Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / جی ایس ٹی سے صنعتی و تجارتی اداروں پر منفی اثرات

جی ایس ٹی سے صنعتی و تجارتی اداروں پر منفی اثرات

دس اہم صنعتیں مشکلات کا شکار ، تجارت میں بھاری گراوٹ
حیدرآباد۔22ستمبر (سیاست نیوز) ملک میں جی ایس ٹی کا نفاذ کے بعد نہ صرف صنعتی ادارے بلکہ تجارتی اداروں پر بھی اب اس کے منفی اثرات نظر آنے لگے ہیں جس کے نتیجہ میں تجارتی مندی میں گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق ملک کی معاشی صورتحال میں جی ایس ٹی کے معمول پر آنے تک بہتری کے کوئی امکانات نہیں ہیں کیونکہ ملک کی موجودہ صورتحال میں ملک کی 10اہم صنعتیں جی ایس ٹی کے عمل کو نہ سمجھ پانے کے سبب بے انتہاء مشکلات کا شکار بنتی جا رہی ہے اور گذشتہ دو ماہ کے دوران ان کے کاروبار میں بھاری گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ ہندستان میں جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد سب سے زیادہ متاثرہونے والی صنعت میں ہیرے کی صنعت اور پارچہ کی صنعت تصور کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ دسہرہ تہوار کے دوران تجارتی مندی ریکارڈ کئے جانے کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ آئندہ ماہ دیوالی کے دوران بھی کاروبار میں کوئی بہتری نہیں ہوگی ۔ تاجرین پارچہ کا کہنا ہے کہ دسہرہ تہوار کے دوران جو صورتحال دیکھی جا رہی ہے اس میں 60فیصد فروخت میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور اسی طرح پیداوار میں بھی 60فیصد سے زائد کی گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے جس کے مجموعی اثرات مکمل بازار پر مرتب ہونے لگے ہیں۔ہیرے ‘ پارچہ کے علاوہ آٹوموبائیل صنعت کے ذمہ داروں کا بھی ماننا ہے کہ اس صنعت پر بھی جی ایس ٹی کے منفی اثرات پائے جا نے لگے ہیں۔ دسہرہ کے موقعہ پر شہری علاقوں کے علاوہ دیہاتوں میں تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جاتا تھا اور بڑے تجارتی مراکز کی جانب سے خصوصی رعایتی سیل کے اعلانات کئے جاتے تھے لیکن جی ایس ٹی کے سبب ان کے سیل پر بھی اثر دیکھا جانے لگا ہے ا ور بعض برانڈکی جانب سے جی ایس ٹی کے نفاذ سے قبل کی تیار کردہ اشیاء کے خصوصی سیل کی تشہیر کے ذریعہ صارفین کو جی ایس ٹی کے نفاذ سے قبل کی تیار کردہ اشیاء کی خریداری کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ صرافہ بازار اور دیگر صنعتوں بالخصوص لگژری اشیاء کی تیار کرنے والے صنعتی اداروں میں پیداوار میں کمی ریکارڈ کئے جانے کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ جی ایس ٹی کا نظام ابھی تک بھی صنعتی اداروں اور تاجرین کو سمجھ میں نہیں آیا ہے اورجن تاجرین کی جانب سے جی ایس ٹی ریٹرنس داخل نہیں کئے گئے ہیں انہیں ہزاروں کی تعداد میں نوٹسوں کی اجرائی کے سبب صورتحال مزید ابتر ہوتی جا رہی ہے جس کے سبب حالات میں کوئی سدھار فوری آنے کے امکانات نہیں ہیں ۔ہیرے کے تاجرین کا کہنا ہے کہ ان کے بل جو ادھار ہوتے ہیں ان کی وصولی میں بسا اوقات 3تا4ماہ لگ جاتے ہیں اور ان کی اشیاء کی فروخت بھی قطعی نہیں ہوتی اسی لئے اس مسئلہ سے کس طرح نمٹا جائے وہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔

TOPPOPULARRECENT