Thursday , December 13 2018

جی ایس ٹی کی شرحیں تبدیل کرنے کے سوا چارہ نہیں

مودی حکومت دہشت زدہ ، جیٹلی کی شرحوں کی تبدیلی کیلئے آسام سے مشاورت ،سابق مرکزی وزیر فینانس پی چدمبرم کا بیان
نئی دہلی ۔ 10 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس کے سینئر قائد سابق مرکزی وزیر فینانس پی چدمبرم نے آج کہاکہ جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس میں جو گوہاٹی میں منعقد کیا جارہا ہے ’’تبدیلیوں کی برسات ‘‘ متوقع ہے ۔ مرکز کی نریندر مودی حکومت دہشت زدہ ہے اور اس کے پاس نئے ٹیکس کی شرحوں میں تبدیلی کئے بغیر کوئی چارہ نہیں ۔ اعلیٰ اختیاری کمیٹی جس کے صدر مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی ہیں شہر آسام میں جی ایس ٹی کی شرحوں میں تبدیلی پر تبادلۂ خیال کررہے ہیں ۔ چدمبرم نے کہاکہ حکومت کو اپوزیشن اور ماہرین کے مشورے کی ضرورت ہوگی جس کی وجہ آئندہ ماہ مقرر گجرات اسمبلی انتخابات ہیں ۔ آج جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس میں جی ایس ٹی کی شرحوں میں تبدیلی کی برسات متوقع ہے ۔ دہشت زدہ حکومت کے پاس تبدیلی کے مطالبات تسلیم کرنے کے سواء کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس کا سہرا گجرات انتخابات کے سر ہے ، جس کی وجہ سے حکومت ماہرین اور اپوزیشن سے جی ایس ٹی کے نفاذ میں کوتاہیوں کے بارے میں مشورہ کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ انھوں نے اپنے ٹوئٹر پر تحریر کیا کہ کانگریس زیراقتدار ریاستوں کے وزرائے فینانس نے جیٹلی کو مکتوبات روانہ کئے ہیں، جن سے آج جی ایس ٹی کونسل میں بات چیت کا لب و لہجہ مقرر ہوگا ۔ کانگریس وزرائے فینانس کے مکتوب میں جی ایس ٹی کی ساخت اور اس کے نفاذ میں ڈھانچہ کی کوتاہیوں کو بے نقاب کیا گیا ہے ۔ حکومت مسائل سے مزید صرفِ نظر نہیں کرسکتی ۔

سینئر کانگریس قائد نے کہا کہ حکومت نے مباحث سے اور رائے دہی سے راجیہ سبھا میں گریز کیا ہے جو جی ایس ٹی مسودات قانون پر ہونے والی تھی لیکن وہ عوام کے سامنے مباحث سے یا جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس میں مباحث سے گریز نہیں کرسکتی ۔ کانگریس وزرائے فینانس جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس میں آج تبدیلیوں پر مجبور کردیں گے ۔ آگرہ، سورت ، تریپورہ اور دیگر مرکزی قصبے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کانگریس زیراقتدار ریاستوں کے وزرائے فینانس نے گزشتہ ہفتہ مطالبات کیا تھا کہ اشیاء اور خدمات ٹیکس ( جی ایس ٹی ) میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جائیں اور الزام عائد کیا تھاکہ ٹیکس اصلاحات اقدامات ’’بڑی مایوسی ‘‘ میں تبدیل ہوگئے ہیںجس کی وجہ اس پر ’’ناقص عمل آوری ‘‘ ہے ۔ کانگریس زیراقتدار پنجاب اور کرناٹک کے وزرائے فینانس علی الترتیب من پریت بادل اور کشور دوڑا نے مبینہ طورپر الزام عائد کیا ہے کہ ملک میں ٹیکس اصلاحات کے نفاذ کا ’’موقع ضائع کردیا، ہر طرف انتشار اور اُلجھن کا عالم ہے ‘‘ ۔ جس کی وجہ سے کئی کاروبار بند ہوچکے ہیں ۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ جی ایس ٹی کے نظریہ کے سلسلے میں ناقص عمل آوری کی گئی ہے ۔ اس کا نظریہ ، ساخت ، ٹیکس کی شرحیں ، استثنیٰ ، ضروری تعمیل اور تکنیکی تیاریاں ناقص ہیں۔ کانگریس وزرائے فینانس نے کہاکہ پارٹی ٹیکس کی شرحوں میں کئی اشیاء کے لئے کمی کا مطالبہ کرے گی اور تاجر برادری کے کئی اندیشے گوہاٹی میں جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس میں پیش کرے گی جن کا ازالہ ضروری ہے ۔ کانگریس دور حکومت کے سابق مرکزی وزیر فینانس پی چدمبرم جی ایس ٹی پر طویل عرصہ سے تنقیدیں کرتے آرہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT