یہ انسان کی ایک جائز فطری ضرورت ہے اور اسلام میں یہ رشتہ مقدس و محترم ہے، اسلام میں نکاح کی ادائیگی بہت آسان ہے، یہ ایسے ہی آسان ہے جیسے اسلام کے اور احکام کا ادا کرنا آسان ہے،مثلا جب نماز کا وقت ہوجائے تو طہارت و وضو کے ساتھ نماز کا ادا کر لینا کہ جس پر کچھ خرچ عائد نہیں ہوتا ،اسی طرح جب سماج میںکوئی نو جوان لڑکا اور لڑکی نکاح کر لینا چاہیںتو وہ بھی ایسے ہی آسان ہے، ایجاب و قبول کے دو بول سے جو دو گواہوں کی شہادت سے رشتۂ نکاح قائم ہو جا تا ہے، اس کے لئے مزید تکلفات کی چنداں ضرورت نہیں بالکل ایک سادہ تقریب میں یہ فریضہ انجام پا سکتا ہے، لیکن سماج نے ا س کو بہت مشکل بنا لیا ہے اس وقت سماجی دباؤکی وجہ جہیز، لین دین ، چڑھاوے اور جوڑے گھوڑے ، مہندی و سانچق کی بے جا رسومات نے ایک نا سور کی شکل اختیار کر لی ہے، یہ خرافات و بے جا رسومات امت مسلمہ کو گھن کی طرح کھا رہے ہیں،ان رسومات بد سے سماج کو پاک کر نے کی اس وقت بڑی ضرورت ہے، یہ سارے ناروا رسومات شادی بیاہ کا نا گزیر حصہ بن گئے ہیں ان رسومات میں مسابقت کا جذبہ پر وان چڑھ رہا ہے ہر کوئی دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے ، یہ تو امراء اور بعض متوسط گھرانوں کا حال ہے جن کے بچے بیرونی ممالک ملازمت اختیار کئے ہوئے ہیں ،لیکن ایک بہت بڑا طبقہ غریب غرباء کا ہے ان میں وہ بعض با عزت گھرانے بھی ہیں جو کسی کے آگے دستِ سوال دراز کر نے کو اپنے لئے باعث عار سمجھتے ہیں اور کچھ ایسے غریب گھرانے بھی ہیںجو مختلف ڈھنگ سے مانگ تانگ کرایک حد تک اپنی ضرورت پوری کر لیتے ہیں لیکن کما حقہ وہ اپنی چاہت کے مطابق شادی کے مصارف پورے نہیں کر سکتے، بحیثیت مجموعی امت مسلمہ کا جائزہ لیا جائے تو مالی اعتبار سے اسکے احوال ازمنہ سابقہ کا اعتبار کر تے ہوئے پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہیں ، لیکن پھر بھی مال کی حرص بڑھتی جار ہی ہیں قناعت رخصت ہو گئی ہے، حرص و لالچ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ بے جھجک جہیز اور لین دین کی مانگ کی جارہی ہے، اس کے علاوہ لڑکی والوں پر اپنے ناروا خواہشات کی تکمیل کا بوجھ لادا جا رہا ہے، رشتہ جب طئے ہو تا ہے تو جہیز وغیرہ کی مانگ کے ساتھ شادی کے لئے اعلی اور مہنگے شادی خانے میں شادی کرنے اور لوازمات کے ساتھ طعام کااعلی انتظام کرنے کی شدید خواہش کی جا تی ہے، اور ایسا دباؤ بنایا جاتا ہیکہ لڑکی والے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی تکمیل پر مجبور ہو جاتے ہے اس خیال سے کہ اس کا انکار کیا جائے توکہیں رشتہ ٹوٹ نہ جا ئے بساوقات و الد کو اس کی تکمیل کے لئے سودی قرض کے بوجھ تلے دبنے کی نوبت آ جا تی ہے،اور وہ زندگی تمام محنت کی گاڑھی کمائی سود میں ادا کرتے کر تے بے حال ہوجاتے ہیں، حالانکہ اللہ کے نبی حضرت سید نا محمد رسول اللہﷺکا ارشاد پاک ہے’’ وہ نکاح بہت با برکت ہے جس میں خرچ کم ہو‘‘ اعظم النکاح برکۃ ایسرہ موُنٖٖۃ (مسند احمد رقم الحدیث ؍۲۳۳۸۸، کنزالعمال؍ ۴۴۵۷۷)۔
ان حالات کی وجہ جن گھرانوں میں لڑکیاں پیداہوتی ہیں انکے ماں باپ ان کی پیدائش کے دن سے ہی ان کے نکاح و شادی کے سلسلے میں فکر مند ہو جا تے ہیں، جہیز، لین دین وغیرہ جیسی بے جا رسومات کی وجہ ماں باپ لڑکیوں کو ایک بوجھ سمجھنے لگے ہیں، لڑکیوں کورحمت کے بجائے زحمت سمجھا جا نے لگا ہے یہ مسئلہ کسی ایک گھر کا نہیں بلکہ پورے سماج کا مسئلہ ہے جو دن بہ دن سنگین سے سنگین ہو تا جارہاہے، سماج کے سارے ذمہ داروں کو خواہ وہ علماء و مشائخ ہوں یا عوامی تنظیمیں یا ادارے سب مل کر امت کو ایک عملی نعرہ دیں،’’ لڑکے والے ہوں کہ لڑکی والے بناء کسی جہیز یا لین دین کے مطا لبے کے نکاح کریں گے‘‘ اسکو عملی جامہ پہنانے کے لئے مشترکہ جدوجہد کی سخت ضرورت ہے ،اس بارے میں سارے تشہیری ذرائع سے بڑی مہم چلائی جا رہی ہے بہت کچھ لکھا اور سنا یا جا رہا ہے لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نظرنہیں آرہا ہے، ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ‘‘کے مصداق یہ مسئلہ اورگمبھیر ہو تا جارہا ہے ، کو ئی ایک ایسا لائحہ عمل مرتب کیا جائے کہ جس کی وجہ یہ فتنہ سماج سے ختم ہو ۔
لین دین اور جہیز وغیرہ سے متعلق کچھ لوگ اس غلط فہمی میں مبتلاء ہیں کہ حضرت نبی پاک ﷺ نے اپنی چہیتی صاحبزادی بی بی فاطمہ رضی اللہ عنھا کو ان کی شادی میں سامانِ جہیز دیا تھا اس غلط فہمی کو دور کر لینا چاہئے واقعہ یہ ہے کہ آپ ﷺنے اپنی طرف سے کو ئی سامان جہیز نہیں دیا آپ ﷺ اگر چاہتے تو وہ سب کچھ دیا جا سکتا تھا جس کا وقت کے ایک بادشاہ سے بھی تصور نہیں کیا جاسکتا آپ ﷺ کے ایک اشارے پر اعلی سے اعلی ساز و سامان جمع ہو جاتا لیکن آپﷺ ہمیشہ اللہ سبحانہ کی چاہت اور آخرت کو پیش نظر رکھا اور آپ ﷺکے پیش نظر امت کا غریب طبقہ بھی تھا اس لئے بھی آپ ﷺ نے اپنی طرف سے سامان جہیزکا کوئی انتظام نہیںفر ما یاتاکہ امت کے غرباء و مساکین کو کوئی دشواری اور تکلیف نہ ہو ، روایت حدیث کے مطابق جب بی بی فاطمہ رضی اللہ عنھاکا نکاح سیدنا علی کرم اللہ وجہہ و رضی اللہ عنہ سے طئے ہوا تو آپ ﷺ نے حضرت علی رِضی اللہ عنہ سے دریافت فر مایا کہ تمہارے پاس کچھ مال ہے کہ جس سے نکاح کا بندوبست کیا جا سکے تو انہوںنے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میرے ہاںکچھ نہیں ہے تو آپ ﷺنے فرمایا میں نے فلاں موقع پر تم کو جو حطمیہ نام کی زرہ دی تھی وہ تو تمہارے پاس ہوگی تو عرض کیا کہ وہ میرے پاس ہے تو آپﷺ نے فرمایا کہ یہ زرہ بی بی فاطمہ کو دے دو چنانچہ بطور مہرکے وہ زرہ بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو انہوں نے دے دی ( المرتضیٰ ؍۶۶ بحوالہ مسند امام احمد )چنانچہ وہ زرہ فروخت کی گئی اور سامان جہیزکی تیاری میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تعاون عمل فر مایا ،بعض روایت سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ زرہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے چار سو درہم میں خریدی لیکن پھر وہ زرہ بطور تحفہ آپ نے دوبارہ واپس فر ما دی، اسطرح جو جہیز بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہ کو دیا گیا تھا اس میںایک دبیز چادر ایک مشکیزہ اور ایک چمڑے کا تکیہ جس میں اذخر کی چھال بھری ہوئی تھی اذخر ایک خوشبودار گھاس کا نام ہے جو ملک عرب میں پائی جا تی تھی اورجس کو بطور خوشبو استعمال کیا جاتا تھا، بعض روایت میں آٹا پیسنے کی چکی وغیرہ دئیے جانے کا ذکر ملتا ہے۔ {جاری}

TOPPOPULARRECENT