Wednesday , November 22 2017
Home / مضامین / جی ایچ ایم سی انتخابات اور ہماری ذمہ داری

جی ایچ ایم سی انتخابات اور ہماری ذمہ داری

سید محمد افتخار مشرف
دستور کے آرٹیکل 324 کے تحت الیکشن کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا اور اسے 26 نومبر 1949 ء سے موثر بنایا گیا ۔ ہر بالغ شہری جس کی عمر 18 سال کو پہنچ چکی ہو وہ ہندوستانی انتخابات چاہے وہ پارلیمنٹ ہو ، ریاستی قانون ساز اسمبلی ہو یا پھر مقامی اداروں کے انتخابات ہوں اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکتا ہے ۔ حق رائے دہی کا مطلب یہ ہے کہ ہر شہری اپنے پسند کے امیدوار کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرسکتا ہے ۔ ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکشن کمشنر وی ناگی ریڈی نے جی ایچ ایم سی کے انتخابات کا اعلان کردیا جس کی رائے دہی 2 فروری 2016 کو منعقد ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی انتخابی شیڈول جاری کردیا ۔ پرچہ نامزدگی کے ادخال کا آغاز 12 تا 17 جنوری ہوگا ۔ امیدوار اپنے پرچہ نامزدگی 11 بجے تا 3 بجے دن کے درمیان داخل کرسکتے ہیں ۔ پرچہ نامزدگیوں کی تنقیح 18 جنوری کو شروع ہوگی ۔ پرچہ نامزدگی سے دستبرداری کی آخری تاریخ 21 جنوری 2016 کو سہ پہر 3 بجے تک رہے گی ۔ اس کے بعد ریاستی الیکشن کمیشن قطعی امیدواروں کی فہرست جاری کردے گا ۔ 5 فروری کو ووٹوں کی گنتی ہوگی ۔ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات پہلی بار منعقد ہورہے ہیں ۔ حال ہی میں حیدرآباد ہائیکورٹ نے انتخابات کے عمل کی مدت کو 28 دنوں سے گھٹا کر 15 دن کردینے والے تنازغہ جی او کو معطل کردیا اور سابقہ طریقہ کار کے مطابق 21 یا 28 دن میں انتخابی عمل مکمل کرنے ریاستی الیکشن کمیشن کو ہدایت دی ہے ۔ اس فیصلے پر سیاسی جماعتوں نے راحت کی سانس لی ہے  جس دن سے انتخابات کی تواریخ کا اعلان ہوگا اس دن سے الیکشن کمیشن انتخابات کے تمام امور براہ راست اپنی تحویل میں لے لے گا ۔ اس پر انتخابات کے انعقاد انتخابات کی دوبارہ پولنگ ، ووٹوں کی گنتی اور نتائج کے اعلان تک پہنچے گا ۔ دستور ہند کے تحت الیکشن کمیشن کو جو اختیارات دئے گئے ہیں وہ اس طرح ہیں ۔ غیر جانبدار طور پر انتخابات کی ذمہ داری  ، انتخابات کی منسوخی ، دوبارہ انتخابات کے احکامات ، الکٹرانک ووٹنگ مشینس کا استعمال ، انتخابات کا التوا اس مقام پر جہاں لاء اینڈ آرڈرکے مسائل ہوں وغیرہ وغیرہ ۔
کسی بھی شہری کو چاہے وہ مرد ہو یا خاتون ایک سے زائد حلقہ انتخاب میں اپنا نام درج کرانے کی گنجائش نہیں ہے ۔ فہرست رائے دہندگان میں اگر خامیاں نظر آئیں تو ان کو درست کرنے کی گنجائش ہے جو متعلقہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر سے مل کر اس قسم کی اصلاح کی جاسکتی ہے  ۔الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کو چاہئے کہ ان افراد کو جن کے نام فہرست رائے دہندگان سے نکال دئے گئے ہوں یا نکال دیئے جانے والے ہوں اس بنا پر کہ وہ اپنے حلقہ انتخاب میں سکونت پذیر نہیں ہیں ایسے افراد اپنا نام بحیثیت رائے دہندہ لکھوانے کے اہل ہیں ۔ ان کو مناسب موقع دیں۔
رائے دہندہ کو یہ اختیار ہے کہ وہ اپنا نام فہرست رائے دہندگان میں شامل کروانے یا ضروری اصلاح یا تنقیح کروالے جو کسی بھی حلقہ انتخاب میں واقع ہو ۔ انتخابات حسب معمول اور ٹھیک ڈھنگ سے منعقد کرنا ہو تو ہمیں اس بات کا یقین ہونا چاہئے کہ اس میں کسی قسم کی بدعنوانی یا رکاوٹیں نہیں ہیں ۔ اس کے لئے شہریوں کا تعاون ضروری ہے ۔ کسی رائے دہندے کو آزادانہ حق رائے دہی کے استعمال سے روکنا یا منع کرنا یا رکاوٹ ان بدعنوانیوں کا اہم پہلو ہے ۔ اگر کوئی امیدوار یا اس کا ایجنٹ یاکوئی اور شخص ان کی اجازت سے کسی رائے دہندہ سے پوچھتا ہے کہ وہ ووٹ مذہب ،ذات پات ، نسل  ،سماج یا زبان کے اساس پر کرے اور اگر کوئی شخص انتخابات سے جڑ کر لوگوں کو اکسانا یا مذہب ، نسل ، سماج و زبان کی بنیاد پر مختلف لوگوں کو اکسائے وہ سزا کا مستحق ہے ۔
مرکز رائے دہی میں صرف رائے دہندے ہی اپنا ووٹ دینے کے لئے داخل ہوں گے ۔ پہلے ہم ووٹ ڈالنے کے لئے بیالٹ پیپر استعمال کرتے تھے ۔ اب ہم الیکٹرانک ووٹنگ مشین EVM کو استعمال کررہے ہیں ۔ EVM کے دو حصے ہوتے ہیں ایک کنٹرول یونٹ اور دوسرا بیالٹ یونٹ ، کنٹرول یونٹ پر پریسائیڈنگ آفیسر ووٹ ڈالنے میں سہولت دینے کے لئے کنٹرول کرتا ہے ۔ کنٹرول یونٹ کو بیالٹ سے جوڑا جائے گا  ۔بیالٹنگ یونٹ ’’گوشہ رائے دہی‘‘ میں رہے گا ۔ رائے دہندہ کو گوشہ رائے دہی میں رکھے گئے بیالٹ یونٹ پر اپنا ووٹ ڈالنا ہوگا ۔
سیاسی جماعتوں کو بھی یہ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ اب ہر شہری اپنے اپنے علاقے کی ترقی چاہتا ہے ۔ وہ عوام کی اس خواہش کو ملحوظ رکھتے ہوئے امیدواروں کا انتخاب کریں ۔ ہماری سیاسی جماعتوں کی یہ عادت ہوگئی ہے کہ وہ غیر کارکرد کارکنوں کو اپنا امیدوار بنا کر عوام پر تھوپتے ہیں ۔ بزرگوں کا قول ہے کہ مسلسل چوکسی جمہوریت کی قیمت ہے ۔ جمہوریت کوئی ایسی عمارت نہیں ہے جس کی صرف قوانین اور مجموعہ تعزیرات سے حفاظت کی جاسکے ۔ ملک کے تمام شہری جمہوریت کا حصہ دار بنیں۔ رائے دہندہ کو چاہئے کہ وہ اعلی عہدیداروں سے اتنا ہی تعاون کرے جتنا وہ اپنی رائے کو آزادانہ بغیر خوف و خطر اور غیر جانبدارانہ استعمال کرتا ہے ۔ گاندھی جی نے کہا تھا کہ جمہوریت سے بڑھ کر کوئی طاقت نہیں ہے جو علم اور نظم و ضبط سے حاصل ہوتی ہے ۔ اگر جمہوریت کو تقویت دینا ہو تو ہر شہری کو نظم و ضبط کا پابند ہو کر اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو انجام دینا ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT