Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / جی ایس ٹی :چھوٹے اور متوسط تاجروں کو راحت، 27 اشیاء سستی

جی ایس ٹی :چھوٹے اور متوسط تاجروں کو راحت، 27 اشیاء سستی

اے سی ریسٹورنٹس ٹیکس پر نظرثانی، ہوٹلوں میں کھانا سستا ہوگا، ایکسپورٹرس کو بھی راحت ،جی ایس ٹی کونسل کا اجلاس
سالانہ 1.5 کروڑ ٹرن اوور رکھنے والوں کو تین ماہ میں ریٹرن داخل کرنے کی سہولت
جی ایس ٹی شرح کو 18 فیصد سے گھٹا کر 12 فیصد کیا گیا، ارون جیٹلی کا بیان

 

نئی دہلی ۔ 6 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) جی ایس ٹی کونسل نے آج مختلف اشیاء کے ٹیکسوں میں بہت بڑی کٹوتی کا اعلان کیا ہے۔ ایکسپوٹرس اور چھوٹے تاجروں کے حق میں مختلف راحت اقدامات کئے ہیں۔ نئے بالواسطہ ٹیکس نظام کے نفاذ کے صرف تین ماہ بعد ہی جی ایس ٹی کونسل نے چھوٹے اور متوسط تاجروں کو اپنے ریٹرن داخل کرنے کی سہولت دی ہے اور ٹیکس کی ادائیگیوں میں راحت فراہم کی ہے۔ تقریباً 27 اشیاء پر سے ٹیکس شرحوں کو کم کردیا گیا ہے۔ سالانہ 1.5 کروڑ ٹرن اوور کے ساتھ تجارت کرنے والوں کو اب ماہانہ ریٹرن داخل کرنے کے بجائے تین ماہ میں ایک مرتبہ انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان کیلئے 80 فیصد ٹیکس ادائیگی کو لازمی قرار دیا گیا تھا لیکن اب انہیں صرف 5-6 فیصد مکمل ٹیکس ادا کرنا ہوگا ۔ اس کے علاوہ تاجروں
کیلئے ٹرن اوور کی سہولت دیتے ہوئے جامع اسکیم سے استفادہ کی اجازت دی گئی ہے تاکہ وہ تھکادینے والے طریقہ کار کے بغیر 1-5 فیصد ٹیکس ادا کرسکے اور ان تاجروں کا سالانہ ٹرن اوورس 75 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ کردیا گیا ہے۔ وزیرفینانس ارون جیٹلی نے جی ایس ٹی کونسل کے 22 ویں اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ متوسط اور چھوٹے ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم کردیا گیا ہے۔ کونسل نے 27 عام استعمال والی اشیاء پر جی ایس ٹی شرح گھٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان برانڈیڈ نمکین، ان برانڈیڈ آیورویدک میڈیسنس، خشک شاخ والے عام اور کھاکرا پر سے موجودہ 12 فیصد جی ایس ٹی کے بجائے 5 فیصد کردیا گیا ہے۔ اسی طرح ٹیکسٹائل شعبہ میں ہاتھ سے تیار کردہ دھاگوں پر بھی 18 فیصد ٹیکس کے بجائے 12 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ اسٹیشنری اشیاء، فرش کیلئے استعمال میں آنے والے پتھروں (ماربل اور گرینیڈ سے ہٹ کر)، ڈیزل انجن پارٹس اور پم پارٹس پر 28 فیصد موجودہ شرح کو کم کرکے 18 فیصد کیا گیا ہے۔ ای ویسٹ پر موجودہ 28 فیصد شرح کو گھٹا کر 5 فیصد کیا گیا ہے۔ انٹیگریٹیڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ اسکیم کے تحت اسکول کے بچوں کو دیئے جانے والے غذائی پیاکٹس پر موجودہ 12 فیصد ٹیکس کو گھٹا کر 5 فیصد کردیا گیا ہے۔ زری، امیٹیشن، غذائی اشیاء اور پینٹنگ اشیاء جیسے جاب ورکس کیلئے 12 فیصد ٹیکس کے بجائے پرکشش 5 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ سرکاری کنٹراکٹس میں کام انجام دینے والے لیبر کیلئے بھی 12 فیصد ٹیکس کے بجائے 5 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ ایکسپورٹس کو عالمی کساد بازاری کے باعث پیداوار میں گراوٹ کا سامنا کرنا پڑرہا تھا اب انہیں ٹیکس کی ادائیگی کیلئے 18 اکٹوبر تک جولائی اور اگسٹ کے دوران درآمدات پر ادا کردہ ٹیکس کے بقایا جات واپس کئے جائیں گے۔ جیٹلی نے کہا کہ بڑے ٹیکس دہندگان جو جملہ ٹیکس کا 94-95 فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں انہیں ماہانہ ریٹرنس داخل کرنے کا عمل برقرار رکھا گیا ہے اور وہ ماہانہ کی اساس پر ہی ٹیکس ادا کریں گے۔ اب تک 90 لاکھ رجسٹرڈ تاجروں کے منجملہ زائد از 15 لاکھ نے اس جامع اسکیم سے استفادہ کیا ہے ۔ جامع اسکیم میں اشیاء کی تجارت کیلئے شرح ٹیکس ایک فیصد ہے جبکہ مینوفیکچررس کیلئے 2 فیصد اور انسانوں کے پینے کیلئے (الکحول کے بغیر) مشروبات یا غذا کو سربراہ کرنے والوں پر 5 فیصد ٹیکس عائد ہوگا ۔ ہر ایکسپورٹر کیلئے ای ویلٹ نظام قائم کیا جائے گا جس کا یکم اپریل سے آغاز ہوگا ۔ جیٹلی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ تقریباً 72 لاکھ ٹیکس دہندگان جی ایس ٹی نظام میں منتقل ہوگئے ہیں جبکہ نئے ٹیکس نظام کے تحت 25-26 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان شامل ہوگئے ہیں ۔ جی ایس ٹی کو جولائی میں شروع کیا گیا تھا لیکن حکومت کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ ہندوستان کے 29 ریاستوں کو پہلی مرتبہ ایک ہی مارکٹ میں تبدیل کیا گیا تھا ۔ وزیراعظم نریندر مودی کے اس منصوبوں کے ذریعہ روزگار کے مواقع پیدا کئے گئے ہیں لیکن بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے اس منصوبوں پر کاری ضرب پڑا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT