Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / جی ایس ٹی کی وجہ سے ریاستی حکومت کی آمدنی میں ماہانہ 300 کروڑ کی کمی

جی ایس ٹی کی وجہ سے ریاستی حکومت کی آمدنی میں ماہانہ 300 کروڑ کی کمی

مرکزی حکومت کا رویہ مایوس کن ، عوامی اسکیمات پر عمل آوری میں رکاوٹ
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : تلگو زبان میں ایک مشہور مثال ہے ’ اڈگندی کینڈنتا اچچندی گورانتا ‘ یا اس کو اردو محاورہ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ’کھودا پہاڑ نکلا چوہا ‘ ۔ یہ مثال مرکزی حکومت کے رویہ کو روز روشن کی طرح عیاں کرتی ہے ۔ دراصل بات یہ ہے کہ جی ایس ٹی کے تحت ریاستی حکومت کو مرکزی حکومت کی جانب سے جو معاوضہ ادا کیا گیا ہے وہ حکومت اور انتظامیہ کو مایوس کردیا ہے ۔ ماہ جولائی سے جی ایس ٹی پر عمل آوری کی وجہ سے ریاستی حکومت کی ماہانہ آمدنی میں 200 ۔ 300 کروڑ کی کمی واقع ہوئی ہے ۔ حفظ ماتقدم کے طور پر ریاستی حکومت نے 2000 کروڑ روپئے ادا کرنے کے لیے مرکزی حکومت سے ستمبر کے پہلے ہفتہ میں درخواست دی تھی ۔ جی ایس ٹی سے آمدنی میں ہونے والی کمی کو دور کرنے اور اہم سرکاری عوامی اسکیمات میں عدم رکاوٹ کے لیے قبل از وقت معاوضہ کی ادائیگی مرکزی وزارت فینانس سے درخواست کی گئی تھی ۔ مگر مرکزی حکومت نے اس درخواست کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف 7 کروڑ روپئے ہی جاری کئے ہیں ۔ اس معاوضہ کو دیکھ کر ریاستی حکومت اور انتظامیہ مایوس ہوچکے ہیں ۔ درحقیقت ماہ جولائی سے جی ایس ٹی پر عمل اوری کی وجہ سے ریاستی خزانہ میں بڑی کمی آئی ہے ۔ پٹرول اور شراب سے ہٹ کر ماہ جولائی سے قبل ویاٹ کے ذریعہ سرکاری خزانہ کو 2,126.48 کروڑ کا فائدہ ہوا تھا اور جی ایس ٹی پر عمل آوری کے بعد ماہ اگست تک آئی جی ایس ٹی ملا کر صرف 1,413 کروڑ روپئے ہی ریاستی خزانہ میں آئے ہیں اور ماہ ستمبر میں 1596 کروڑ تک پہونچے ہیں اور صرف دو ماہ کے عرصہ میں تقریبا 1000 کروڑ کا عظیم نقصان ریاستی خزانے کو پہونچا ہے ۔ واضح ہو کہ مرکزی حکومت نے جی ایس ٹی معاوضہ پہلے ماہ کے لیے صرف اور صرف 7 کروڑ روپئے ہی جاری کئے ہیں ۔۔
جی ایس ٹی سے قبل تقریبا ً8 ہزار کروڑ
ریاستی حکومت جاریہ مالی سال میں 36 ہزار کروڑ روپئے وصول کرنے کا نشانہ مقرر کیا تھا ۔ مقررہ نشانہ سے کم از کم 20 فیصد اضافہ کا حکومت نے اندازہ لگایا تھا اور اس اندازے کے مطابق ماہ اپریل ، مئی اور جون میں پٹرول اور شراب کی آمدنی سے ہٹ کر 7751 کروڑ کی آمدنی ہوئی ۔ یعنی ماہانہ تقریبا 2500 کروڑ کی آمدنی ہوئی ۔ مگر جی ایس ٹی عمل میں آنے کے بعد ماہ جولائی اور اگست میں 2729 کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے ۔ عہدیداران کے مطابق ریاستی جی ایس ٹی کے تحت 1642 کروڑ اور مرکزی جی ایس ٹی کے تحت 1087 کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے ۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ’ نصف آمدنی ‘ کم ہوئی ہے ۔ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے مطابق پٹرولیم اشیاء سے ہونے والی آمدنی 4331 کروڑ روپئے ہے ۔ حالیہ دنوں پٹرول پر 2 روپئے فی لیٹر قیمتوں میں کمی ہونے کی وجہ سے ویاٹ میں بھی کمی کی گئی ۔ جس کی وجہ سے پٹرولیم اشیاء سے ہونے والی آمدنی میں بھی کمی واقع ہوئی ہے ۔ اور شراب کی فروخت سے ہونے والی آمدنی تاحال 3472 کروڑ روپئے ہے منجملہ یہ دونوں اشیاء جو جی ایس ٹی کے تحت نہیں آتے ہیں ان سے ریاستی حکومت کے خزانے میں 7803 کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے ۔ جی ایس ٹی کے ذریعہ ( اے جی ایس ٹی ، آئی جی ایس ٹی ) ملا کر ریاستی خزانہ کو 2729 کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے ۔ تاحال صرف اندازے لگانے والے انکم ٹیکس افسرس نے ان حسابات کو واضح کیا ہے ۔ جاریہ مالی سال میں ماہ مارچ تا حال کس اکاونٹ کے تحت کتنی آمدنی ہوئی ہے اور جی ایس ٹی پر عمل آوری کے بعد ماہ جولائی اور اگست میں ہونے والی آمدنی کا حساب لگایا گیا اور ان حسابات کا بغور جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ سال گزشتہ کے مقابلہ امسال 18.13% کا اضافہ ہوا ہے مگر جی ایس ٹی پر عمل آوری کے بعد مکمل ’ نصف کمی ‘ واقع ہوئی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT