Sunday , December 17 2017
Home / مضامین / جی ایچ ایم سی انتخابات، ٹی آر ایس کیلئے بڑا چیلنج

جی ایچ ایم سی انتخابات، ٹی آر ایس کیلئے بڑا چیلنج

کانگریس میں اختلافات، بی جے پی۔ تلگودیشم اتحاد کمزور

محمد نعیم وجاہت
تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے لئے سیاسی ماحول مکمل سازگار ہے۔ گریٹر حیدرآباد پر قبضہ جمانے کے لئے چیف منسٹر تلنگانہ نے نئے سال کے تحفہ کا اعلان کرتے ہوئے عملاً جی ایچ ایم سی انتخابات کا بگل بجاکر بے روزگار نوجوان، کنٹراکٹ اور آؤٹ سورسنگ پر خدمات انجام دینے والے ملازمین، حیدرآباد میں امکنہ ٹیکس ادا کرنے والے پانچ لاکھ عوام، برقی اور آبرسانی کے بقایہ جات معاف کرتے ہوئے 6 لاکھ غریب عوام کو بہت بڑی راحت فراہم کی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں 2015ء کے آخری دن ٹی آر ایس کے ایک سالہ دور کو مایوس کن قرار دینے کی کوشش کر رہی تھیں، جب کہ چیف منسٹر وزراء اور اعلی عہدہ داروں کا اجلاس طلب کرکے سال 2016ء کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی ہتھکنڈوں کے خلاف حکمت عملی تیار کر رہے تھے۔
سیاست سے بالاتر ہوکر غور کریں تو سال 2015ء ٹی آر ایس حکومت کے لئے وعدوں کا سال رہا، تاہم 2016ء وعدوں پر عمل آوری کا سال ہوسکتا ہے۔ گزرا ہوا سال تلنگانہ عوام کی توقعات پر کھرا نہیں اترا، گزشتہ ڈیڑھ سال میں ریاست کی ترقی امیدوں سے کم ہوئی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے زیادہ اقدامات بھی نہیں ہوئے، یہاں تک کہ زیر التواء آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر بھی نہیں ہوئی۔ کئی پراجکٹس کے ڈیزائن میں تبدیلی لائی جا رہی ہے، خشک سالی سے سیکڑوں کسان خودکشی کرچکے ہیں، حکومت کی جانب سے 200 سے زائد منڈلوں کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا گیا ہے، جب کہ گزشتہ سال معمرین، معذورین اور بیواؤں کے وظائف میں اضافہ کیا گیا تھا۔
2014ء کے عام انتخابات کے بعد حیدرآباد، رنگاریڈی، محبوب نگر گریجویٹ کونسل انتخابات کے علاوہ تمام اہم انتخابات میں حکمراں ٹی آر ایس نے کامیابی حاصل کرکے اپنی سیاسی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ میدک لوک سبھا ضمنی انتخاب میں تین لاکھ سے زائد ووٹوں اور ورنگل لوک سبھا کے ضمنی انتخاب میں پانچ لاکھ سے زائد ووٹوں کی اکثریت سے ٹی آر ایس امیدواروں نے کامیابی حاصل کی، جب کہ دیگر امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہو گئیں۔ اسی طرح مقامی اداروں کی 12کونسل نشستوں کے انتخابات میں ٹی آر ایس نے دس پر قبضہ جمایا، جن میں چھ نشستوں پر اس کے امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے اور چار نشستوں پر مقابلہ کرکے کامیابی حاصل کی۔

مقامی اداروں کی کونسل نشستوں پر کامیابی کے بعد ٹی آر ایس کیڈر کے حوصلے بلند ہیں اور اب حکمرات جماعت اپنی ساری توجہ جی ایچ ایم سی انتخابات پر مرکوز کی ہوئی ہے۔ چیف منسٹر کے فرزند ریاستی وزیر پنچایت راج و آئی ٹی کے ٹی آر گریٹر حیدرآباد میں پارٹی کو کامیاب بنانے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر ترقیاتی و تعمیراتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھ کر پارٹی کیڈر میں مزید جوش و خروش پیدا کر رہے ہیں اور حیدرآباد میں ٹی آر ایس کو سب سے بڑی پارٹی بنانے کے منصوبہ پر عمل پیرا ہیں۔ حکمراں جماعت کی سیاسی سرگرمیوں سے متاثر ہوکر بیشتر سابق کارپوریٹرس ٹی آر ایس میں شامل ہوچکے ہیں، جب کہ کئی سابق کارپوریٹرس اور قائدین پارٹی سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں۔ حیدرآباد میں سب سے زیادہ تلگودیشم کے ارکان اسمبلی ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ٹی آر ایس کا موقف مزید طاقتور ہو گیا۔ انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے بعد بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کی ٹی آر ایس میں شمولیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
حکمراں ٹی آر ایس گریٹر حیدرآباد پر قبضہ جمانے کی حکمت عملی کے تحت عوام کو اپنی جانب متوجہ کر رہی ہے۔ اس ضمن میں 15 تا 20 ہزار ٹیچرس اور پولیس کانسٹبلس کی 9200 جائدادوں پر تقررات کا فیصلہ کیا گیا، انتخابی وعدوں کے تحت کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو مستقل بنانے اور آؤٹ سورسنگ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح اسسٹنٹ سیول سرجنس کی 103 جائدادوں پر تقررات اور اقلیتوں کی سبسیڈی کی شرح 50 سے بڑھاکر 80 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ غریب عوام کے برقی اور پانی بلز کے بقایہ جات معاف کرنے کے علاوہ جائداد ٹیکس کو 1200 سے گھٹاکر 101 روپئے کرنے اور 29.11 کروڑ روپئے کے بقایہ جات معاف کرنے کا اعلان کیا گیا، جس سے راست اور بالواسطہ تقریباً پانچ لاکھ خاندانوں کو راحت ملے گی۔ ٹی آر ایس حکومت کے ان اقدامات کا عوام میں یقیناً مثبت پیغام پہنچے گا، جب کہ مزید اقدامات پر ابھی غور کیا جا رہا ہے۔

