Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / جی ایس ٹی عمل آوری پر تاجرین میں بے چینی

جی ایس ٹی عمل آوری پر تاجرین میں بے چینی

مرکز اور ریاستی حکومتوں سے غیر اطمینان بخش جواب ، صورتحال غیر یقینی
حیدرآباد۔7جولائی (سیاست نیوز) حکومت ہند نے ایک ملک ایک ٹیکس کے منصوبہ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے یکم جولائی سے جی ایس ٹی کے نفاذ کا اعلان کردیا لیکن اس پر عمل آوری کے سلسلہ میں اب تک تاجرین میں بے چینی کی کیفیت پائی جاتی ہے اور تاجرین جی ایس ٹی کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں ۔ تاجرین ہی نہیں بلکہ ریاستی و مرکزی جی ایس ٹی کے عہدیداروں کی جانب سے جی ایس ٹی رجسٹریشن کروانے کیلئے پہنچنے والوں کو تشفی بخش جواب نہیں دیا جا رہاہے بلکہ ریاستی عہدیدار اور مرکزی عہدیداروں کی ہدایات میں واضح تضاد پایا جانے لگا ہے لیکن اس صورتحال کے منفی اثرات ریاست کے تمام تجارتی اداروںپر مرتب ہونے لگے ہیں۔ ٹھوک تاجرین فیکٹری مالکین سے اشیاء کی خریدی کے لئے جی ایس ٹی کی ادائیگی کے متعلق متفکر ہیں کیونکہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ وہ جو ٹیکس ادا کر رہے ہیں اس کی پابجائی کس طرح ہو گی اور کون کرے گا؟ جی ایس ٹی کے سبب کئی ٹرانسپورٹ مالکین چھوٹے تاجرین کے مال کی منتقلی سے بھی انکار کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جب تک جی ایس ٹی رجسٹریشن نمبر نہیں دیا جائے گا اس وقت تک مال کی منتقلی ممکن نہیں ہے ۔ جب یہ چھوٹے تاجرین جی ایس ٹی رجسٹریشن کیلئے پہنچ رہے ہیں تو انہیں یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر ان کا کاروبار ایک سال میں 20لاکھ سے کم کا ہے تو ایسی صورت میں انہیں جی ایس ٹی نمبر حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اسی طرح ادویات ساز کمپنیوں سے ادویات کے ٹھوک تاجرین و ڈسٹری بیوٹرس ادویات کی خریدی کو بند کئے ہوئے ہیں کیونکہ انہیں یہ پتہ نہیں چل پا رہا ہے کہ جی ایس ٹی کی ادائیگی کو کس طرح ممکن بنایا جائے اور ادا کیا جانے والا ٹیکس کس طرح منہاء کیا جائے۔ علاوہ ازیں خریداری کی تفصیل کو آن لائن جمع کروانے کے علاوہ رسائد کی اجرائی کو لازمی قرار دیئے جانے اور جی ایس ٹی رجسٹریشن کے بغیر ادویات کی کمپنیوں کی جانب سے ڈسٹری بیوٹر اور میڈیکل شاپس کو عدم فروخت کے سبب مسائل پیدا ہونے لگے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ یہ صورتحال صرف ریاست تلنگانہ یا شہر حیدرآباد کی نہیں ہے بلکہ پورے ملک میں یہی حالات ہیں اور اگر مزید چند یوم یہی صورتحال رہتی ہے تو ملک میں ضروری ادویات کی بھی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ تاجرین کا الزام ہے کہ حکومت کی جانب سے جس انداز میں تجارتی اداروں کو جی ایس ٹی میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس کے متعلق یہ کہا گیا تھا کہ تیارکنندہ سے ارزاں فروشی و چلر فروش تاجرین کو ایک دوسرے سے مربوط کیا جائے گا لیکن اب جو صورتحال ہے اس میں ٹھوک تاجرین چلر فروش تاجرین کو بغیر جی ایس ٹی اشیاء فروخت کرنے کے متعلق خوف کا شکار ہیں اور چلر تاجرین جو سالانہ 20لاکھ سے کم کی تجارت کرتے ہیں انہیں جی ایس ٹی ضروری نہیں کہا جا رہا ہے جس کے سبب تجارتی برادری مخمصہ میں ہے۔

TOPPOPULARRECENT