Wednesday , November 14 2018
Home / مذہبی صفحہ / جہیز نے اَرمانوں پر پانی پھیردیا

جہیز نے اَرمانوں پر پانی پھیردیا

دورِ حاضر میں اگر ہم مسلم معاشرہ کا جائزہ لیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ اکثر گھروں میں لڑکیاں بن بیاہی بیٹھی ہیں، جس کی وجہ سے ماں باپ کی راتوں کی نیند اور دن کا چین و سکون ختم ہو گیا ہے۔ انھیں ہمہ وقت یہی فکر لگی رہتی ہے کہ ان کی لڑکیوں کی شادیاں کس طرح ہوں گی؟ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی بنا جہیز ان کی لڑکیوں سے شادی کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔لڑکے والے یہ آس اور امید لئے بیٹھے ہیں کہ بیٹے کی شادی میں زیادہ سے زیادہ جہیز ملے گا، جس سے وہ اپنے گھر کی نمائش اور آرائش میں اضافہ کرسکیں گے۔ آج شادی شدہ لڑکیاں بلالحاظ مذہب و ملت زندہ جلائی جا رہی ہے اور ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ یعنی جہیز ایک ناسور کی شکل اختیار کرکے سارے معاشرہ کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔آج انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف باقی نہیں رہا۔ ہم آئے دن اخبارات میں یہ خبریں پڑھتے ہیں کہ فلاں جگہ، فلاں گھرانے کی نئی نویلی دلہن کو جہیز کم لانے کی پاداش میں زندہ جلاکر موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔ یا فلاں جگہ، یا فلاں گھرانے میں نئی نویلی دلہن پر اس کے سسرال والے جہیز کم لانے کے سبب اس پر بے تحاشہ ظلم ڈھا رہے ہیں۔ اس سارے ظلم و ستم کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ لڑکیاں جہیز کم لائی تھیں۔مسلمانوں کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرکے وہ معاشرے میں پھیلی اس برائی کے خلاف پوری ہمت کے ساتھ اُٹھ کھڑے ہوں۔ وہ یہ نہ سوچیں کہ اس لڑائی میں ہم تنہا ہیں، کیونکہ جب وہ اس برائی کو مٹانے کے لئے آگے بڑھیں گے تو لوگوں کا ایک جم غفیر اُن کے ساتھ ہو جائے گا۔ اسی طرح مسلم نوجوانوں کو بھی چاہئے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی خلاف ورزی نہ کریں۔ اگر نوجوان اس بات کا عہد کرلیں کہ وہ بنا جہیز کی شادی کریں گے تو وہ دن دُور نہیں، جب ہمارے مسلم معاشرہ سے ہمیشہ کے لئے اس مرض کا خاتمہ ہو جائے گا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT