Monday , November 20 2017
Home / مضامین / جی ایس ٹی کیا واقعی اچھا اور کارکرد ٹیکس ڈھانچہ ہے ؟

جی ایس ٹی کیا واقعی اچھا اور کارکرد ٹیکس ڈھانچہ ہے ؟

پروسین جیت دتا
جی ایس ٹی پر اب عمل آوری کا وقت قریب آتا جا رہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے جی ایس ٹی کو آزادی کے بعد سے اب تک کے سب سے بڑے ٹیکس اصلاحات کا نام دیا جا رہا ہے ۔ اس کے ناقدین ( جن کی تعداد قدرے کم ہے ) اسے ایک اچھا آئیڈیا تو مانتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ اسے ناقابل شناخت حد تک بگاڑ دیا گیا ہے ۔ گڈس اینڈ سروسیس ٹیکس ( جی ایس ٹی ) کے تعلق سے ان دونوں گروپس کے جوابات بھی مل رہے ہیں۔ 19 مئی کو جی ایس ٹی کے تحت تمام اشیا اور خدمات کیلئے ٹیکس کی شرحوں کا تعین کرلیا گیا ہے ۔ اب اس پر مختلف گوشوں کے خیالات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ جی ایس ٹی ٹیکس ڈھانچہ کو سادہ لیکن پر اثر بنانے کی سمت ایک بہت بڑا قدم ہے ۔ جی ایس ٹی کے ذریعہ ٹیکس نظام کو منظم کر نے کی سمت پیشرفت ہو رہی ہے ۔ اس کے ذریعہ کسی بھی شئے یا خدمت کیئلے ایک واحد ٹیکس شرح کا تعین کیا جاتا ہے ۔ اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ یہ شئے یا ٹیکس کس ریاست سے نکلتی ہے یا اس کا استعمال کس ریاست میں ہوتا ہے ۔ سبھی مقامات پر اس کیلئے ٹیکس کی شرح کو یکساں رکھا گیا ہے ۔ لیکن ہم نے ابھی اس کو پوری طرح سے پرکھا نہیں ہے ۔ جن دوسرے ممالک میں جی ایس ٹی پر عمل آوری کا آغاز کیا گیا ہے وہاں بھی ایک واحد ٹیکس شرح کو اختیار کیا گیا ہے یا پھر کچھ کچھ ممالک میں دو شرحیں تیار کی گئی ہیں۔ یہاں ہندوستان میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے پانچ بنیادی شرحوں پر اتفاق کیا ہے ۔ انہوں نے 5 فیصد ‘ 12 فیصد ‘18  فیصد اور 28 فیصد کی شرحوں سے اتفاق کیا ہے ۔ اس کے علاوہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے ان اشیا کی بھی ایک فہرست تیار کرلی گئی ہے جن پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا جائیگا ۔ بعض امور میں سرچارچ کا بھی تعین کیا گیا ہے جو تین فیصد سے 290 فیصد تک ہوسکتا ہے ۔ جہاں تک خدمات یا سروسیس کا تعلق ہے ان کو بھی پوری احتیاط سے کام لیتے ہوئے چار زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر زمرہ میں علیحدہ ٹیکس شرح کا اطلاق ہوگا۔
جی ایس ٹی کی جو شرحیں مختلف اور الگ الگ اشیا کیلئے ہیں ان کا تفصیلی طور پر جائزہ لینے کے بعد حکومت کی ترجیحات کے تعلق سے بھی کچھ سنجیدہ سوال پیدا ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر کوئلہ پر 5 فیصد ٹیکس عائد کیا جائیگا ۔ اس پر سابق میں 11.7 فیصد ٹیکس عائد کیا جاتا رہا ہے ۔ اسی طرح شمسی ماڈیولس پر اب نئے جی ایس ٹی نظام کے تحت 18 فیصد ٹیکس عائد کیا جائیگا جبکہ ماضی میں اس پر جو ٹیکس عائد کیا جاتا تھا اس کا تناسب تقریبا صفر فیصد ہی قرار دیا جاسکتا تھا ۔ اسی طرح ہائبریڈ کاروں پر بھی اسی شرح سے ٹیکس عائد کیا جائیگا جو ٹیکس کی شرحیں پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی کاروں پر عائد کی جا رہی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ بڑی ہائبریڈ کاروں پر 43 فیصد تک ٹیکس عائد کیا جاسکتا ہے ۔ اس میں 28 فیصد جی ایس ٹی ہے اور مزید 15 فیصد سرچارچ ہے ۔ حکومت حالانکہ اپنے طور پر آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات کرنے اور صاف اور قابل تجدید توانائی کو فروغ دینے کی کوششیں کرنے کا دعوی کرتی ہے لیکن جو ٹیکس شرحیں ہائبریڈ کاروں پر عائد کی جا رہی ہیں ان سے اس کے دعووں کی کوئی توثیق نہیں ہوتی ۔
بیوروکریٹس یا ان عہدیداروں نے جنہیں اس قانون کو قابل عمل بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی انہوں نے اپنے طور پر بہت کچھ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن بعض ایسے فیصلے بھی کئے گئے ہیں جنہیں سمجھنے پر ہنسی آنے لگتی ہے ۔ مثال کے طور پر تمام گھوڑے جو زندہ ہیں ان پر 12 فیصد ٹیکس عائد کیا جائیگا جبکہ دوسرے زندہ جانوروں جیسے گدھوں ‘ خچر ‘ بھیڑ ‘ بکری ‘ پرندوں اور دوسرے جانوروں پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوگا ۔ ان تمام جانوروں کے گوشت پر بھی اس وقت تک کوئی ٹیکس عائد نیہں ہوگا جب تک یہ گوشت تازہ ہو لیکن جسے ہی اس گوشت کو منجمد کرکے یونٹ کنٹینر میں پیک کردیا جائیگا اس پر 12 فیصد ٹیکس عائد ہوجائیگا ۔ اس طرح کے اقدامات فی الحال قابل فہم نہیں کہے جاسکتے ۔
فی الحال حکومت کی جانب سے جو زمرہ بندی کی گئی ہے اس کے مطابق غذائی اجناس ‘ تازہ ترکاریوں ‘ تازہ دودھ ‘ اخبارات ‘ اور سماعتی آلات وغیرہ پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوگا ۔ اس کے بعد چائے اور کافی ‘ شکر ‘ بچوں کی دودھ والی غذآئیں ‘ ادویات ‘ کوئلہ ‘ گھریلو استعمال کیلئے پکوان گیس ‘ قابل تجدید آلات وغیرہ پر پانچ فیصد ٹیکس عائد کیا جائیگا ۔ تیسرے زمرہ میں بٹر ‘  فروٹ جوس ‘ کھادوں ‘ کینڈلس ‘ چمڑے کی اشیا ‘ ٹریکٹرس ‘ برقی سے چلنے والی گاڑیوں اور سائیکلوں کو رکھا گیا ہے ۔ ان اشیا پر 12 فیصد ٹیکس عائد ہوگا ۔ اس کے علاوہ ٹوتھ پیسٹ ‘ ریفائنڈ شکر ‘ کارن فلیکس ‘ آئسکریم ‘ پٹرولیم جیلی ‘ کیمیاوی و صنعتی اشیا وغیرہ کو چوتھے زمرہ میں رکھا گیا ہے جن پر 18 فیصد ٹیکس عائد کیا جائیگا ۔ 28 فیصد کی شرح سے جن اشیا پر ٹیکس عائد کیا جائیگا ان میں ائر کنڈیشنس ‘ ریفریجریٹرس ‘ بیوٹی پارلر کی اشیا ‘ فیکس مشین اور دوسری اشیا کو شامل رکھا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT