Friday , January 19 2018
Home / Top Stories / جہیز کی شادیوں کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے

جہیز کی شادیوں کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے

نئی دہلی ۔ 16 ۔ جولائی (سیاست ڈاٹ کام) شادیوں میں جہاں جہیز لیا جاتا ہے، ان کا سماجی اور سیاسی سطح پر بائیکاٹ کیا جانا چاہئے ۔ سیاستدانوں اور نامور شخصیتوں کو چاہئے کہ وہ ایسی شادیوں میں شرکت نہ کریں تاکہ جہیز جیسی رسم کی حوصلہ شکنی ہو۔ صدر نشین قومی کمیشن برائے خواتین ممتا شرما نے آج یہ بات کہی ۔ انہوں نے بتایا کہ بیداری مہم کے باوجود

نئی دہلی ۔ 16 ۔ جولائی (سیاست ڈاٹ کام) شادیوں میں جہاں جہیز لیا جاتا ہے، ان کا سماجی اور سیاسی سطح پر بائیکاٹ کیا جانا چاہئے ۔ سیاستدانوں اور نامور شخصیتوں کو چاہئے کہ وہ ایسی شادیوں میں شرکت نہ کریں تاکہ جہیز جیسی رسم کی حوصلہ شکنی ہو۔ صدر نشین قومی کمیشن برائے خواتین ممتا شرما نے آج یہ بات کہی ۔ انہوں نے بتایا کہ بیداری مہم کے باوجود جہیز کے مقدمات میںاضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی شادیاں جن میں جہیز لیا جارہا ہے ، ان کا سماجی بائیکاٹ ضروری ہے ۔ عوامی شخصیتوں جیسے سیاستدانوں اور مقبول ترین افراد کو چاہئے کہ وہ ایسی شادیوں میں شرکت سے گریز کریں۔

یہ ایک ایسی کوشش ہوگی جس کے نتیجہ میں شادی کو زیادہ مقبولیت نہیں ملے گی اور ساتھ ساتھ جہیز کے بارے میں عوامی رائے بھی تبدیل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جہیز کے تعلق سے ان دنوں مسابقت پائی جاتی ہے اور یہ کیفیت ختم کی جانی چاہئے ۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں عدالت نے یہ کہا تھا کہ پولیس جہیز کے مقدمات میں خود بخود ملزمین کو گرفتار نہیں کرسکتی ۔ ممتا شرما نے کہا کہ انسداد جہیز قانون کا بیجا استعمال بھی باعث تشویش ہے لیکن ایسے بیجا استعمال کے واقعات کا فیصد کافی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اندازہ کے مطابق ایسے دو تا تین فیصد لوگ ہوں گے جو اس قانون کا بیجا استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا یہ ایقان ہے کہ اگر پولیس میں شکایت درج کرائی جائے تب شوہر کو گرفتار کرلیا جانا چاہئے اور معاملہ کی مکمل تحقیقات کی جانی چاہئے ۔ ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ تپس پال کے خواتین کے بارے میں حالیہ غیر ذمہ دارانہ ریمارکس پر جس سے کافی تنازعہ پیدا ہوگیا تھا، انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کو اس طرح کے تبصروں سے روکنے کیلئے ضابطہ اخلاق ہونا چاہئے ۔

ایسے ارکان پارلیمنٹ جو خواتین کے بارے میں بے حسی ظاہر کرتے ہیں اور ان کے خلاف اس طرح کے تبصرے کرتے ہیں انہیں پارلیمنٹ سے برطرف کردیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کی یہ عادت بن چکی ہے کہ وہ غیر ذمہ دارانہ بیان جاری کرتے ہیں اور اس کے بعد جب مشکل پیش آتی ہے تو معذرت خواہی کرلیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضابطہ اخلاق ہونا چاہئے تاکہ ارکان پارلیمنٹ کو اس طرح کے تبصروں کی صورت میں پارلیمنٹ سے بیدخل کردیا جائے۔ ممتا شرما نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم ، اسپیکر اور چیف منسٹر مغربی بنگال کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے تپس پال کے خلاف کارروائی کیلئے زور دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی خود ایک سماجی کارکن ہیں اور انہیں اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے تپس پال کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT