Friday , December 15 2017
Home / ہندوستان / جی ایس ٹی شرحوں میں کٹوتی کا مقصد گجراتی ووٹروں کی خوشامد

جی ایس ٹی شرحوں میں کٹوتی کا مقصد گجراتی ووٹروں کی خوشامد

مودی بطور چیف منسٹر جی ایس ٹی کے مخالف رہے، اب یہی سسٹم لاگو کردیا: شیوسینا

ممبئی۔9 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) شیوسینا نے آج الزام عائد کیا کہ مرکز نے گڈس اینڈ سرویسس ٹیکس (جی ایس ٹی) کی بعض عام استعمال کی اشیاء کے لیے شرحوں میں کٹوتی محض اس لیے کردی کہ گجرات اسمبلی انتخابات سے قبل رائے دہندوں کی خوشامد کی جاسکے۔ اس نے یہ دعوی بھی کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی یکساں ٹیکس کاری سسٹم کے نفاذ کے مخالف تھے جب وہ چیف منسٹر گجرات ہوا کرتے تھے۔ گجرات میں اسمبلی چنائو رواں سال کے اواخر میں ہونے والے ہیں۔ سینا کے ترجمان اخبار ’سامنا‘ کے اداریہ میں کہا گیا کہ نوٹ بندی کا وار ملک پر پڑنے کے بعد معیشت بری طرح متاثر ہوئی جس کی بحالی کے دور دور تک امکانات نظر نہیں آتے۔ پھر جی ایس ٹی کے ہتھیار کو اس سست رو معیشت کے خلاف استعمال کیا گیا جس سے افراط زر مزید بڑھ گیا۔ اب جی ایس ٹی شرحوں میں کچھ حد تک کٹوتی کے ذریعہ حکومت نے اپنی اکڑ کو سردست بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسا ظاہر کیا ہے کہ اسے عوام کی فکر ہے اور وہ عوام کے مفاد میں اقدامات کرنے سے تامل نہیں کرتی۔ عوام کا عتاب جی ایس ٹی پر عمل آوری کے بعد آتشیں ہوچلا تھا۔ جی ایس ٹی شرحوں میں کمی کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ اس کی بھاری قیمت کا گجرات اسمبلی چنائو پر اثر نہ پڑنے پائے۔ این ڈی اے کی حلیف پارٹی نے مزید کہا کہ حکومت کا تازہ فیصلہ جو غیر برانڈ والے ’کھاکرا‘ پر جی ایس ٹی شرح کو 12 فیصد سے گھٹاکر 5 فیصد کرنے سے متعلق ہے، یہ خاص طور پر گجرات چنائو کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ سورت، راج کوٹ اور احمد آباد کی سڑکوں پر بڑی تعداد میں چھوٹے تاجرین احتجاجاً جمع ہوئے اور جی ایس ٹی کے خلاف مظاہرے ہوئے جس نے گجرات میں مخالف حکومت ماحول پیدا کیا۔ لہٰذا حکومت ان شرحوں میں کٹوتی پر مجبور ہوگئی۔ شیوسینا کا دعوی ہے کہ مودی کی شروع سے یہ رائے رہی ہے کہ اگر جی ایس ٹی لاگو کیا گیا تو افراط زر میں اضافہ ہوگا اور معیشت دِگرگوں ہوجائے گی اور اسی لیے انہوں نے چیف منسٹر گجرات کی حیثیت سے اس قسم کے ٹیکس کی پرزور مخالفت کی تھی۔ لیکن بی جے پی برسر اقتدار آنے کے بعد جی ایس ٹی لاگو کردیا گیا اور اس طرح مودی اپنے لفاظ سے پھر گئے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی پر عمل آوری جیسے فیصلوں نے معیشت کو تباہ کرڈالا ہے۔

TOPPOPULARRECENT