چیف منسٹر تلنگانہ عوام کی نبض کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور جب لوہا گرم ہوتا ہے تو اس پر چوٹ لگاتے ہیں۔ اب تک وہ سیاسی بساط پر شطرنج کی چال چلنے میں کامیاب رہے ہیں، تاہم جی ایچ ایم سی انتخابات ان کے لئے بہت بڑا چیلنج ہیں، جس کو قبول کرتے ہوئے حکمراں ٹی آر ایس جی ایچ ایم سی کے حدود میں بڑے بڑے ہورڈنگس کے ذریعہ حکومت کی فلاحی و تعمیری اسکیمات کی تشہیر کر رہی ہے۔ ٹی آر ایس کے خلاف کانگریس، تلگودیشم اور بی جے پی اب تک اپنی حکمت عملی تیار نہیں کرسکیں، جب کہ پرانے شہر میں ٹی آر ایس اور کانگریس، مجلس کا متبادل بننے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کانگریس نے اس مرتبہ مجلس سے اتحاد کئے بغیر تنہا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مجلس اور ٹی آر ایس میں قربت پیدا ہوئی ہے، بظاہر دونوں جماعتیں تنہا مقابلہ کرنے کا اعلان کر رہی ہیں، مگر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں میں مفاہمت ہوچکی ہے۔

گریٹر حیدرآباد میں سیٹلرس کی اکثریت کے پیش نظر 2014ء کے عام انتخابات کی طرح جی ایچ ایم سی انتخابات میں بھی تلگودیشم اور بی جے پی کے مابین سیاسی اتحاد ہوگا، مگر ڈیڑھ سال کے دوران یہ اتحاد کمزور ہوچکا ہے۔ دونوں جماعتوں کے قائدین میں تال میل کا فقدان ہے، جب کہ تلگودیشم کے بیشتر ارکان اسمبلی ٹی آر ایس میں شامل ہوچکے ہیں۔ کانگریس پارٹی بھی جی ایچ ایم سی انتخابات میں اپنے وجود کو منوانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے، کیونکہ گریٹر حیدرآباد کے 24 اسمبلی اور تمام پارلیمانی حلقہ جات میں کانگریس کو شکست ہوئی تھی، تاہم کونسل انتخابات کی دو نشستوں پر کامیابی کے بعد کانگریس کیڈر کا جوش و خروش کچھ بڑھا ہے، اس کے باوجود جی ایچ ایم سی انتخابات کانگریس کے لئے بھی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے بیشتر سابق کارپوریٹرس ٹی آر ایس میں شامل ہو چکے ہیں، جب کہ کانگریس قائدین کی گروپ بندی سرپر تلوار بن کر لٹک رہی ہے۔ 28 دسمبر کو پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر سرحد کا تنازعہ ڈی ناگیندر اور جی ملیش کے حامیوں کے درمیان جھگڑے کا سبب بن گیا۔ لمحۂ آخر میں ٹی آر ایس میں شمولیت سے دست برداری اختیار کرنے والے صدر گریٹر حیدرآباد سٹی کانگریس ڈی ناگیندر حیدرآباد میں اپنا سیاسی سکہ چلانے پر مصر ہیں، جب کہ صدر ضلع رنگا ریڈی کانگریس جی ملیش اور ضلع کے دیگر قائدین رنگا ریڈی میں ڈی ناگیندر کی مداخلت کو برداشت نہیں کر رہے ہیں۔ اب یہ تنازعہ پارٹی کے لئے بہت بڑا درد سر بن گیا ہے۔
حال ہی میں کانگریس کی گروپ بندی کے نقصان کا یہ ثبوت ملا ہے کہ مقامی اداروں کے کونسل انتخابات میں پارٹی کے تین امیدواروں نے لمحۂ آخر میں ٹی آر ایس امیدواروں کے حق میں دست برداری اختیار کرکے ٹی آر ایس میں شامل ہو گئے، جب کہ ضلع نلگنڈہ اور محبوب نگر کے کانگریس قائدین نے اپنے اختلافات کو فراموش کرکے پارٹی کے لئے کام کیا، جس کی وجہ سے کانگریس کو دو نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کے برعکس ضلع رنگاریڈی میں کانگریس قائدین کے درمیان اتحاد نہ ہونے اور انتخابی تقاضوں کو پورا نہ کرنے کے سبب پارٹی امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مذکورہ بالا اختلافات کے پیش نظر کانگریس نے 3 جنوری کو گاندھی بھون میں گریٹر حیدرآباد سٹی کانگریس قائدین کا ایک اجلاس طلب کیا ہے اور مسلسل تین دن تک تبادلۂ خیال کے بعد 7 جنوری سے گھر گھر مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امیدواروں کا انتخاب بھی کانگریس کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ کانگریس کا کوئی بھی قائد انفرادی طورپر ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، صرف ایک دوسرے کا منہ تک رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT