Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / جی ایچ ایم سی انتخابات سے قبل ہاکرس کیلئے نئی پالیسی کا اعلان متوقع

جی ایچ ایم سی انتخابات سے قبل ہاکرس کیلئے نئی پالیسی کا اعلان متوقع

ماضی میں سیاسی پارٹیوں کے وعدے وفا نہ ہوسکے، تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت کی مساعی
حیدرآباد 27 ڈسمبر (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے شہر حیدرآباد بالخصوص بلدی حدود میں ہاکرس کے متعلق نئی پالیسی کا اعلان متوقع ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے فٹ پاتھ پر تجارت کرنے والے چھوٹے تاجرین اور ٹھیلہ بنڈی رانوں کے لئے علیحدہ بازآبادکاری پالیسی پر غور کیا جارہا ہے اور توقع ہے کہ جی ایچ ایم سی مجوزہ انتخابات سے قبل حکومت کی جانب سے اِس پالیسی کا اعلان کیا جائے گا۔ سابق میں مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ٹھیلہ بنڈی رانوں اور چھوٹے تاجرین کی فلاح و بہبود کے متعلق متعدد وعدے کئے تھے لیکن کسی بھی منصوبہ کو قابل عمل نہیں بنایا جاسکا بلکہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد اس طبقہ کو ہمیشہ ہی نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اس مرتبہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ٹھیلہ بنڈی رانوں کے متعلق پالیسی کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ اُسے قابل عمل بنانے کے بھی منصوبے کو پیش کئے جانے کا امکان ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب آئندہ دو یوم کے دوران چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں حکومت کی جانب سے تیار کردہ ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کریں گے اور اِن اعلانات میں ٹھیلہ بنڈی رانوں کے علاوہ فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے والے چھوٹے تاجرین کے لئے بھی اعلانات کئے جانے کا امکان ہے۔ سال گزشتہ مرکزی حکومت کی جانب سے ہاکرس پالیسی مدون کئے جانے کے بعد بھی اُسے قابل عمل بنانے کے کوئی اقدامات نہیں ہوپائے تھے اور اب حکومت تلنگانہ حیدرآباد میں اِس سلسلہ میں واضح پالیسی روشناس کرواتے ہوئے اِس طبقہ کو راحت فراہم کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں متعلقہ محکمہ جات بالخصوص بلدی عہدیداروں اور ٹریفک ماہرین سے تجاویز بھی طلب کی گئی ہیں۔ چند برس قبل مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شہر حیدرآباد کی اہم شاہراہوں کو ٹریفک کے اعتبار سے تین الگ الگ زمروں میں منقسم کرتے ہوئے ریڈ، عنبر اور گرین زون بنایا گیا تھا لیکن اس پر بھی مؤثر عمل آوری نہیں ہوپائی۔ ذرائع کے بموجب اِسی طرز کا نیا منصوبہ حکومت کی جانب سے پیش کئے جانے کا امکان ہے تاکہ ٹھیلہ بنڈی رانوں اور چھوٹے تاجرین کو ہراسانی سے بچایا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT