Sunday , November 19 2017
Home / اداریہ / جیش محمد اور پاکستان

جیش محمد اور پاکستان

انہیں تو قتل کرنا اور تڑپانا ہی آتا ہے
گلا کس کا کٹا کیونکر کٹا تلوار کیا جانے
جیش محمد اور پاکستان
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت کو موخر کردینے کے بعد دفترخارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے یہ کہہ کر اطمینان دلایا کہ دونوں جانب مذاکرات کے احیاء کیلئے مشاورت جاری ہے جبکہ پاکستان میں جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو حراست میں لئے جانے کی خبروں پر ہندوستان کو شبہ پیدا ہوا ہے۔ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر سرگرم بعض طاقتوں کو قابو میں کرنے سے قاصر ہے اس کے باوجود حکومت پاکستان دہشت گردی کے مسئلہ پر پڑوسی ملک ہندوستان کے ساتھ تعاون کرنے کا مظاہرہ کررہی ہے۔ اس سے حالات کو بہتر بنانے میں مدد نہیں ملے گی۔ مولانا مسعود اظہر کو حراست میں لینے اور گرفتار کرنے کے عمل میں فرق ہے۔ پاکستان، پنجاب صوبہ کے وزیرقانون رانا ثناء اللہ نے توثیق کی کہ ممنوعہ تنظیم جیش محمد کے سربراہ کو صرف احتیاطی طور پر تحویل میں لیا گیا ہے۔ پٹھان کوٹ فضائی پٹی پر دہشت گرد حملے میں ملوث افراد کے تعلق سے جب ہندوستان نے واضح طور پر ثبوت دینے کا دعویٰ کیا ہے تو مولانا مسعود اظہر کی گرفتاری کے لئے حکومت پاکستان یا پنجاب پولیس کا پس و پیش دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی جانب سنجیدگی کا عدم مظاہرہ سمجھا جائے گا۔ پاکستان کے قومی ایکشن پروگرام کے تحت کی جانے والی کارروائی کے بشمول جیش محمد کے سربراہ اور دیگر کارکنوں کے خلاف ایکشن لیا جاتا ہے تو اس سے دکھائی دینے والا کام ہوگا مگر حکومت پاکستان نے ممبئی حملوں کے کیس کی طرح پٹھان کوٹ کے کیس کے ساتھ ہی آنکھ مچولی کا مظاہرہ شروع کیا ہے تو اس سے صورتحال میں بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی۔ وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں ہند ۔ پاک تعلقات اور دہشت گردی کے واقعات کا جائزہ لینے کے بعد کہا تھا کہ پٹھان کوٹ حملہ کے سلسلہ میں گرفتار جیش محمد کے کارکنوں کو انصاف کے کٹھہرے میں کھڑا کیا جائے گا اور جیش محمد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اس کے دفاتر کو مہربند کردیا جارہا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہیکہ اگر مسعود اظہر سربراہ براہ راست پٹھان کوٹ حملے میں ملوث ہیں تو ان پر مقدمہ چلایا جائے گا مگر حقیقت تو یہ ظاہر ہورہی ہے کہ پاکستان کی پولیس نے مولانا مسعود اظہر کو نہ ہی گرفتار کیا ہے اور نہ ہی ان کی تنظیم کے دفاتر کو مہربند کردیا گیا ہے۔ کچھ لوگوں کو تحقیقات کے نام پر تحویل میں لینے سے دہشت گردی جیسے سنگین معاملہ سے نمٹنے میں حکومت پاکستان کی سنجیدگی واضح نہیں ہوتی۔ جیش محمد کے ذمہ داروں نے للکارنے والے لہجہ میں کہہ دیا ہے کہ اس طرح کی گرفتاریوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا تو پھر دہشت گردی کے خلاف منظم کارروائی کرنے اور ہندوستان کے فراہم کردہ ثبوتوں کے مطابق کارروائی کرنے کا مقصد پورا کس طرح ہوگا۔ ہندوستان میں نریندر مودی حکومت نے اب تک پڑوسی ملک کے اقدامات پر مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پٹھان کوٹ پر حملے میں ملوث افرادکے خلاف کارروائی کرنے کی یقین دہانی پر اطمینان ظاہر کیا اور پاکستان کے وعدے پر اعتبار کرنے کی کوئی وجہ ضرور ہوسکتی مگر اب دونوں ملکوں کے معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت کو موخر کرنے سے پٹھان کوٹ دہشت گرد حملے کے بعد کی صورتحال کو مزید ابتر ہونے سے بچانا دونوں ملکوں کی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ حکومتوں کو جلد بازی میں بات چیت کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہئے۔ پٹھان کوٹ کے حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کرنے میں حکومت پاکستان کو تاخیر بھی نہیں کرنی چاہئے۔ حکومت پاکستان خاص  کر وزیراعظم نواز شریف کو اپنے وعدے کے مطابق ہندوستان کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی جانب کوشش کرنی ہوگی۔ مولانا مسعود اظہر کو کشمیر کی جیل سے رہا کرکے پاکستان کے حوالے کرنے کا واقعہ بھی مرکز کی بی جے پی حکومت میں رونما ہوا تھا۔ اب مسعود اظہر پھر ایک بار بی جے پی حکومت کے لئے اہم مسئلہ بن چکے ہیں۔ ان کی ہندوستان کو حوالگی کا جہاں تک سوال ہے اس کا امکان بہت کم ہے۔ پاکستان اس سمت میں کوئی تعاون نہیں کرے گا۔ فی الحال پاکستان کو اپنے وعدہ اور قانون کے مطابق کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جیش محمد اور دیگر ممنوعہ تنظیموں کے خلاف کیا۔ ایکشن لیا جاتا ہے اس کو ہندوستان کے ساتھ ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ علاقائی صورتحال نازک دور میں ڈھکیلنے سے پہلے دہشت گردی کے نقصانات کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے ہندوستان کی مدد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے تو پھر پاکستان کو اس عزم کے مطابق ہی عملی مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان نے جب قابل عمل اور ٹھوس معلومات فراہم کئے ہیں تو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کارروائی کو کمزور نہیں بنانا چاہئے۔ اس حملے کے سلسلہ میں شفاف اور مکمل تحقیقات کرکے حقائق کو سامنے لایا جائے۔
امریکی اور برطانوی میڈیا
عالم عرب کے تعلق سے ان دنوں امریکی اور برطانوی میڈیا کی منفی رپورٹنگ دراصل سعودی عرب کے خلاف ایک ذہن سازی کی کوشش ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ گذشتہ ایک سال سے خاص کر جب سے سعودی عرب کا اقتدار شاہ سلمان نے سنبھالا ہے۔ عرب دنیا کی خارجہ پالیسی کو مجہول بتانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سعودی عرب کے ایران کے ساتھ تعلقات اور کشیدگی کو بھی الگ زاویئے سے پیش کیا جارہا ہے جبکہ سعودی عرب میں شاہ سلمان کا ایک سالہ اقتدار نہایت ہی چیلنجس سے بھرپور رہا ہے۔ سعودی عرب کی تاریخ میں شاہ سلمان کیلئے ایک سالہ حکمرانی آزمائش سے کم نہ تھی مگر انہوں نے عالم عرب میں رونما ہونے والے حالات کا سنجیدگی سے مشاہدہ کیا اور کسی حد تک صورتحال کو دھماکو ہونے سے روکا ہے۔ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی کارروائی فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ یمن کی حکومت کے خلاف جاری باغیانہ سرگرمیاں خود حکومت سعودی عرب کیلئے بھی راست خطرہ کا باعث ہوسکتی تھیں۔ یمن کی صورتحال اور ایران کے ساتھ سعودی عرب کے کشیدہ تعلقات کے درمیان شاہ سلمان نے اپنی صلاحیتوں اور مضبوط ارادوں کا کامیاب مظاہرہ کیا۔ حال ہی میں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے قاہرہ میں منعقدہ اجلاس میں بھی حکومت سعودی عرب کی حمایت میں مضبوط اتحاد قائم کرنے کا اعلان کیا جہاں تک ایران کے ساتھ کشیدہ تعلقات کا سوال ہے اس مسئلہ پر دونوں ملکوں کے حکمرانوں کو سنجیدگی سے غور کرنے اور صورتحال کو دھماکو ہونے سے بچانے کی سمت قدم اٹھانے پر توجہ دینی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT