Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / جی ایس ٹی کو نقائص سے پاک بنانے کی کوشش ، انکم ٹیکس امور میں تبدیلی کا امکان

جی ایس ٹی کو نقائص سے پاک بنانے کی کوشش ، انکم ٹیکس امور میں تبدیلی کا امکان

حکومت کے اقدامات ناتجربہ کاری پر محمول ، حد سے زیادہ آمدنی رکھنے والے ٹیکس ادائیگی سے محفوظ
حیدرآباد۔10اکٹوبر(سیاست نیوز) حکومت ہند نے سیلس ٹیکس‘ کمرشیل ٹیکس اور ویاٹ کو یکجا کرتے ہوئے جی ایس ٹی کے نفاذ کے فیصلہ کے بعد پیدا شدہ صورتحال سے باہر نکلنے کی راہیں تلاش کرتے ہوئے اب انکم ٹیکس کے امور میں بھی تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا ہے اور باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق انکم ٹیکس کے دائرہ میں آنے کے باوجود خود کو انکم ٹیکس سے دور رکھنے والوں کو انکم ٹیکس کے دائرہ میں لانے کیلئے حکومت نے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ سال کے اوائل تک اس مسودہ کو ماہرین کے حوالے کرتے ہوئے ان کی رائے حاصل کی جائے گی اور اس کے فوری بعد ملک میں نئے انکم ٹیکس قوانین کے نفاذ کے سلسلہ میں اقدامات کئے جائیں گے۔ نریندر مودی حکومت کی جانب سے جولائی میں جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس سے نمٹنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ جی ایس ٹی کو نقائص سے پاک بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس سلسلہ میں ترامیم کا سلسلہ جاری ہے ۔ جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد ملک کی معاشی صورتحال اور شرح ترقی و پیداوار میں گراوٹ ریکارڈ کی جارہی ہے لیکن اس کے باوجود بعض معاشی ماہرین حکومت کے فیصلہ کی مدافعت کر رہے ہیں اور بعض گوشوں کی جانب سے حکومت کے اقدامات کو ناتجربہ کاری پر محمول کیا جارہا ہے ۔ کرنسی تنسیخ اور جی ایس ٹی کے بعد اب حکومت کی جانب سے انکم ٹیکس قواعد میں تبدیلی کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ انکم ٹیکس کے ادخال کے طریقہ کا ر کو آسان بنانے کے علاوہ عوام کی بڑی تعداد انکم ٹیکس کی حد سے تجاوز کرنے والی آمدنی رکھتے ہوئے بھی انکم ٹیکس دائرہ میں نہیں ہے ان کو اس دائرہ میں شامل کرنے کے لئے حکمت عملی تیار کی جانے لگی ہے ۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کی کئی ریاستوں میں انکم ٹیکس کی حد سے زیادہ آمدنی رکھنے والے موجود ہیں لیکن ان میں شعور نہ ہونے کے علاوہ انکم ٹیکس کی ادائیگی میں ہونے والی دشواریوں کے سبب وہ ٹیکس کے دائرہ میں شامل ہونے سے خائف ہیں ۔ ان لوگوںکو ٹیکس کے دائرہ میں شامل کرنے کے لیئے حکومت کی جانب سے انکم ٹیکس ریٹرنس کے ادخال کے طریقہ میں آسانی پیدا کرنے کے علاوہ شخصی طور پر ریٹرنس کے ادخال کو فروغ دینے کا منصوبہ بھی تیار کرسکتی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندستان میں ٹیکس ادا کرنے کے باوجود اس کے راست فوائد ٹیکس دہندہ کو حاصل نہ ہونے کے سبب بھی لوگ ٹیکس ادا کرنے میں دلچسپی نہیں دکھاتے لیکن ذرائع کا کہناہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری منصوبہ بندی کے مطابق دیگر مغربی ممالک کی طرح حکومت ہند بھی ٹیکس دہندہ کو سماجی تحفظ کی فراہمی کا منصوبہ بھی اس نئے قانون میں پیش کرسکتی ہے کیونکہ حکومت ٹیکس ادا کرنے والوں کے دائرہ کو وسیع کرنے کے سلسلہ میں متعدد اقدامات کر رہی ہے اور ملک کی ٹیکس کے ذریعہ ہونے والی آمدنی کے ذرائع کو مزید بہتر بنانے کے علاوہ اسے مستحکم کرتے ہوئے سہولتوں کی فراہمی کا منصوبہ پیش کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT