Tuesday , December 19 2017
Home / Top Stories / ’’جیو‘‘ کے بعد انیل امبانی کا ایرسیل سے موبائل معاہدہ

’’جیو‘‘ کے بعد انیل امبانی کا ایرسیل سے موبائل معاہدہ

ریلائنس کمیونیکیشن ۔ایرسیل کے جملہ 65,000 کروڑ روپئے کے اثاثہ جات

ممبئی۔ 14 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) کھرب پتی صنعت کار انیل امبانی کے زیرکنٹرول ’’ریلائنس کمیونیکیشنس‘‘ اور ایرسیل نے آج اپنے وائرلیس ٹیلیکام بزنس کو ضم کرنے کا فیصلہ کیا جس سے صارفین کی بنیاد پر ہندوستان کی تیسری سب سے سرکردہ ٹیلیکام کمپنی قائم ہوگی۔ یہ ہندوستانی ٹیلیکام صنعت میں سب سے بڑی تبدیلی کا نقیب ہوگا۔ ہندوستان کے متمول ترین صنعت کار مکیش امبانی کے چھوٹے بھائی انیل امبانی کے زیرکنٹرول ریلائنس کمیونیکیشنس اور ایرسیل کا انضمام مکیش امبانی کی جانب سے شروع کردہ ’’ریلائنس جیو‘‘ کا جواب ہے۔ تجزیہ کاروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ اس وقت جیو کی جارحانہ شروعات کے بعد اس شعبہ میں زبردست سبقت لے جانے کیلئے فون کمپنیوں کے درمیان دوڑ شروع ہوگی۔ ایرسیل کے 8.8 کروڑ صارفین ہیں جبکہ ریلائنس کمیونیکیشنس کے 9.87 کروڑ صارفین ہیں، ان دونوں کے انضمام کے بعد اس شعبہ میں دیگر فون کمپنیاں پیچھے ہوجائیں گی۔ فی الحال ’’بھارتی ایرٹیل‘‘ کو ’’مارکٹ کا لیڈر‘‘ سمجھا جاتا ہے، اس کے بعد ’’وڈافون‘‘ ہے۔ ایرسیل ،ملائیشیا کی میکسیس کمیونیکیشن کی ملکیت ہے ، اب یہ ریلائنس کمیونیکیشنس تک وسعت پائے گی اور اسے 3G اور 4G گنجائش والے ایرویوز تک رسائی حاصل ہوگی۔ ریلائنس کمیونکیشن اور میکسیس کمیونیکیشن آف ملائیشیا کو اس مشترکہ کمپنی میں 50% تک حصہ حاصل ہوگا۔ گزشتہ 90 دن سے اس انضمام کے بارے میں مشاورت ہورہی تھی۔ بالآخر اس بات چیت کو دو مرتبہ توسیع دینے کے بعد انضمام کا فیصلہ کیا گیا۔ضم شدہ کمپنیوں کا جملہ اثاثہ 65,000 کروڑ روپئے کا ہوگا اور یہ ہندوستان میں سرفہرست کارپوریٹس میں شمار کئے جائیں گے۔

ممبئی میں ایم این ایس کارکنوں کی دادا گیری
ممبئی ۔ 14 ۔ ستمبر : ( سیاست ڈاٹ کام): داج ٹھاکرے کی زیر قیادت ایم این ایس کے کارکنوں نے آج ایک تنظیم کی پریس کانفرنس کو درہم برہم کردیا جو کہ مہاراشٹرا میں علحدہ ریاست ودربھا کی پر زور حامی ہے ۔ کارپوریٹر سندیپ دیشپانڈے کی زیر قیادت ایم این ایس ورکرس اچانک کانفرنس ہال میں داخل ہوگئے ۔ جب کہ ودربھا راجیہ اندولن سمیتی نے جنوبی ممبئی کے پریس کلب میں میڈیا کانفرنس طلب کی تھی جہاں سے راست ٹیلی کاسٹ کا انتظام کیا گیا تھا ۔ دیشپانڈے نے کہا کہ ہم علحدہ ریاست ودربھا کی تشکیل کو ہرگز برداشت نہیں کرسکتے ۔ اور ہم اکھنڈ (متحدہ ) مہاراشٹرا پر ایقان رکھتے ہیں اور ریاست کو متحد رکھنے کے لیے کوئی بھی قربانی پیش کرنے کو تیار ہیں ۔ مذکورہ تنظیم مشرقی مہاراشٹرا میں کپاس کی کاشت سے مشہور علاقہ ودربھا کو علحدہ ریاست میں تبدیل کرنے کے لیے گذشتہ 20 سال سے جدوجہد کررہی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT