Friday , February 23 2018
Home / ہندوستان / جی ایس ٹی کونسل میں کوئی خاتون نمائندگی نہیں ، عدالت کا اظہارافسوس

جی ایس ٹی کونسل میں کوئی خاتون نمائندگی نہیں ، عدالت کا اظہارافسوس

نئی دہلی ۔ 15 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے بندھیا، سندور اور کاجل کو جی ایس ٹی کے دائرہ کار سے باہر رکھا ہے لیکن اس نے سینٹری نیپکن کو اس طرح کا استثنیٰ کیوں نہیں دیا جبکہ یہ انتہائی ضروری تھا۔ دہلی ہائیکورٹ نے آج یہ ریمارک کیا۔ کارگذار چیف جسٹس گیتامتل اور جسٹس سی ہری شنکر پر مشتمل بنچ نے کہا کہ سینٹری نیپکن انتہائی اہم ضرورت ہیں اور ان پر ٹیکس عائد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی جبکہ حکومت نے دیگر کئی اشیاء کو ضروری زمرہ میں شامل کرتے ہوئے ٹیکس سے استثنیٰ دیا ہے۔ بنچ نے اس بات پر بھی ناراضگی ظاہر کی کہ 31 رکنی گڈس اینڈ سرویسیس ٹیکس (جی ایس ٹی) کونسل میں ایک بھی خاتون نہیں ہے۔ بنچ نے حکومت سے جاننا چاہا کہ وزارت بہبودی خواتین و اطفال سے اس معاملہ میں کیا کوئی مذاکرات کئے گئے یا پھر امپورٹ اور اکسپورٹ ڈیوٹی کو ہی ملحوظ رکھا گیا۔ عدالت نے اس معاملہ کی آئندہ سماعت 14 ڈسمبر کو مقرر کی ہے۔ عدالت زرینہ اسرار خان کی دائر کردہ درخواست کی سماعت کررہی تھی جو جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں افریقن اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ انہوں نے سینٹری نیپکن پر 12 فیصد جی ایس ٹی کو چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے حکومت کے اس اقدام کو غیرقانونی اور غیردستوری قرار دینے کی خواہش کی۔ مرکزی حکومت کے وکیل سنجے نرولا نے بتایا کہ اگر سینٹری نیپکن کو ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے تو اس کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT