Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / جی ایس ٹی صرف ایک تجربہ ‘ نتائج کا انتظار ‘چندر شیکھر راؤ

جی ایس ٹی صرف ایک تجربہ ‘ نتائج کا انتظار ‘چندر شیکھر راؤ

گوداوری اور کرشنا ندیوں میں وافر پانی ‘ درست استعمال سے دونوں تلگو ریاستوں کو فائدہ ۔ چیف منسٹر کا اظہار خیال

حیدرآباد ۔ 7اگست ( سیاست نیوز) جی ایس ٹی پر اعتراض کرنے والے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے کہا کہ ملک میں ایک ٹیکس پر عمل کیا جانے والا ٹیکس نظام جی ایس ٹی ایک تجربہ ہے ۔ اسکے نتائج کیا ہونگے دیکھنا ہے ۔ متحدہ آندھرا پردیش میں تلنگانہ سے ناانصافی کی وجہ سے سے علحدہ ریاست قائم ہوئی ہے ۔ ’ ہندو‘ اخبار کے سابق ایڈیٹر انچیف و صدرنشین کستوری اینڈ سنس لمٹیڈ این رام نے آج پرگتی بھون پہنچ کر چیف منسٹر سے ملاقات کی اور ان کی جانب سے تحریر کردہ کتاب ’ وائی اسکامس آر ہیرٹو اسٹے ‘ کے سی آر کے حوالے کی ۔ اس موقع پر مختلف مسائل بشمول تلنگانہ تحریک ‘ نئی ریاست کی صورتحال پر این رام نے چیف منسٹر سے سوالات کئے ۔ کے سی آر نے کہا کہ ایک ملک ایک ٹیکس کے نعرہ سے جی ایس ٹی پر عمل کیا جارہا ہے جو ایک تجربہ ہے ۔ عالمی سطح پر کئی ممالک نے جی ایس ٹی کو متعارف کردیا تاہم عمل آوری میں دشواریوں کے باعث اس سے دستبردار ہوگئے ۔ہندوستان میں اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔ٹیکس سلاب پر بھی اختلاف رائے ہے ۔ مرکز کو کئی تجاویز وصول ہورہی ہیں ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اس پر مرکز کا کیا ردعمل ہوگا وہ بھی دیکھنا ہے ۔ کے سی آر نے کہا کہ دریائے گوداوری اور کرشنا میں کافی پانی ہے جس کو صحیح طریقہ سے استعمال کرکے دونوں تلگو ریاستیں تلنگانہ اور آندھراپردیش ترقی کرتے ہوئے خوشحال رہ سکتی ہیں ۔ متحدہ آندھراپردیش میں تلنگانہ سے کی گئی ناانصافی سے علحدہ تلنگانہ تحریک شروع کرنا پڑا ۔ تحریک کے دوران ہم نے علحدہ تلنگانہ کی تشکیل پر ترقی کے جو دعوے کئے آج اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں ۔ ترقی و شرح آمدنی کے معاملہ میں تلنگانہ سرفہرست ہے ۔ 1956ء میں حیدرآباد اسٹیٹ کو آندھراپردیش میں ضم کرکے متحدہ آندھراپردیش کا قیام عمل میں آیا جس کی ابتداء سے مخالفت کی گئی ۔ فضل علی کمیشن نے تلنگانہ کو علحدہ ریاست قرار دینے مرکز سے سفارش کی تھی ملک کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو بھی تلنگانہ کو آندھرا میں ضم کرنے کے حق میں نہیں تھے لیکن آنداھرائی قائدین نے دہلی میں پیروی کرکے زبردستی حیدرآباد اسٹیٹ کو آندھراپردیش میں ضم کرلیا ۔ نظام کے دور حکومت میں تلنگانہ قائدین کے دہلی میں کوئی زیادہ تعلقات نہیں تھے ۔ آندھرا برطانیہ کے کنٹرول میں ہونے کی وجہ سے ان کے قائدین کے دہلی میں خوشگوار تعلقات تھے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آندھراپردیش تشکیل دی گئی ‘ تاہم صرف 9سال میں عوامی مخالفت شروع ہوئی اور تلنگانہ تحریک شروع ہوئی ۔ 1966 میں شروع ہوئی تحریک 1969میں ایم چنا ریڈی کی قیادت میں عروج پر پہنچ گئی ۔ اُسی وقت وہ ( کے سی آر ) نویں جماعت کے طالبعلم تھے اور وہ بھی تحریک کا حصہ بنتے ہوئے لاٹھی کا مار کھاچکے تھے ۔ میرے والد چنا ریڈی کے ساتھیوں میں تھے ۔ چنا ریڈی 10دن ہمارے گھر میں رہے ہیں ۔ متحدہ آندھراپردیش میں تلنگانہ کے ساتھ جانبداری بڑھتی گئی مگر کم نہیں ہوئی ۔ فلم اسٹار سے سیاستداں بن جانے والے این ٹی آر کی جانب سے نئی سیاسی پارٹی تشکیل دینے کے بعد ریاست میں صورتحال تبدیل ہوگئی ۔ وہ بھی تلگو دیشم میں شامل ہوگئے ۔ لگ بھگ دو دہوں تک رکن اسمبلی رہے اور وزیر بھی بنے ۔ چندرا بابو نائیڈو کے دور میں بحیثیت وزیر خدمات انجام دینے کے دوران تلنگانہ سے ناانصافی کے خلاف آواز اٹھایا کرتے تھے ۔ 1999 میں برقی شرحوں میں اضافہ کی مخالفت کرکے کسانوں کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن نائیڈو نے ان کی ایک نہیں سنی جس پر بطور احتجاج تمام عہدوں سے مستعفی ہوکر علحدہ تلنگانہ کی تحریک شروع کی ‘ کرن کمار ریڈی نے اسمبلی پلیٹ فارم سے تلنگانہ کو ایک روپیہ نہ دینے کا اعلان کیا جو آندھرائی قائدین کے غرور و تکبر کا ثبوت تھا ۔ ناانصافی ‘ جانبداری و غفلت تمام شعبوں میں جاری رہی جسکے خلاف احتجاج کرکے عوام نے علحدہ ریاست حاصل کی ۔ تحریک کے دوران ہم جو دعوے کرتے تھے اسی طرح تلنگانہ ترقی کررہا ہے ۔ 21فیصد شرح ترقی کے ساتھ تلنگانہ سارے ملک میں سرفہرست ہے ۔ دریائے گوداوری اور کرشنا کے پانی سے استفادہ کیلئے آبپاشی پراجکٹس تعمیر کئے جارہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT