Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / جی ایس ٹی کے نفاذ سے بلدیہ پر بھاری بوجھ کو کم کرنے منصوبہ بندی

جی ایس ٹی کے نفاذ سے بلدیہ پر بھاری بوجھ کو کم کرنے منصوبہ بندی

عوام کو جائیداد محصولات کی ادائیگی کے لیے ترغیب دینے کا فیصلہ ، گتہ دار تشویش کا شکار
حیدرآباد۔3جولائی(سیاست نیوز) جی ایس ٹی کا نفاذ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد پر بھاری مالی بوجھ کا سبب بنے گا اور اس مالی بوجھ سے نمٹنے کیلئے بلدیہ کی آمدنی میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ جی ایچ ایم سی کی آمدنی میں اضافہ کیلئے بلدی عہدیداروں کی جانب سے ابھی سے منصوبہ بندی کرنی شروع کر دی گئی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ آمدنی میں اضافہ کیلئے فوری طور پر محصولات میں اضافہ کے متعلق غور نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ جو جائیدادیں محصولات کے دائرہ میں نہیں ہیں انہیں محصولات کی بروقت ادائیگی کے لئے راضی کروایا جائے اور تمام تجارتی اداروں پر ٹریڈ لائسنس کا لزوم جو عائد ہے اس پر مؤثر عمل آوری کی جائے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد شہری ترقیات کے سلسلہ میں دو بڑے پراجکٹس جاری رکھے ہوئے ہیں جس میں ایس آر ڈی پی اور حکومت کی جانب سے بے گھر افراد کو مکانات کی فراہمی شامل ہے۔ تعمیری اشیاء پر جی ایس ٹی عائد کئے جانے کے بعد تعمیری اشیاء مہنگے ہونے کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے عہدیداروں نے بتایا کہ اس کے منفی اثرات جی ایچ ایم سی کے ترقیاتی کاموں پر مرتب ہوں گے۔ شہر کی سڑکوں کی منصوبہ بند ترقی کے متعلق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد ‘ ٹریفک پولیس اور متعلقہ محکمہ جات کی جانب سے تیار کردہ منصوبہ SRDPکے تحت شہر میں فلائی اوورس کی تعمیر کے علاوہ سڑکوں کی توسیع کا عمل شروع کیا جانے والا ہے اسی طرح مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں ریاستی حکومت نے ایک لاکھ ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کو منظوری فراہم کی ہے اور ان مکانات کی تعمیر کا جو تخمینہ لگایا گیا ہے اس میں جی ایس ٹی شامل نہیں ہے لیکن اب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس میں جی ایس ٹی کا نفاذ لازمی ہوگا ۔ بلدی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شہری حدود میں حکومت کی اس اسکیم کے لئے کنٹراکٹرس نے ابتداء میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا تھا لیکن اس کے باوجود مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے انہیں راغب کرتے ہوئے بولی میں شامل ہونے اور ٹنڈر حاصل کرنے کیلئے راضی کروایا گیا لیکن اب جی ایس ٹی کے بعد کنٹراکٹ حاصل کرنے والے گتہ دار خود اس پس و پیش میں ہیں کہ وہ کس طرح سے تعمیری سرگرمیوں کو جاری رکھیں کیونکہ ان حالات میں وہ جی ایس ٹی کے بغیر تعمیری اشیاء کے حصول سے قاصر ہیں اور ٹنڈر کی قیمت میں تبدیلی ان کیلئے ناگزیر ہوجائے گی ایسی صور ت میں بلدیہ کی جانب سے کیا فیصلہ کیا جانا چاہئے اس سلسلہ میں حکومت سے مشاورت کے بعد ہی کوئی قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ اسی طرح ایس آر ڈی پی کے سلسلہ میں بھی جی ایچ ایم سی کے اعلی عہدیدار محکمہ بلدی نظم و نسق کے عہدیداروں اور حکومت سے مشاورت پر غور کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ شہر کے ترقیاتی امور کی انجام دہی میں معاون ادارہ جات جیسے حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ‘ قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی و دیگر سے بھی جی ایس ٹی کے شہری ترقیاتی عمل پر اثرات کے متعلق جائزہ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT