Monday , July 16 2018
Home / سیاسیات / جی ایس ٹی اور دیگر مرکزی حکومت کی ناکامیوں پر کانگریس کی تنقید

جی ایس ٹی اور دیگر مرکزی حکومت کی ناکامیوں پر کانگریس کی تنقید

راجیہ سبھا میں امیت شاہ کی پہلی تقریر، کانگریس پر اظہار برہمی ، مرکزکا دفاع
نئی دہلی۔5 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا میں اپنی پہلی تقریر کرتے ہوئے بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے آج کانگریس کی جی ایس ٹی اور مرکزی حکومت کی دیگر ناکامیوں جیسے بیروزگاری سے نمٹنا اور دیگر مسائل پر تنقید کے بعد انہوں نے حکومت کے مختلف محاذوں پر اپنی حکومت کے کارناموں کا تذکرہ کیا جنہیں مرکزی حکومت نے نمٹایا ہے۔ امیت شاہ نے سینئر کانگریس قائد پی چدمبرم پر ان کے ’’پکوڑا‘‘ تبصرے کے سلسلہ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہوتا کہ وہ بھیک مانگنے کے بجائے پکوڑے بیچتے تھے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ ایک شخص جو پکوڑے بیچتا ہے بے روزگار نہیں ہے بلکہ ملازم ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی تھی کہ ایک چائے والے کا بیٹا آج وزیراعظم بن چکا ہے۔ اس لیے پکوڑے بیچنا خود روزگار ہے۔ کیا آپ اس کا تقابل بھکاریوں سے کرسکتے ہیں۔ایک گھنٹہ طویل اپنی تقریر میں امیت شاہ نے کہا کہ میں ملک میں بے روزگاری کو تسلیم کرتا ہوں ۔ یہ ایک مسئلہ ہے لیکن آپ (کانگریس) ملک پر اتنے برسوں تک حکمراں رہ چکی ہے۔ کیا 8 سال سے اس کے اقتدار سے دور رہنے پر جس میں واجپائی کا دورِ اقتدار بھی شامل ہے؟ اتنا فرق پیدا ہوگیا۔ انہوں نے کانگریس پر جی ایس ٹی پر تنقید کے سلسلہ میں بھی برہمی ظاہر کی کیوں کہ کانگریس کے بموجب یہ ’’گبرسنگھ ٹیکس‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک فلمی ڈاکو کو گبر سنگھ کہا جاتا ہے۔ امیت شاہ نے سوال کیا کہ کیا یہ ’’جی ایس ٹی‘‘ ڈکیتی ہے؟ ان لوگوں کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے جو گبر سنگھ ٹیکس کو سمجھ نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈکیتی نہیں ہے بلکہ سبسیڈی پر جو مختلف خدمات پر فراہم کی جاتی ہیں، نظرثانی ہے۔ جیسے کہ بیوائوں اور غرباء کی خدمات پر نظرثانی۔ بی جے پی کے صدر نے بیکوقت اسمبلی و لوک سبھا انتخابات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے دیگر اقدامات بھی جیسے برقی سربراہی، بیت الخلائوں کی تعمیر، خود روزگار اور عوام کے لیے سہولتوں کی فراہمی لائق ستائش ہیں۔

TOPPOPULARRECENT