Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / جیل حکام کی شدید زدوکوب اور اذیت رسانی

جیل حکام کی شدید زدوکوب اور اذیت رسانی

داعش سے رابطہ کے الزام میں گرفتار 3نوجوانوں کا عدالت میں بیان قلمبند
حیدرآباد 18 ستمبر (سیاست نیوز) داعش سے رابطے کے الزام میں گرفتار تین نوجوانوں نے جن پر الزام ہے کہ اُنھوں نے جیل حکام پر حملہ کیا، آج عدالت میں اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے اُن پر کئے گئے مظالم سے عدالت کو واقف کروایا۔ چوتھے ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سشن جج جو نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی کی خصوصی عدالت بھی ہے نے چنچل گوڑہ جیل حکام کو حملہ واقعہ سے متعلق رپورٹ 25 ستمبر تک عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالتی تحویل میں موجود تینوں نوجوان محمد ابراہیم یزدانی، محمد الیاس یزدانی اور محمد عطاء اللہ رحمن عرف غوث نے آج این آئی اے عدالت میں اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے یہ بتایا کہ جیل حکام نے اُنھیں شدید زدوکوب کیا ہے اور اُنھیں اذیت رسانی کی ہے۔ عدالت نے نوجوانوں کا بیان قلمبند کرتے ہوئے اِس کا نوٹ لیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے تینوں نوجوانوں پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اُنھوں نے اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے مسئلہ پر جیل حکام پر اچانک حملہ کردیا تھا جس میں جیل وارڈر جی سمپت زخمی ہوگیا تھا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ مسٹر این مرلی بابو نے دبیرپورہ پولیس اسٹیشن میں حملہ سے متعلق ایک شکایت درج کروائی تھی جس پر پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 332 ، 225 اور جیل ایکٹ کے تحت ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ یزدانی برادران کو نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی نے 2016 ء میں پرانے شہر سے اچانک گرفتار کرتے ہوئے اُن پر الزام عائد کیاکہ وہ داعش کے حامی ہیں اور اُن کی دہشت گردانہ سرگرمیوں سے ملک کو خطرہ لاحق ہے اور نوجوانوں نے اسلحہ بھی اکٹھا کیا تھا۔ آج اِس کیس کی سماعت کے سلسلہ میں این آئی اے عدالت میں پیش کئے جانے پر نوجوانوں نے اپنا موقف واضح کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT