Sunday , November 19 2017
Home / ہندوستان / جی ایس ٹی کریڈٹ کے تحت 65,000 کروڑ روپئے کی دعویداری

جی ایس ٹی کریڈٹ کے تحت 65,000 کروڑ روپئے کی دعویداری

نئے ٹیکس سسٹم کے پہلے ماہ جولائی میں 95,000 کروڑ روپئے کی وصولیات : سی بی ای سی
نئی دہلی ۔ 15 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) جی ایس ٹی کے پہلے ماہ جولائی میں وصول شدہ 95,000 کروڑ روپئے ٹیکس میں سے 65,000 کروڑ روپئے کو ٹیکس ادا کرنے والوں نے ٹرانزیشنل کریڈٹ بتایا ہے جس پر سی بی ای سی نے ایک کروڑ روپئے سے زائد کے تمام معاملوں کی تنقیح کا حکم دیا ہے۔ گڈس اینڈ سرویسیس ٹیکس (جی ایس ٹی) سسٹم جو یکم ؍ جولائی کو شروع ہوا، سابقہ ٹیکس سسٹم کے دوران خریدے گئے اسٹاک پر ٹیکس کریڈٹ کی اجازت دیتا ہے۔ یہ سہولت جی ایس ٹی کی شروعات کی تاریخ سے صرف 6 ماہ تک دستیاب ہے۔ سنٹرل بورڈ آف اکسائز اینڈ کسٹمس (سی بی ای سی) جو محصول سے متعلق باضابطگی اور عمل آوری نیز بالواسطہ ٹیکسوں کی وصولی سے نمٹنے والا ادارہ ہے، اس نے ایک مکتوب مورخہ 11 ستمبر میں ٹیکس عہدیداروں سے کہا ہیکہ 162 کمپنییوں ؍ فرمس کی جانب سے ایک کروڑ روپئے سے زائد والے جی ایس ٹی ٹرانزیشنل کریڈٹ کے دعوؤں کی جانچ کرے۔ ٹیکس دہندگان کی جانب سے اپنے ریٹرنس برائے جولائی کے ساتھ داخل کردہ ٹرانزیشنل کریڈٹ فرم TRAN-1 میں کاروباری اداروں نے دعویٰ کیا ہیکہ جی ایس ٹی سے قبل اکسائز، سرویس ٹیکس یا ویاٹ کیلئے 65,000 کروڑ روپئے کے کریڈٹ پر یکم ؍ جولائی سے عمل درآمد ہوا ہے۔ اس طرح کے بڑے دعوؤں کی روشنی میں سی بی ایس سی ممبئر مہندر سنگھ نے چیف کمشنرس کو مکتوب میں کہا کہ جی ایس ٹی قانون کے مطابق ٹرانزیشنل کریڈٹ کو آگے تک بڑھانے کی صرف اس وقت اجازت ہے جب اس طرح کا کریڈٹ قانون کے تحت قابل قبول ہو۔ سی بی ای سی نے زور دیا ہیکہ غلطی یا الجھن کے سبب غیرواجبی کریڈٹ کے تعلق سے دعویٰ کئے جانے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا چنانچہ یہ ارادہ ہیکہ زائد از ایک کروڑ روپئے والے اِن پُٹ ٹیکس کریڈٹ (آئی ٹی سی) کے دعوؤں کو وقت مقررہ میں جانچا جاسکتا ہے۔

سی بی ای سی نے چیف کمشنروں سے کہا ہیکہ اسے ان 162 کمپنیوں کے کئے گئے دعوؤں کے بارے میں 20 ستمبر تک رپورٹ بھیجیں۔ ان کمشنروں کو اس بات کی بھی جانچ کرنا ہیکہ آیا یہ کریڈٹ جی ایس ٹی قانون کے تحت واجبی ہے یا نہیں۔ گذشتہ ہفتہ تک 59.57 لاکھ ٹیکس دہندگان کے 70 فیصد حصہ نے جولائی کیلئے اپنے ریٹرنس داخل کردیئے تھے جو جی ایس ٹی سسٹم کے تحت 95,000 کروڑ روپئے کی اولین وصولیات ہوتی ہیں۔ تاہم اس میں آئی ٹی سی ڈیٹا برائے سنٹرل جی ایس ٹی نے TRAN-1 میں ظاہر کیا ہیکہ مختلف کاروباری اداروں نے 65,000 کروڑ روپئے کا بطور ٹرانزیشنل کریڈٹ دعویٰ پیش کیا ہے۔ حکومت اواخر اگست میں بزنس اداروں فارم TRAN-1 متعارف کرائی تھی جس کے ذریعہ ٹرانزیشن اسٹاک پر ادا کردہ ٹیکس کے ضمن میں کریڈٹ کیلئے دعویداری پیش کی کی جاسکتی ہے۔ تاجرین اور دیگر کاروباری افراد کو پاس اس طرح کا دعویٰ پیش کرنے کیلئے 90 یوم کا وقت دیا گیا۔ نیز تجارتی اداروں کو 31 اکٹوبر تک ایک مرتبہ اس فارم پر نظرثانی کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔ پی ڈبلیو سی انڈیا پارٹنر اور لیڈر (بالواسطہ ٹیکس) پرتیک جین نے کہا کہ 65,000 کروڑ روپئے کی رقم بہت اونچی معلوم ہوتی ہے بالخصوص اس حقیقت کے پیش نظر کے کئی بڑی کمپنیوں نے ابھی TRAN-1 داخل نہیں کیا ہے۔ ٹرانزیشن قواعد کے تحت تاجرین اور ریٹیلرس کو ٹیکس کی شرح 18 فیصد سے تجاوز کرنے پر سی جی ایس ٹی یا ایس جی ایس ٹی بقایا جات کے زمرہ میں قبل ازیں ادا شدہ ٹیکسوں کا 60 فیصد حصہ بطور کریڈٹ حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان معاملوں میں جہاں جی ایس ٹی شرح 18 فیصد سے کم ہے صرف 40 فیصد کریڈٹ دستیاب رہے گا۔

TOPPOPULARRECENT