Wednesday , November 22 2017
Home / اداریہ / جی۔20 چوٹی کانفرنس

جی۔20 چوٹی کانفرنس

پھر میری جانب اُٹھے پتھر کئی
پھر ہوا کا رُخ ہے اس کے ہاتھ میں
جی۔20 چوٹی کانفرنس
جرمن کے شہر ہیمبرگ میں جی۔20 چوٹی کانفرنس کے مقاصد کو ٹھوکر میں رکھتے ہوئے صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے دیگر طاقتور اقوام کے قائدین کو ہکابکا کردیا۔ ٹرمپ نے امریکہ کا اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ایک نکاتی ایجنڈہ پر عمل کرنے کا اندھادھند مظاہرہ شروع کیا ہے جس کا واضح اظہار جی۔20 کانفرنس میں بھی دیکھا گیا۔ تجارت اور ماحولیات کی تبدیلی پر امریکہ کو ہی ہراول دستہ ملک بنانے کی کوشش کرتے ہوئے ٹرمپ نے یورپی یونین اور جاپان کو بھی نظرانداز کیا۔ جی۔20 چوٹی کانفرنس کے سب سے زیادہ طاقتور معیشتوں کا کئی نکات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا البتہ بہت ہی محتاط طریقہ سے تحریر کردہ اعلامیہ کو جاری کیا گیا تو اس میں جی۔20 گروپ کے رکن ممالک کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اصولی طور پر آزادانہ اور منصفانہ تجارت کو اہمیت دی گئی لیکن امریکہ اور جی۔20 کے دیگر رکن ممالک کے درمیان کوئی مشترکہ بنیاد ہی پیدا نہیں ہوسکی البتہ گروپ کے ارکان نے ہندوستان کی جانب سے کئے گئے معاشی اصلاحات کے اقدامات کی ستائش کی جس اجلاس میں عالمی قائدین کے درمیان کئی مسائل پر شدید اختلافات پائے جاتے ہوں اس کی کامیابی کے بارے میں دعوے بھی کھوکھلے معلوم ہوں گے۔ ماحولیاتی تبدیلی اور تجارت سے متعلق کئی مسائل جوں کا توں رہ گئے ہیں۔ ساری دنیا میں بالادستی کی تجارت کو ختم کرنے کا عزم رکھنے والے ان ملکوں نے امریکہ کی مخالفت کے بعد پروٹیکشن تجارتی پالیسیوں کے خلاف کام کرنے کا عہد ہی ترک کردیا ہے تو پھر آمادانہ تجارت کو فروغ دینے کی پالیسی بھی امریکی صدر کی پالیسیوں کے تابع بنادی گئی تو پھر معاشی تحفظ کے لیے ان ملکوں کا یکجا ہونا نشستند گفتند برخاستند ثابت ہوا۔ جی۔20 چوٹی کانفرنس کے اعلامیہ میں موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں انسداد اقدامات کی کوششوں کا ذکر بھی نہیں کیا گیا۔ ان پالیسیوں کو اعلامیہ سے نکال دینا ہی افسوسناک ہے۔ دنیا بھر کی دوتہائی آبادی کی نمائندگی کرنے والے ان جی۔20 چوٹی کانفرنس کے رکن ممالک کے سربراہان جب اہم تر عالمی مسائل کو حل نہیں کرسکے تو دیگر عالمی مسائل کی یکسوئی کی بھی توقع نہیں کی جاسکتی۔ تو پھر جی۔20 چوٹی کانفرنس میں دیگر بڑے مسائل جیسے شمالی کوریا، شام اور ماحولیات کی تبدیلی جیسے مسائل کس طرح حل ہوں گے۔ خاص کر شمالی کوریا اور شام کے معاملہ میں مختلف مہرے کام کررہے ہیں۔ ان مہروں کو جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں جمع تو کرلیا گیا تھا مگر اصل مہرہ امریکہ نے اپنی بالادستی کے ذریعہ تمام مہروں کو کمزور کردیا۔ 19 ممالک کے خلاف ایک امریکہ نے اپنی بات منوانے کی کوشش کی ہے تو آگے چل کر دیگر ممالک کو مایوسی ہی ہاتھ آئے گی۔ وزیراعظم برطانیہ تھریسامے نے دہشت گردی اور عصری غلامی کی پالیسیوں کے خلاف برطانیہ کی جدوجہد کا ذکر کیا مگر وہ بھی پیرس معاہدہ کو روبہ عمل لانے کے لیے یقینی موقف کے اظہار سے قاصر رہیں۔ جی۔20 اجلاس ہر سال باری باری سے رکن ممالک کی میزبانی میں منعقد ہوتا ہے اور اس کا اختتام مشترکہ بیان سے عمل میں آتا ہے اس مشترکہ بیان یا اعلامیہ میں مختلف مسائل کا ذکر کیا جاتا ہے۔ معاشی پالیسی، بین الاقوامی امداد، اور سکیوریٹی جیسے امور پر توجہ دینے کا عہد بھی ہوتا ہے مگر آئندہ سال تک اس پر کس حد تک دیانتداری سے عمل کیا جاتا ہے وہ واضح نہیں ہوتا اس مرتبہ اعلامیہ جاری ہونے سے پہلے ہی ٹرمپ نے جی۔20 کے رکن ممالک میں عدم اتفاق رائے پیدا ہونے والی حرکتوں کے ذریعہ تمام کو حیران کردیا۔ ٹرمپ اپنے ملک اور اپنی عوام کے مستقبل کے لیے دیگر اقوام کے مستقبل کو دائو پر لگانے کی کوشش کرتے نظر آرہے ہیں اور جی۔20 ملکوں نے اس کوشش کی کوئی خاص مخالفت بھی نہیں کی۔ اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ ٹرمپ کا یہ جانبدارانہ پیام جی۔20 چوٹی کانفرنس کے لیے آنے والے دنوں میں مزید چیلنج بن کر کھڑا ہوگا۔ اب سوال یہی اٹھ رہا ہے کہ ہیمبرگ میں جمع قائدین آئندہ ٹرمپ کے سامنے کس سطح پر کھڑے ہوں گے؟ ساری دنیا کی قسمت سنوارنے کا اختیار حاصل کرنے کوشاں جی۔20 اب خود اپنی بنیاد کو مضبوط بنانے سے قاصر نظر آرہا ہے تو ایک مضبوط پائیدار عالمی معیشت بنانے کی ان سے امید موہوم ہوگی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT