Sunday , May 27 2018
Home / شہر کی خبریں / جیون دان، گردہ، جگر، قلب اور دیگر جسمانی اعضاء کے عطیات کا ذریعہ

جیون دان، گردہ، جگر، قلب اور دیگر جسمانی اعضاء کے عطیات کا ذریعہ

4,000 سے زائد مریض حکومت ِ تلنگانہ کی منفرد اسکیم سے استفادہ کے منتظر
حیدرآباد۔ 14 نومبر (سیاست نیوز) ہندوستان میں ہر سال 2 لاکھ سے زائد افراد کو گردوں کی پیوندکاری کی ضرورت پڑتی ہے، لیکن صرف 5,000 افراد میں گردوں کی پیوندکاری کی جاتی ہے۔ اسی طرح سالانہ 50,000 افراد کیلئے قلب کی پیوند کاری ضروری ہوجاتی ہے، تاہم قلب کی پیوندکاری کے صرف 30 آپریشنس کئے جاتے ہیں۔ جگر کے عارضوں میں مبتلا مریضوں کی اچھی خاصی تعداد ہمارے ملک میں ہے چنانچہ ہر سال 50,000 افراد جگر کی پیوندکاری کے منتظر رہتے ہیں لیکن صرف 700 مریضوں میں جگر کی پیوندکاری کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ پِتّہ کی پیوندکاری کا بھی یہی حال ہے۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ کیا ہمارے ملک میں لوگ انسانیت نواز نہیں ہیں؟ وہ دوسروں کی زندگی بچانے کی فکر نہیں رکھتے؟ سرکاری اور غیرسرکاری ادارے و تنظیمیں جسمانی اعضاء کے عطیات سے متعلق عوام میں شعور پیدا نہیں کرتے؟ ان تمام سوالات کا ایک ہی جواب ہے کہ ہمارے ملک بالخصوص ریاست تلنگانہ میں جسمانی اعضاء کے عطیات دینے سے متعلق موثر شعور بیداری پروگرام ضروری ہے۔ ہماری ریاست میں گردہ، جگر، قلب اور پتہ کی پیوندکاری کے منتظر مریضوں کی کافی تعداد ہے۔ خاص طور پر جن افراد کے گردے فیل ہوچکے ہیں۔ ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ جن کیلئے گردہ کا انتظام بہت ضروری ہے۔ ایسے ہی مریضوں کیلئے حکومت تلنگانہ نے اعضاء کی پیوندکاری سے متعلق ’’کیاڈ اور‘‘ اور ٹرانسپلانٹیشن اڈوائزری کمیٹی کی تجویز پر ایک جامع اسکیم ’’جیون دان‘‘ شروع کی ہے اور اس کے لئے نظامس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس کو اتھاریٹی نامزد کیا گیا۔ جیون دان کا مقصد صرف اور صرف دل، جگر، پتہ اور گردوں کے ناقابل علاج امراض میں مبتلا مریضوں کو اعضاء کی پیوندکاری کا موقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ ایک صحت مند اور خوشحالی زندگی گذار سکیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ دوسری سرکاری اسکیمات کی طرح اقلیتیں جیون دان جیسی اسکیم سے بھی ناواقف ہیں ۔جیون دان اسکیم کے تحت تاحال تقریباً 1100 افراد میں مختلف اعضاء کی پیوندکاری کی گئی۔ ریاست کے کم از کم 48 اسپتالوں میں جیون دان کو اعضاء کے عطیات دیئے گئے۔ اعضاء کی پیوندکاری میں بلڈ گروپ اور عمر کا اہم کردار ہوتا ہے۔ جیون دان اسکیم کے تحت درج اسپتالوں کی تعداد 26 ہے جن میں نمس حیدرآباد، گلوبل اسپتال لکڑی کا پل، کامینی اسپتال، ایل بی نگر، ایشین، انسٹیٹیوٹ آف انٹرالوجی، اسٹار ہاسپٹلس حیدرآباد، عثمانیہ جنرل اسپتال افضل گنج، کامینینی اسپتال گچی باؤلی، اپولو اسپتال جوبلی ہلز، اوبر گلوبل اسپتال، ایل بی نگر، کیر اسپتال بنجارہ ہلز، یشودھا اسپتال سوماجی گوڑہ کے یشودھا اسپتال سکندرآباد، ملک پیٹ، دکن اسپتال سوماجی گوڑہ، میاکس کیور میڈی سٹی حیدرآباد، سن شائن اسپتال، سائی وانی اسپتال حیدرآباد، کیر اسپتال نامپلی، مشیرآباد، سنچری اسپتال، گاندھی اسپتال، کامینینی اسپتال نارکیٹ پلی، مہاویر اسپتال، مانصاحب ٹینک اور کیر اسپتال ہائی ٹیک سٹی شامل ہیں۔ جیون دان ڈاٹا کے مطابق ٹریفک حادثات یا دوسرے واقعات میں شدید زحمی افراد نمس ڈپٹی طور پر مردہ قرار دیا جاتا ہے۔ ان کے رشتے دار جسمانی اعضاء دینے کیلئے آگے آئے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ جسمانی اعضاء کے عطیات دینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ سال 2016ء میں 106 افراد نے جیون دان کے ذریعہ اعضاء کے عطیات دیئے تھے اور جاریہ سال تاحال 125 افراد نے جسمانی اعضاء کے عطیات دیئے ہیں۔ جیون دان کے ذریعہ اعضاء کی پیوندکاری کروانے کے خواہاں افراد کی تعداد 4,152 ہوگئی ہے۔ ان میں بیشتر گردہ یا جگر کی پیوندکاری چاہتے ہیں۔ 2016ء میں ایسے مریضوں کی تعداد 2,200 تھی۔

 

TOPPOPULARRECENT