Monday , January 22 2018
Home / اداریہ / جیہ للیتا غیرمحسوب اثاثہ جات کیس

جیہ للیتا غیرمحسوب اثاثہ جات کیس

ایسا لگتا ہے دن پھریں گے مرے اب تو چاروں طرف اجالا ہے جیہ للیتا غیرمحسوب اثاثہ جات کیس

ایسا لگتا ہے دن پھریں گے مرے
اب تو چاروں طرف اجالا ہے
جیہ للیتا غیرمحسوب اثاثہ جات کیس
ہندوستان میں جب دیانت داری، انصاف کا نظام ہی لاپتہ ہوجائے تو انصاف و عدل کے پیمانے بھی بدلتے ہیں تو کیا ماتم کیا جائے گا۔ ٹاملناڈو کی لیڈر جیہ للیتا کو غیرمحسوب اثاثہ کیس میں کرناٹک کی عدالت نے تحت کی عدالت کے فیصلہ کی نفی کرتے ہوئے الزامات منسوبہ سے بری کردیا۔ رشوت خوری کرنے والے کو جب قانون سے آزادی مل جاتی ہے تو اس میں بھی رشوت ستانی کے افسوسناک عمل کے سواء کچھ نہیں ہے۔ اگر انصاف و عدلیہ کے نفوس کا یہی حال رہا تو پھر بہت جلد ہندوستان ایک ناکام مملکت بن کر رہ جائے گی جس میں سب رشوت خور، بدعنوان، اپنی ذات کی فکر رکھنے والوں کا ملک بن جائے گا۔ تمام دولت مند افراد، سیاست داں، خاطی مجرمین ہوں یا سرکاری محکموں کے سب سے بڑے عہدیدار سے لے کر چپراسی تک ملک میں رشوت ستانی کو بڑھاوا دینے کے لئے ذمہ دار ہیں۔ ہندوستان میں بدعنوانیوں کو ہوا دینے والے سیاست دانوں نے اپنا ایک مضبوط گروپ بنالیا ہے۔ ان تک قانون کے لمبے ہاتھ نہیں پہونچ سکتے۔ جیہ للیتا کے کیس میں تحت کی عدالت نے انصاف و قانون کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے انا ڈی ایم کے لیڈر جیہ للیتا کو موردالزام ٹھہرا کر سزا کا اعلان کیا تھا لیکن کرناٹک کی عدالت نے تحت کی عدالت کے فیصلہ کو مسترد کردیا۔ پیسے کی طاقت کیا ہوتی ہے، یہ سب عوام کو دکھایا جارہا ہے۔ اس طرح کے فیصلے جب آتے ہیں تو عوام کا اعتماد ہندوستانی عدلیہ پر سے اٹھ جائے گا۔ اگرچہ ان کو ان کی غیرمحسوب اثاثہ جات کیس میں جیل ہوتی تو عدلیہ پر یقین رکھنے والے عوام کا ایقان مضبوط ہوجاتا۔ ماضی میں بھی چھوٹی عدالتوں کے فیصلوں کو بڑی عدالتوں نے قانون کی باریک پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر فیصلے سنائے ہیں۔ اس لئے کئی بڑے مجرم افراد اور سیاست داں آزادی سے گھوم پھر رہے ہیں۔ کرناٹک ہائیکورٹ کے جج سی رام کمار سوامی نے تحت کی عدالت، جج جان مائیکل کے 27 ستمبر 2014ء کے فیصلہ کو رد کردیا جبکہ جج نے جیہ للیتا کو چار سال کی قید اور 100 کروڑ روپئے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ کرناٹک کی عدالت کے فیصلہ سے جیہ للیتا کے دوبارہ برسراقتدار آنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ انہیں بنگلور کی تحت کی عدالت نے مجرم قرار دے کر سزا سنائی تھی۔ ستمبر میں انہوں نے چیف منسٹر کی حیثیت سے استعفیٰ دیا تھا۔ کرناٹک ہائیکورٹ کے جج سی آر کمار سوامی نے اس کیس میں کئی قانونی خامیاں نوٹ کی ہیں۔ جیہ للیتا کی رہائی ازخود انا ڈی ایم کے پارٹی کارکنوں کے لئے حیرانی کی بات تھی کیونکہ پارٹی اور حریفوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اب جیہ للیتا کے سیاسی کیریئر کو گہن لگ جائے گا لیکن اب عدلیہ نے انہیں سیاسی عزائم کی تکمیل کا موقع دے دیا ہے تو جیہ للیتا کو 6 ماہ کے اندر تازہ خط اعتماد حاصل کرکے چیف منسٹر کی کرسی سنبھالنے کی کوشش کرتے دیکھا جائے گا۔ اگر کرناٹک ہائیکورٹ کا فیصلہ مخالفت میں آتا تو جیہ للیتا کو 6 سال تک انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا جاتا۔ ٹاملناڈو یا ہندوستان کی مرکزی قیادت میں جب کسی پارٹی لیڈر کی موجودگی سیاسی بازیاں پلٹ سکتی ہے تو پھر جیہ للیتا کے حق میں بھی یہی ہوا ہے کہ مرکز نے اس لیڈر کو ٹاملناڈو میں استعمال کرنے کا بہانہ تلاش کرلیا ہے۔ اب جیہ للیتا ریاست ٹاملناڈو میں جلد سے جلد اسمبلی انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی کٹر حریف پارٹی ڈی ایم کے کو بری طرح ناکام بنانے کا فیصلہ کریں گی۔ مرکز کی مودی حکومت نے جیہ للیتا کو اس لئے اہمیت دی ہے کہ مرکز میں جنتا پریوار کے نام سے ایک سیاسی گروپ ابھر رہا ہے۔ اگر یہ گروپ وقت آنے پر اپنا وزن بڑھانے میں کامیاب ہوجائے تو پھر بی جے پی کے ارکان کو خطرہ ہوگا۔ آنے والے سیاسی حالات کو پیش نظر رکھ کر ہی عدلیہ کا استعمال کیا گیا ہے۔ اگر جیہ للیتا اس سال یا آئندہ سال اسمبلی انتخابات کرانے کے لئے ضد کریں گی اور الیکشن کمیشن آف انڈیا ان کی بات سن کر ٹاملناڈو میں انتخابات کرائے گا تو یہی سمجھئے کہ نریندر مودی اپنی ٹاملناڈو کی دوست کو ٹاملناڈو سے رائے دہندوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ اس وقت ٹاملناڈو کی سیاست میں ڈی ایم کے کا بھی موقف کمزور ہے۔ آج کے عدلیہ کے فیصلہ نے انا ڈی ایم کے لیڈر کے لئے اقتدار کے دوبارہ حصول کی راہ کشادہ کردی ہے۔ تحت کی عدالت یا ہائیکورٹ میں مقدمہ چلتا ہے تو قطعی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ آخر فیصلہ تو سپریم کورٹ کرے گا جس کے بعد ہی کسی لیڈر کو قطعی سکون نصیب ہوگا۔ جیہ للیتا کے حلقوں میں عدالت کے اس فیصلہ کو انصاف کی کامیابی ہی قرار دیا جائے گا۔ جج کے آر کے کمارا سوامی کو 161 نمبر کے کورٹ ہال میں اپنا فیصلہ سنانے کیلئے بہ مشکل 3 منٹ درکار ہوئے ہوں گے، لیکن اس فیصلہ نے عدلیہ پر ایقان رکھنے والے لاکھوں افراد کے دلوں میں شکوک پیدا کردیئے ہیں کہ آیا عدلیہ کا انصاف تحت کی عدالتوں سے نکل کر بڑی عدالتوں کے در و دیوار سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجاتا ہے۔ 66.64 کروڑ روپئے کے غیرمحسوب اثاثہ جات کیس نے بہرحال عوام کو مایوس کردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT