Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / جی ایس ٹی ‘ کاروں ‘ تمباکو ‘ پان مصالحہ و کول ڈرنکس پر اعظم ترین ٹیکس

جی ایس ٹی ‘ کاروں ‘ تمباکو ‘ پان مصالحہ و کول ڈرنکس پر اعظم ترین ٹیکس

غذائی اجناس پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوگا ۔ روز مرہ کے استعمال کی اشیا ء پر 5 فیصد ٹیکس ‘ اعلی اختیاری کونسل کے فیصلے

عام آدمی کا بجٹ متاثر نہیں ہوگا ‘ انڈسٹری

نئی دہلی ۔ /3 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اعلی اختیاری جی ایس ٹی کونسل نے آج ایک چار پرتی جی ایس ٹی ٹیکس نظام ، 5 ، 12 ،  18 اور 28 فیصد کا فیصلہ کیا ہے ۔ جس کا مقصد بیشتر اشیاء پر ٹیکس کم کرنا اور اشیائے ضروریہ کو اس سے باہر رکھنا ہے ۔ یہ ایک بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے جو جی ایس ٹی پر آئندہ سال یکم اپریل سے عمل آوری کی راہ ہموار ہوگی ۔ پرتعیش اشیاء جیسے اعلیٰ سطحی کاریں اور ڈی میرٹ اشیا بشمول تمباکو ، پان مسالہ اور کولڈرنکس پر اعلیٰ ترین شرح سے ٹیکس عائد کیا جائیگا ۔ اس کے علاوہ سیس میں لگایا جائے گا ۔ اس طرح جملہ حقیقی ٹیکس تقریباً موجودہ سطح کا ہوگا ۔ اس نکتہ نظر سے کہ غریبوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے اور افراط زر پر قابو پایا جائے آدھی سے زیادہ اشیاء جیسے غذائی اجناس پر ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا جبکہ دو معیار کی ٹیکس کی شرحیں 12 اور 18 فیصد ہونگی ۔ سب سے کم شرح 5 فیصد ہوگی ۔ یہ روز مرہ استعمال کی جانے والی اشیاء کیلئے نہیں ہوگی بلکہ جی ایس ٹی نظام کے ذریعہ یکم اپریل  2017 ء جن اشیاء پر ٹیکس عائد کیا جائے گا یہ ان میں شامل نہیں ہوں گی ۔ اتفاق رائے سے جو گزشتہ اجلاس میں پیدا ہوچکا ہے ۔ بااختیار جی ایس ٹی کونسل نے جس کے صدر مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی ہیں فیصلہ کیا کہ اضافی سیس عائد کیا جائے گا ۔ یہ موجودہ ٹیکس اور 28 فیصد کی شرح کے درمیان کا فرق ہوگا ۔ لیکن اس کے نتیجہ میں قطعی ٹیکس اندازی میں اضافہ نہیں ہوگا ۔

تمباکو پر فی الحال تقریباً جملہ ٹیکس کا 65 فیصد ہے ۔ کاربن پر مبنی مشروبات کی ٹیکس کی شرح تقریباً 40 فیصد ہے ۔ دو روزہ جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس کے پہلے دن فیصلوں کے اعلان میں جیٹلی نے کہا کہ اعلیٰ ترین ٹیکس کا سلاب ان اشیاء پر لاگو ہوگا جن میں فی الحال 30 تا 31 فیصد اکسائز ڈیوٹی 12.5 فیصد اور ویاکٹ 14.5 فیصد عائد کیا جاتا ہے ۔ لیکن یہ مشروط ہے ۔ شرط یہ ہے کہ اس زمرہ میں کئی اشیا ہیں ۔ جنہیں کثیر تعداد میں عوام استعمال کرتے ہیں ۔ خاص طور پر نچلے ، اوسط طبقہ کے افراد ۔ اس لئے ان کیلئے 28 یا 30 یا 31 فیصد شرح زیادہ ہوگی ۔ چنانچہ ہم اسے 18 فیصد ان پر عائد کررہے ہیں ۔ جیٹلی نے پریس کانفرنس کے دوران اس سوال پر کہ کیا ٹیکس کا اثر عام آدمی پر معمولی حد تک کم ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ
اشیاء کی قطعی فہرست کیلئے ٹیکس کی زمرہ بندی ایک کمیٹی کی جانب سے کی جائیگی ۔ جیٹلی کے بموجب ان میں صابن ، تیل ، شیونگ اسٹک ، ٹوٹتھ پیسٹ اور ایسی مصنوعات شامل ہوں گی جن کو 18 فیصد کے زمرہ میں رکھا جائے گا ۔ معاشی مشیر اعلیٰ اروند سبرامنیم نے کہا کہ شرح کا ڈھانچہ غالباً  افراط زر کم کرے گا اور غالباً اسے نیچے لائے گا ۔ بیشتر اشیاء کیلئے جی ایس ٹی پر اکسائز ڈیوٹی اور ویاٹ عائد ہوگا ۔ ان کا فیصلہ مخصوص اشیاء یا ایٹمس کے زمرہ میں رکھنے کے سلسلے میں کیا جائے گا ۔

جیٹلی نے کہا کہ کیرالا متبادل رائے رکھتا ہے ۔ سیس سے جو رقم حاصل ہوگی علاوہ ازیں صاف ستھری توانائی سیس ایک مالیہ کا ذخیرہ تشکیل دیگا جسے ریاستوں کو کوئی مالی نقصان ہونے کی صورت میں معاوضہ کے طور پر پہلے پانچ سال تک جو جی ایس ٹی پر عمل آوری کے بعد ہوں گے ادا کیا جائے گا ۔ سیس 5 سال بعد ختم ہوجائے گا اور سیس کا فاضل ذخيرہ پانچ  سال کے اختتام پر مرکز اور ریاستوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا ۔ کئی مرکزی اور ریاستی ٹیکسیس جیسئے اکسائز ڈیوٹی ، سرویس ٹیکس اور ویٹ پہلے سال جی ایس ٹی میں شامل کرلئے جائیں گے ۔ 4 مرحلے کے ٹیکس ڈھانچہ سے اتفاق کرلیا گیا ہے ۔ معمولی سی ترمیم کرتے ہوئے 6,12, 18 اور 26 فیصد کے زمروں کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔ مرکز نے تجویز پیش کی ہے کہ 4 فیصد جی ایس ٹی سونے پر عائد کیا جائے ۔پانچ فیصد کا دوسرا زمرہ ان اشیا کے بارے میں ہوگا جنہیں عوام استعمال کرتے ہیں ۔ تیسرا زمرہ 12 اور 18 فیصد معیاری شرح کا ہوگا ۔ امکان ہے کہ یہ بھی اس زمرہ میں شامل ہوں گی ۔ چوتھا زمرہ 28 فیصد کا ہوگا اور خاص طور پر سفید اشیاء پر رنگ ہوگا ۔ جن پر موجودہ ٹیکس 30 تا 31 فیصد ہے جو اشیاء عام آدمی استعمال کرتے ہیں ۔ جیسے صابن اور ٹوتھ پیسٹ انہیں 18 فیصد کے زمرہ میں شامل کیا جائے گا ۔ ہم مالیہ کی تعدیل کررہے ہیںاور اس سے حاصل ہونے والا فائدہ 28 فیصد کے زمرہ میں شامل کیا جائے گا ۔ اس لئے کہ 28 فیصد کے زمرہ میں کم اشیاء ہوں گی ۔ اس دوران صنعتی حلقوں نے جی ایس ٹی کونسل کے فیصلوں کا خیر مقدم کیا ہے اور اس امید کا اظہار کیا کہ ٹیکس شرحوں کی جو تجویز ہے اس سے عام آدمی کا بجٹ متاثر نہیں ہوگا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT