Wednesday , December 13 2017
Home / ہندوستان / جیش محمد سے روابط کے شبہ میں گرفتار 10 نوجوان رہا

جیش محمد سے روابط کے شبہ میں گرفتار 10 نوجوان رہا

چھ نوجوانوں کے والدین سے تحریری تیقن لیا گیا ۔ اسپیشل کمشنر انسداد دہشت گردی سیل کا بیان

نئی دہلی 9 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی پولیس نے جن 10  نوجوانوں کو ممنوعہ تنظیم جیش محمد کی سمت ذہنی میلان رکھنے کے شبہ میں گرفتار کیا تھا انہیں مناسب ثبوت و شواہد کے فقدان کی وجہ سے رہا کردیا گیا ہے ۔ ان نوجوانوںمیں سے چار کو ہفتہ کو ہی رہا کردیا گیا تھا جبکہ دہلی پولیس نے ان کیلئے کونسلنگ سشن منعقد کئے تھے اور نفسیاتی ماہر کی خدمات بھی حاصل کی گئی تھی تاکہ ان کے ذہنوں کو صاف کیا جاسکے ۔ مابقی چھ نوجوانوں کو آج رہا کیا گیا ۔ ان کے اولیا سے یہ تحریر حاصل کی گئی کہ ان کے لڑکے اب قانونی دائرہ میں رہیں گے ۔ دہلی پولیس کی انسداد دہشت گردی یونٹ خصوصی سیل نے دہلی اور اتر پردیش کے مختلف علاقوں سے راتوں میں دھاوے کرتے ہوئے جملہ 13 نوجوانوں کو حراست میں لیا تھا ۔ اس کے بعد تین نوجوان ساجد ‘ سمیر احمد اور شاکر انصاری کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ مابقی 10 کو پوچھ تاچھ کیلئے حراست میں رکھا گیا تھا ۔ اسپیشل کمشنر پولیس ( خصوصی سیل ) اروند دیپ نے بتایا کہ مابقی چھ نوجوانوں کو آج اس شرط کے ساتھ رہا کردیا گیا کہ جب کبھی انہیں پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیا جائے وہ حاضر ہوجائیں گے ۔ ان کے والدین نے یہ تحریر بھی حوالے کی کہ ان کے لڑکے اب قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے زندگی گذاریں گے ۔ کہا گیا ہے کہ آج رہا کئے گئے چھ نوجوانوں کو کوئی نفسیاتی علاج فراہم نہیں کیا گیا جبکہ جن چار نوجوانوں کو پہلے نفسیاتی علاج فراہم کیا گیا تھا وہ ہفتہ میں باقاعدہ ماہر نفسیات سے رابطے میں رہیں گے اور یہ ماہرین ہر ہفتہ ان کی صحت کے تعلق سے پیشرفت پر رپورٹ بھی پیش کرتے رہیں گے ۔ کہا گیا ہے کہ پوچھ تاچھ کے دوران یہ واضح ہوگیا کہ یہ نوجوان اپنے اندر شدید برہمی رکھتے ہیں اور یہ ایسی ذہنی حالت میں ہیں کہ انہیں کبھی بھی دہشت گرد گروپس ورغلا سکتے ہیں ۔ تاہم اب تک ان کی گرفتاریوں کیلئے کوئی شواہد و ثبوت دستیاب نہیں ہوئے ہیں۔ اس دوران ایک سینئر پولیس عہدیدار نے بتایا کہ سائبر سکیوریٹی خطرات میں حکومت کی مقرر کردہ نوڈل ایجنسی کی بھی اس کیس میں مدد طلب کی گئی تھی اور ایجنسی نے تحقیق کاروں کو اب تک کچھ سراغ فراہم کئے ہیں جنہیں اشتعال انگیز ثبوت کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایجنسی نے جو ان پٹس فراہم کئے ہیں وہ زیادہ تر واٹس اپ گروپ ‘ فیس بک ‘ ای میلس وغیرہ میں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جن تین نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ انہیں جموںو کشمیر ‘ مظفر نگر اور عراق میں مسلمانوں پر ہو رہے مظالم کے ویڈیوز دکھائے گئے اور انہیں دہشت گرد گروپس میں شامل ہونے کیلئے تیار کیا جا رہا تھا ۔ تحقیق کاروں نے قبل ازیں یہ ادعا کیا تھا کہ ان تینوں نوجوانوں نے پہلے آئی ایس آئی ایس میں شمولیت کا منصوبہ بنایا تھا تاہم بعد میں انہوں نے اپنے نظریات تبدیل کرلئے ۔ اسپیشل سیل پولیس نے ان کے قبضہ سے عصری دھماکو مادہ ضبط کرنے کا ادعا کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT